بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر روہتک میں خاتون کو ہراسانی سے بچانے پر بین الاقوامی ایتھلیٹ روہت کو قتل کر دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہریانہ کے شہر روہتک میں ایک بین الاقوامی پیرا ویٹ لفٹنگ ایتھلیٹ روہت کو شادی کی تقریب میں مبینہ جنسی ہراسانی پر احتجاج کرنے پر جمعے کی رات قتل کر دیا گیا۔
ایتھلیٹ پر تقریب میں آنے والے تقریباً 10 مہمانوں نے ہتھیاروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا، زخمی ایتھلیٹ کو ابتدائی طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن وہ علاج کے دوران دم توڑ گئے۔
واقعہ بھوانی گاؤں، روہتک میں پیش آیا، جہاں روہت اپنی دوست جتن کے رشتے دار کی شادی میں شرکت کرنے آئے تھے۔
ذرائع کے مطابق شادی کی تقریب کے دوران ایک شخص راہول نشے کی حالت میں خواتین پر قابلِ اعتراض الفاظ کہنے لگا، روہت نے اس کی مخالفت کی، جس پر ابتدائی جھگڑا ہوا، لیکن مہمانوں نے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔
واپسی کے دوران راہول اور اس کے ساتھیوں نے روہت کی گاڑی روک کر ڈنڈوں اور لوہے کی راڈوں سے اس پر حملہ کر دیا۔
روہت کے سسر روی کھسا اور دوست جتن جو واقعے کے عینی شاہد تھے، انہوں نے بتایا کہ تقریباً 18 سے 20 افراد نے مل کر روہت پر حملہ کیا۔
حملے کے فوراً بعد پولیس کو اطلاع دی گئی اور روہت کو ابتدائی طور پر مقامی اسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ جان کی بازی ہار گئے۔
پولیس نے واقعے کے بعد مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق جھگڑا سیلفی لینے کے تنازع پر ہوا، جس کے بعد کئی نوجوانوں نے روہت اور اس کے دوست پر حملہ کیا۔