پاکستان آئیڈل کے ٹاپ 16میں شامل لاہور کی رومیسہ طارق نے کہا ہے کہ پاکستان آئیڈل نے زندگی یکسر تبدیل کر دی ہے، لوگ اَب ہر جگہ مجھے پہچاننے لگے ہیں، میں نے میوزک نہیں سیکھا بلکہ مجھے گانے سن کر بہن نے مشورہ دیا کہ مزید گاتی رہو۔
جیو اور جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے رومیسہ طارق کا کہنا ہے کہ میری پرفارمنس کے دوران گایا گیا گیت’ لونگ گواچا‘ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس نے مجھے ملک بھر میں مقبول بنا دیا۔
رومیسہ طارق نے یونیورسٹی آف لندن سے بزنس میں گریجویشن کر رکھی ہے، انہوں نے مزید بتایا کہ میں دوستوں کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی جب معلوم ہوا کہ میری گائیکی وائرل ہو چکی ہے۔
فارغ اوقات میں رومیسہ گٹار بجا کر پریکٹس کرتی ہیں، گلوکاری کے ساتھ وہ ایک کامیاب سوشل میڈیا انفلوئنسر بھی ہیں، دوستوں کے ساتھ ویڈیوز بنانا اور باہر کھانا کھانا اُن کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔
رومیسہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ ہمارا تعلق پٹھان فیملی سے ہے جہاں گانا گانا معیوب سمجھا جاتا ہے، لیکن میں بیٹی کے خوابوں کے راستے میں کسی رکاوٹ کو نہیں آنے دوں گی۔
رومیسہ طارق نے کہا کہ بیک اسٹیج تمام اُمیدوار ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ماحول دوستانہ ہے، آنے والے راؤنڈز میں کامیابی کے لیے انہوں نے ووٹنگ کی ذمے داری دوستوں کی ایک طویل فہرست کو سونپ دی ہے اور وہ سخت مقابلے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔