• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آٹھ جنگیں رکوانے کی صورت میں لاکھوں بے گناہ انسانی جانوں کا زیاں روکنے کے دعوے ، غزہ کی پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر رہنے والے فلسطینیوں کے تحفظ جان ومال اور انسانی حقوق کی پاسداری یقینی بنانے کے عزائم ان قوتوںکو پسند نہیں آئے جو زمین پر فساد پھیلانے ، انسانی حقوق پامال کرنے اور خون خرابے میں اپنا مفاد دیکھتی ہیں۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحلی مقام پر اپنا مذہبی تہوار ’’حنوکا‘‘ منانےکیلئے جمع ہونیوالےراسخ العقیدہ یہودیوں کو اتوار14دسمبر کی شام دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے منصوبہ سازوں نے بڑی باریک بینی سے اس واردات کا نقشہ تیار کیا۔’’ہاردی یہود‘‘ کہلانےوالے جس گروپ کو نشانہ بنایاگیا اسکے زیادہ تر لوگ مذہبی عبادات پر زور دیتے اور سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہیں مگر غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارے پر رہنے والے فلسطینیوں پر صہیونیوں کے ظالمانہ افعال کیخلاف دنیا بھر میں کئے گئے مظاہروں میں اس سے تعلق رکھنے والے افرادشریک ہوتے رہے ہیں۔ مذکورہ گروپ یا فرقے کے لوگوں پر دہشت گردانہ حملے کیلئے مسلمان باپ ساجد اکرم اور مسلمان بیٹے نوید اکرم کا بطور ہتھیار انتخاب اس لئے کیا گیا کہ ایک طرف یہ تاثر دیا جائے کہ مسلمان یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں، دوسری طرف فلسطینی مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کرنیوالوں کو بدظن کرنے کی گنجائش نکالی گئی۔ یوں کشیدگی میں اپنا مفاد دیکھنے والے عناصر کوصدر ٹرمپ کی امن کوششوں کیخلاف رائے عامہ ہموار کرنے کا ایک راستہ فراہم کیا گیا ہے۔ اصل حقیقت، جسکی تاریخ سے گواہی ملتی ہے ،یہ ہے کہ مسلمان اپنے دین کی تعلیمات کے بموجب غیر مسلموں سے اچھے تعلقات اور حسن سلوک کو ہمیشہ اہمیت دیتے رہے ہیں۔ یہودیوں پر جب ہٹلر کے مظالم کے باعث کڑا وقت آیا تھا تو مسلمانوں نے ہی آگے بڑھ کر انہیں گلے لگایا تھا ۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ14 دسمبر کی رات جائے وقوعہ پر جو کار کھڑی ملی اس میں دیسی ساخت کے دوبم بھی موجود تھے جسکا مطلب یہ ہے کہ حملہ آور باپ بیٹے یہ امید رکھتے تھے کہ ساحل سمندر پر دئیے جلانے کے اس تہوار کے موقع پر جمع ہونیوالے یہودیوں کو بڑے پیمانے پر قتل کرکے ان بموں کے ذریعے ایسی صورت حال پیدا کرسکتے ہیں جو دھماکوں کے ذریعے پھیلی افراتفری کی صورت میں انکے فرار یا کسی جگہ چھپنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔مگر عین اس وقت جب سیمی آٹو میٹک گنوں سے مسلح حملہ آور اندھا دھندگولیاں برسا رہے تھے، ایک مسلمان پھل فروش احمدالاحمد(43سال) نے مداخلت کرکے صورتحال بدل ڈالی۔ اس نے خطرات کی پروا نہ کرتے ہوئے ایک بندوق بردار حملہ آور کو دبوچ کراسکی گن چھین لی اور اسے زمین پر گرادیا۔اس دوران دوسرے حملہ آور کو اس پر گولی چلانے کا موقع مل گیا۔ دوگولیاں لگنے سے پھل فروش احمد الاحمد زخمی ہوگیا مگر اسکی بہادری وبروقت کارروائی سینکڑوں انسانوں کی جانیں بچانے اور دہشت گردی ومنافرت کیخلاف انسانیت کو جیت دلانے کا ذریعہ بن گئی۔ آسٹریلوی وزیر اعظم انتھونی البانیز نے احمد الاحمد کو بہت سے انسانوں کی جان بچانیوالے ہیرو اور آسٹریلیا کے اتحادوحوصلے کی علامت قرار دیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہیرو کیلئے اپنی تعریف اور ’’عظیم احترام ‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہادر شخص ہے اس نے بہت سی جانیں بچائیں۔ باپ بیٹے پر مشتمل دہشت گرد ٹیم کا سینئر رکن ساجد اکرم جوابی کارروائی میں ہلاک جبکہ24سالہ نوید اکرم زخمی حالت میں گرفتاری کے بعد پولیس کی تحویل میں ہے۔آسٹریلوی پولیس اور حکومت نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے اگرچہ ابتدائی مرحلے پر دہشت گرد حملہ آوروں کی قومیت اور مذہب کے بارے میں خاموشی اختیار کی مگر بھارت وہ ملک ہے جس نے دہشتگردی کے واقعہ کی پہلی اطلاع کیساتھ ہی اپنی روایت کے مطابق زوروشور سے پاکستان کی طرف انگلیاں اٹھانا شروع کردیں ۔ اس بار اسکی ہمنوائی میںافغان میڈیا بھی پیش پیش رہا۔ یہ سلسلہ اس وقت رکا جب بھارتی پولیس نے اس بات کی تصدیق کردی کہ حملہ آور ساجد اکرم حیدر آباد دکن سے تعلق رکھتا اور بھارتی پاسپورٹ کا حامل ہے۔اس باب میں اس حقیقت کی یاد دہانی بے محل نہ ہوگی کہ دوڈھائی برس قبل یورپی یونین کے ایک ریسرچ سیل کی رپورٹ میں بتایا گیاتھا کہ مختلف ممالک میں سات ہزار سے زائد ایسی ویب سائٹس بھارت سے چلائی جارہی ہیں جو پاکستان سے متعلق خبروں کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے ردوبدل کیساتھ جاری کرتی ہیں۔ یہ کھلی حقیقت بھی دنیا کے سامنے ہے کہ بھارتی بحریہ کا ایک اہم افسر کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک چلانے کی سرگرمیوں کی بناپر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد کئی برس سے یہاں قید بھگت رہا ہے اور بھارتی دہشتگردی کے نیٹ ورک کے کینیڈا، امریکہ، یورپی ممالک تک پھیلاؤ کے اشارے بھی سکھ لیڈروں کے قتل یا قاتلانہ کوششوں کی خبروں سے نمایاں ہیں۔اس پس منظر میں، کہ ٹی ٹی پی اور داعش سے بھارت کا تعلق کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جبکہ بھارت سے آنیوالی کئی بڑھکوں میں مذکورہ تعلقات کا اشارہ بھی نمایاں رہا ہے، کیا یہ بات توجہ طلب نہیں کہ سڈنی دہشتگردی میں پاکستان کے آرمی پبلک اسکول اور جعفر ایکسپریس جیسے کئی واقعات کا عکس اور انداز کیوں نظر آرہا ہے؟کیا یہ تاثر قوی ہوتا محسوس نہیں ہوتاکہ بھارتی دہشت گردی پاکستان تک محدود نہیں رہی، یہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے پرتلی نظر آرہی ہے۔ یہ صورتحال افغانستان کی عبوری حکومت کے طرز عمل کے تناظر میں پوری دنیا بالخصوص پاکستان کیلئے تشویشناک ہے۔ کابل کی عبوری حکومت تحریک طالبان پاکستان اور داعش سمیت دہشت گرد تنظیموں کو اپنی سرزمین کے استعمال سے روکنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ انکی سرگرمیوں میں حصہ دار بنی محسوس ہوتی ہے۔ ضروری ہے کہ عالمی برادری اور خطے کے ممالک ایک طرف بھارت کو امن دشمن سرگرمیوں سے باز رکھنے میں کردار ادا کریں دوسری جانب کابل حکومت کے دہشت گرد تنظیموں کے تعلقات کے الجھاؤ کو دور کرنے میں اسکی مدد کریں۔ اچھا ہو کہ کثیر قومی سطح پر ایسی مشترکہ مشینری فعال نظر آئے جو دہشت گردی کیخلاف نہ صرف ڈھال بن سکے بلکہ اسکے امکانات ختم کرنے کیلئے بھی موثر ہو۔

تازہ ترین