• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمہوریت ایک ایسا خوش رنگ مترنم آواز والا نایاب پرندہ ہے جو براعظم یورپ کے سرد اور گنجان آباد علاقوں میں پایا جاتا ہے شمالی امریکہ میں بھی موسم اور آب و ہوا اس کو بہت راس آتی ہے بھیڑ بکریوں کے براعظم آسٹریلیا میں بھی بکثرت نظر آتا ہے۔جنوب مشرقی ایشیا کے بھارت دیس میں بھی گزشتہ 78سال سے اپنا گھونسلہ بنا چکا ہے۔ براعظم افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کے شکاری اس کو یورپ اور امریکہ سے پکڑ کر لاتے ہیں لیکن جبر اور ظلم کی خشک اور گرم آب و ہوا میں اس کی صحت شدید متاثر ہوتی ہے بعض ملکوں میں اس کے لئے سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے جس کے باعث اس کو دمہ کا عارضہ ہو جاتا ہے بعض ملکوں کی آب و ہوا میں کچھ اس قسم کی زہریلی گیسیں شامل ہوتی ہیں کہ اس کے ہونٹ ہلتے تو نظر آتے ہیں لیکن آواز غائب ہو جاتی ہے اور یہ گونگا ہو جاتا ہے........

اسی جمہوریت نامی پرندے کے بارے میں ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ امریکی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ایران میں جمہوریت کی جلد بحالی کے لئے پوری کوشش کر رہا ہے امریکی حکومت نے ایران کی حکومت کو جمہوریت کے لئے جلد اور قابل یقین ٹائم ٹیبل دینے پر زور دیا ہےـ خدا جانے اس جمہوریت نامی پرندے میں ایسی کون سی خوبیاں ، خاصیت اور خصوصیات ہیں کہ اس سے قبل ایسا ہی مطالبہ یورپی یونین کی جنرل افیئر کونسل بھی کر چکی ہیں ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن نے جمہوریت کو جلد از جلد لاگو کرنے کی یاد دہانی کرائی ہے- ہو نہ ہو اس جمہوریت نامی خوش شکل و خوش گلو پرندے میں ضرور ایسی خوبیاں ہیں جس کی وجہ سے ہر معتبر دانشور اور سیاست دان اس کو پالنے کے لئے اصرار کر رہا ہے۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ مختلف آب و ہوا میں رہنے والے دانشوروں ،ادیبوں فنکاروں اور سیاست دانوں نے اس پرندے کے بارے میں کن خیالات کا اظہار کیا ہے اور یہ کہ وہ اس کے تحفظ اور احترام کے لئے کیوں اتنا شور شرابہ مچا رہے ہیں ۔ـ ذیل میں آپ کو پڑھنے کے لئے وہ باتیں ملیں گی جو سوچی گئی ہیں ۔

برطانوی مفکر جارج برنارڈ شا کہتا ہے جمہوریت چند کرپٹ لوگوں کی نامزدگی کے بجائے بہت سے نا اہل لوگوں کے حق رائے دہی کا نام ہے۔ ہیری ایمرسن کے خیال میں جمہوریت اس عقیدے پر مبنی ہے کہ عام آدمی میں بھی بے پناہ امکانات موجود ہوتے ہیں۔ عظیم یونانی مفکر ارسطو جمہوریت کے دفاع میں یوں رقمطراز ہے۔ ’’جمہوریت انسانوں کی اس سوچ سے ابھری ہے کہ اگر وہ کسی بھی حوالے یا اعتبار سے مساوی ہیں تو پھر وہ مکمل طور پر مساوی ہیں ‘‘ تھامس جیفرسن کہتا ہے وہ حکومت اچھی طرح نہیں چل سکتی جس پر کنٹرول عوام کا نہ ہو۔ ادیب آسکر وائلڈ کا خیال ہے کہ جمہوریت کا مطلب محض عوام کے ہاتھوں ۔عوام کے لیے۔

عوام کا سر پھوڑنا ہے ۔جی ،کے چیڑسن کہتا ہے۔ "انقلاب اس لیے نہیں لایا جا سکتا کہ جمہوری نظام قائم کرنا ہے بلکہ جمہوریت لانا اس لیے ضروری ہے کہ انقلاب برپا کیا جا سکے"ــ گروور کلیولینڈ ایک ادیب دانشور تھا اس کا کہنا ہے کہ "جمہوریت کا جہاز جس نے ہر طوفان کا مقابلہ کر لیا ہو ان لوگوں کی بغاوت سے ڈوب سکتا ہے جو خود جہاز پر سوار ہیں"ـ عدمِ تشدد کا پیروکار گاندھی کہتا ہے" جمہوریت کے بارے میں میرا نظریہ یہ ہے کہ کمزور کو بھی اتنے ہی مواقع حاصل ہوں جتنے طاقتور کو اور یہ عدمِ تشدد کے بغیر ممکن نہیں"ـ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں 19 شعر جمہوریت کے خلاف لکھے ہیں ،وکٹر ہیو گو سے ہم سب واقف ہیں اس کی رائے میں جمہوری ریاست کا دوسرا نام تہذیب کی آب و ہوا ہے بہت بڑے فلسفی ادیب اور سیاستدان برٹرینڈرسل نے جمہوریت کے بارے میں ایک چھوٹا سا معنی خیز جملہ کہا ہے کہ رشک جمہوریت کی بنیاد ہے۔ یہی فلسفی ایک اور جگہ کہتا ہے کہ اگر ایک آدمی آپ کو جمہوریت پیش کرتا ہے اور دوسرا اناج کی ایک بوری تو فاقہ کشی کے کسی مرحلے پر آپ اناج کو ووٹ پر ترجیح دیں گے۔

ہنری ملر کے الفاظ میں اندھا۔ اندھے کو راستہ دکھاتا ہے یہ ہی جمہوری طریقہ ہے ۔فلاسفر دانتے جمہوری سوچ رکھنے والوں سے کہتا ہے چیخنے چلانے والوں کی پروا کیے بغیر اپنی راہ پر آگے بڑھتے رہو۔ جارج برنارڈ شا ایک اور جگہ یوں لکھتا ہے۔ آزادی کے معنی ذمہ داری ہے اسی لیے زیادہ تر لوگ اس سے گھبراتے ہیں۔ لرننڈ ہینڈ کی رائے میں۔ سر گننے کا طریقہ اگرچہ حکومت کرنے کا کوئی مثالی طریقہ نہیں تا ہم یہ سر پھوڑنے کے طریقے سے بہتر ہے۔ عظیم سائنسدان آئن اسٹائن اپنے ایک آرٹیکل میں لکھتا ہے صرف قوانین ہی آزادی اظہار کی ضمانت نہیں ہوتے سزا کے خوف کے بغیر انسان صرف اسی صورت میں اپنی رائے کا اظہار کر سکتا ہے جبکہ معاشرے میں برداشت کا مادہ موجود ہو۔ اور آخر پہ پیپلز پارٹی کی سربراہ اور ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر (مرحومہ) کی رائے جاننا بھی ضروری ہے ’’آمروں سے سب سے بڑا انتقام خود جمہوریت ہے‘‘۔ـــ

تازہ ترین