• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں ڈان اخبار نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے کوئی رپورٹ شائع کر دی، غلطی مدیر سے یہ ہوئی کہ آخر میں وہ سطر حذف کرنا بھول گیا جس میں اے آئی کسی چوکس اور تابعدار ملازم کی طرح پوچھتا ہے کہ اور کوئی خدمت میرے لائق! پھر کیا تھا، پورے ملک میں گویا میمز کا طوفان برپا ہو گیا، ڈان کا ایسا ’توا‘ لگایا گیا کہ اخبار نے نہ صرف معافی مانگی بلکہ یہ بھی کہا کہ ہم تحقیق کریں گے اور مجرم کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ یقیناً اِن تحقیقات کے نتیجے میں کسی غریب صحافی کی نوکری چلی گئی ہوگی۔ میرے خیال میں یہ ناکافی ہے، اخبار کو چاہیے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کرے اور کھوج لگائے کہ اُن کے ادارے میں کون کون سا بندہ کمپیوٹر استعمال کرتا ہے، کیلکولیٹر کی مدد سے جمع تفریق کرتا ہے اور موبائل فون کی مدد سے دنیا جہان کے کام نمٹاتا ہے۔ اِس سے بھی بات نہ بنے تو ایک جنرل قسم کا حکم نامہ جاری کر دے کہ آج کے بعد اگر ادارے کا کوئی ملازم کسی سائنسی ایجاد سے استفادہ کرتا ہوا پایا گیا تو اُسے سو کوڑے مارے جائیں گے اور بعد ازاں کالا پانی بھیج دیا جائے گا۔ تاہم اِس حکم نامے کو جاری کرنے میں مصیبت یہ ہے کہ اِس کے لیے بھی کمپیوٹر ہی کی مدد درکار ہوگی، مائیکروسافٹ آفس پر یہ ٹائپ ہوگا اور پھر تمام لوگوں کو یہ نادر شاہی حکم ای میل کیا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اخبار کے رپورٹر سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہو گیا جو اِس سے پہلے کسی سے نہیں ہوا، ماسوائے یہ کہ وہ غریب اے آئی کا ’پرامپٹ‘ حذف کرنا بھول گیا! کیا ہم سب کمپیوٹر استعمال نہیں کرتے، اٹھتے بیٹھتے گوگل سے مدد نہیں لیتے، موبائل فون کی ایپس سے زندگی کا کاروبار نہیں چلاتے، بلکہ اب تو ہمارا حال یہ ہے کہ اپنے گھر جاتے وقت بھی گاڑی میں نقشہ کھول لیتے ہیں۔ سو سال تک مولوی صاحبان فتویٰ دیتے رہے کہ تصویر حرام اور لاؤڈ اسپیکر کا استعمال ناجائز ہے اور ہم پڑھے لکھے لوگ مذاق اڑاتے رہے کہ یہ ہمیں پتھرکے دور میں واپس دھکیلنا چاہتے ہیں۔ کیا اب ہم لوگ اے آئی کیخلاف فتویٰ نہیں دے رہے؟ ہاں، وہ بات ہم جانتے ہیں کہ جس تخلیق پر ہمارا دعویٰ ہو یا جس تحریر کے نیچے ہمارا نام لکھا ہو، اُس میں مصنوعی ذہانت کی ملاوٹ نہیں ہونی چاہیے، مثلاً اگر یہ کالم میرے نام سے شائع ہوتا ہے تو اِسے اے آئی کی مدد سے نہیں لکھنا چاہیے، یا صادقین خطاطی کرتے ہیں یا شکیرا کوئی گانا بناتی ہے اور اُسے اپنے نام سے جاری کرتی ہے تو ہم یہی سمجھیں گے کہ یہ اصل اور خالص ہے اور اِس میں اے آئی کا کوئی کمال نہیں۔ مگر روز مرہ کی اخباری رپورٹیں، سرکاری دستاویزات میں لکھی جانیوالی انگریزی، کاروباری مراسلے اور اِس نوعیت کے دیگر کام جن کے حقوقِ دانش پر نہ کسی کی ملکیت ہے اور نہ اُنکا کوئی والی وارث ہے، اُنکی نوک پلک سنوارنے میں اگر مصنوعی ذہانت سے کام لے لیا جائے تو نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ کام چور اور نالائق قسم کے ملازمین سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔

لیکن یہ بات یہاں رکنے والی نہیں۔ آج کل انڈین فلم سیارہ کا بہت چرچا ہے، اُس کا ایک گانا تو بے حد ہی عمدہ ہے کہ سیارہ تو تو بدلا نہیں ہے موسم ذرا سا روٹھا ہوا ہے۔ ایک صبح میں یہ گانا سن رہا تھا کہ یوٹیوب نے میری پسند کو مدنظر رکھ کر اگلا گانا بھی یہی چلا دیا مگر کشور کمار کی آواز میں۔ اور اُس آواز میں ایسا جادو تھا کہ اگلے کئی روز تک میں وہی سنتا رہا اور دوستوں کو بھی بتاتا رہا کہ اصل گانا تو پرانی فلم کا ہے جو نئی فلم نے چرایا ہے۔ لیکن باوجود کوشش کے میں وہ پرانی فلم تلاش نہ کر پایا، مزید تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ کشور کی آواز میں ایسا کوئی گانا نہیں، کسی منچلے نے اے آئی کی مدد سے یہ گانا کشور کی آواز میں ڈھالا ہے۔ اور اگر سچ پوچھیں تو مصنوعی کشور کا گانا اصل سے زیادہ بہتر ہے، ،مگر سوال یہ ہے کہ کیا اِسکی اجازت ہونی چاہیے؟ یہ سوال ہی غلط ہے، دنیا میں ایسا کوئی طریقہ نہیں جو اب اِس کام کو روک سکے، یہ فیصلہ صرف لوگ کرینگے کہ انہوں نے مصنوعی اور خالص میں سے کس کا انتخاب کرنا ہے۔ اے آئی کی مدد سے فلمیں بنیں گی جن میں پرانے اداکار، جو اب وفات پا چکے ہیں، انہیں نئے اداکاروں کے مدمقابل لایا جائے گا، یہ ایک اچھوتا تجربہ ہوگا۔ آج سے کچھ سال پہلے تک فلمیں اصل اور سچ مچ کی جگہوں پر بنائی جاتی تھیں، مگر اب یار لوگ تردد نہیں کرتے بلکہ ٹیکنالوجی کی مدد سے جعلی پہاڑ، ندی، نالے، دریا، ہوائی اڈے، ریلوے اسٹیشن اور قلعے ’تعمیر‘ کرکے ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے حقیقتاً وہ ہیرو کو کےٹو کی چوٹی پر لے کر گئے ہوں۔ اگلے روز میں نے ٹائی ٹینک فلم کی پسِ پردہ شوٹنگ کی ایک ویڈیو دیکھی، جسے دیکھ کر میرا سارا رومانس ہی کِرکِرا ہو گیا۔ نہ کوئی سمندر نہ کوئی جہاز، سب نظر کا دھوکا اور کیمرے کا کمال۔ ظاہر ہے کہ فلم ایسے ہی بنتی ہے نہ کہ انہوں نے سچ مچ جیک کو ڈبو دینا تھا اور روز کو برف کے تختے پر تمام رات بٹھا کے رکھنا تھا۔ سو، اگر ہم اِن فلموں کو پسند کرتے ہیں تو اے آئی سے بنی فلموں کو پسند کرنیوالے بھی کروڑوں لوگ ہونگے، بات کہاں جا کر رکےگی؟یہ بات کہیں نہیں رکے گی۔ اے آئی ایپس نے اب گرل فرینڈز بنانی شروع کر دی ہیں جو نہ کوئی نخرہ کرتی ہیں اور نہ بلاوجہ جھگڑا۔ اِنکا موڈ بھی خراب نہیں ہوتا اور تابعدار ایسی کہ جو حکم دیں بجا لاتی ہیں۔ لیکن بہرحال وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ مگر ابھی تو ابتدا ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جس طرح دودھ کی بوتلوں پر لکھا ہوتا ہے کہ یہ بھینس کا خالص دودھ ہے یا مٹھائی کی دکان کے باہر لکھا ہوتا ہے کہ خالص دیسی گھی سے تیار شدہ، اسی طرح وہ وقت بھی آئیگا جب ڈراموں، فلموں اور گانوں کے بارے میں لکھا ہوگا کہ انہیں اے آئی نے نہیں بلکہ خالص انسان نے تخلیق کیا ہے، دیکھیے اور سر دھُنیے۔

تفنن برطرف، ہم ایک خطرناک دور میں داخل ہو رہے ہیں، یہ ایک ایسا دور ہے جس کیلئے دنیا کو نئے قواعد و ضوابط بنانے پڑیں گے، پرانےقانون اب کام نہیں دینگے، اور نئے قوانین پر عمل کروانا مشکل ہو گا۔ مصنوعی ذہانت ابھی ہماری گود میں ہے اور انگوٹھا چوس رہی ہے، چودہ طبق اُس وقت روشن ہونگے جب یہ جوان ہو گی۔ دیکھتے ہیں اِس کی جوانی کیا غضب ڈھاتی ہے!

تازہ ترین