صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت اور وحشیانہ طاقت کے ذریعے قائم افغانستان کی غیر قانونی حکومت اپنی ذمے داریوں سے مسلسل مکر رہی ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغانستان نے دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا، اب وہ اسلامی دنیا کی ایک بڑی عسکری طاقت کو اشتعال دلانےکی جسارت بھی کر رہا ہے، افغان دہشت گرد حکومت ہمارے دوست ممالک کے ساتھ مذاکرات کی خواہاں ہے۔
صدرِ مملکت کا کہنا ہے کہ دوسری جانب افغانستان نے شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر کے ایک سرخ لکیر عبور کر لی ہے، پاکستان خلیج کے خطےاور مغربی ایشیاء میں امن و استحکام کے فروغ کی کوششوں میں مصروف ہے، غیر قانونی، دہشت گرد طالبان حکومت نے یہ سرخ لکیر عبور کر کے اپنے اوپر سنگین نتائج مسلط کر لیے ہیں۔
صدرِ مملکت نے ڈرون کے ملبے سے زخمی بچوں اور دیگر شہریوں کی جَلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے ملک کے دفاع اور عوام کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔