راولپنڈی (نیوز ایجنسیاں) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ طالبان رجیم کا یہ دعویٰ کہ کالعدم TTP کے لوگ پاکستان سے ہجرت کرکے آئے ہیں، اگر وہ پاکستانی ہیں تو انہیں ہمارے حوالے کریں، یہ کیسے مہمان ہیں جو مسلح ہو کر پاکستان آتے ہیں اور دہشت گردی کرتے ہیں، سرحدی علاقوں میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ، افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کیلئے خطرہ بن چکی، افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز اور دہشت گرد قیادت موجود، طالبان سہولت کاری بند کریں،نان کسٹم پیڈ گاڑیاں خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، صوبوں میں گھوم رہی ہوں تو انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے،پاک افغان تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے، خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے، بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے، 7 جہازوں کی تباہی، اسلحہ ڈپو، دفاعی نظام ایس 400 کا خاتمہ ان کیلئے ہارر مووی بن چکا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر مزید تفصیلات سامنے آئی ہے جسکے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف 4 ہزار 910 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ رواں سال خیبر پختونخوا میں 12 ہزار 857 اور بلوچستان میں 53 ہزار 309 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ ان آپریشنز کے دوران 206 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔ پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈر پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کیلئے کثیر وسائل درکار ہونگے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے مراکز اور القاعدہ، داعش اور دہشت گرد تنظیموں کی قیادت موجود ہے، افغانستان سے انہیں اسلحہ اور فنڈنگ بھی ملتی ہے جو پاکستان کیخلاف استعمال ہوتی ہے، ہم نے افغانستان کے سامنے تمام ثبوت رکھے جنہیں وہ نظرانداز نہیں کرسکتے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کا افغان طالبان رجیم سے مطالبہ ہے کہ وہ ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں، اگر قابلِ تصدیق میکنزم تھرڈ پارٹی نے رکھنا ہے تو پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا، پاکستان کے اس مو قف کی مکمل آگاہی ثالث ممالک کو بھی ہے۔