قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 7 حلقوں میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہو گیا۔
صبح پولنگ کا آغاز سست روی سے ہوا، بیشتر مقامات پر ووٹ ڈالنے والوں کی بہت کم تعداد پولنگ اسٹیشنز پر پہنچی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پولنگ کی رفتار میں کچھ بہتری آئی اور ووٹر پولنگ اسٹیشنز پر پہنچے۔
این اے 18 ہری پور، این اے 129 لاہور، این اے 143 ساہیوال، این اے 185 ڈیرہ غازی خان، این اے 96 فیصل آباد اور این اے 104 فیصل آباد پر ضمنی انتخاب ہوا ہے۔
پنجاب اسمبلی کے حلقوں پی پی 98، 115 اور 116 فیصل آباد جبکہ پی پی 73 سرگودھا، پی پی 87 میانوالی، پی پی 203 ساہیوال اور پی پی 269 مظفرگڑھ میں بھی ضمنی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔
جڑانوالہ میں این اے 96 میں ضمنی انتخاب کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سامنے آئی ہے، مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کی ووٹ کاسٹ کرنے کی ویڈیوز منظرِ عام پر آ گئیں۔
موبائل فون سے ویڈیو بنانے پر صوبائی الیکشن کمشنر نے عملے کو ہدایت کی ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر تعینات سیکیورٹی اہلکار کسی بھی ووٹر کو پولنگ اسٹیشن میں موبائل فون نہ لے جانے دیں۔
صوبائی الیکشن کمشنر نے کہا ہے کہ پولنگ اسٹیشن پر موجود تمام عملہ ووٹ کی رازداری کو یقینی بنائے۔
پی پی 98 چک جھمرہ فیصل آباد میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے، پولنگ اسٹیشن نمبر 68 میں خواتین کا ایک بھی ووٹ کاسٹ نہیں ہوا۔
صوبائی حلقے پی پی 269 گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کرم داد پولنگ اسٹیشن میں بدنظمی کا واقعہ سامنے آیا۔
پیپلز پارٹی کے امیدوار اور آزاد امیدوار کے حامی پولنگ اسٹیشن کے باہر جمع ہو گئے جہاں ان کی پولیس سے تلخ کلامی ہوئی۔
دونوں امیدواروں کے حامیوں نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات لگائے، اس موقع پر پولیس اور ایلیٹ فورس کی نفری پہنچ گئی جس نے صورتِ حال پر قابو پایا۔
فیصل آباد کے حلقے این اے 104 میں معذور میاں بیوی نے ووٹ کاسٹ کیا۔
دونوں میاں بیوی محلے دار کی مدد سے پولنگ اسٹیشن پہنچے، میاں نے پولنگ اسٹیشن نمبر 159 اور بیوی نے پولنگ اسٹیشن نمبر 160 پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ترجمان الیکشن کمشنر پنجاب نے بتایا تھا کہ صوبے کے 12 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
انہوں نے ہدایت کی تھی کہ متعلقہ حلقوں کے ووٹرز بلا خوف و خطر پولنگ اسٹیشنز پر آئیں اور اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔
صوبائی وزیرِ قانون پنجاب رانا محمد اقبال خان کا بھی کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی تھی کہ سیکیورٹی اداروں سے بھرپور تعاون کریں،
صوبائی وزیرِ قانون پنجاب نے بتایا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر و باہر اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔
این اے 18 ہری پور میں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز، ن لیگ کے بابر نواز خان اور پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ میں سخت مقابلہ ہوا، یہ نشست پی ٹی آئی کے عمر ایوب کی 9 مئی کیس میں سزا اور نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی۔
این اے 96 فیصل آباد میں ن لیگ کے بلال چوہدری کا آزاد امیدوار نواب شیر سے بڑا مقابلہ ہوا جبکہ فیصل آباد ہی کے حلقے این اے 104 میں ن لیگ کے راجہ دانیال اور 4 آزاد امیدوار میدان میں اترے تھے، یہ نشست حامد رضا کی 9 مئی کیس میں سزا اور نااہلی پر خالی ہوئی تھی۔
زرتاج گل کی نااہلی سے خالی این اے 185 ڈیرہ غازی خان کی نشست پر ن لیگ کے محمود قادر لغاری اور پیپلز پارٹی کے سردار دوست محمد کھوسہ میں کڑا مقابلہ ہوا۔
عام انتخابات میں این اے 129 لاہور میں میاں محمد نعمان نے آج پھر قسمت آزمائی، ان کا مقابلہ حماد اظہر کے بھانجے ارسلان احمد سے ہوا، یہ نشست میاں اظہر کی وفات پر خالی ہوئی تھی۔
ضمنی انتخاب میں 2 ہزار 792 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 408 کو انتہائی حساس اور ایک ہزار 32 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔
انتخابات میں سیکیورٹی کے لیے سول آرمڈ فورسز اور پاک فوج کی تعیناتی کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا، سیکیورٹی کے لیے 20 ہزار سے زائد افسران اور اہل کار تعینات کیے گئے۔
کئی مقامات پر امن و امان یقینی بنانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔
آئی جی پنجاب نے الیکشن کمیشن کے ضابطۂ اخلاق، دفعہ 144 اور اسلحے کی پابندی کی خلاف ورزی پر زیرو ٹالرنس کا اعلان کیا تھا۔