• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمہوریت کا ڈوبتا ’’سورج‘‘ یا امید کی کوئی ’’کرن‘‘

سال2025ء جاتے جاتے بھی کئی سوالات چھوڑ گیا۔ اس سال کا سورج رہی سہی ’’جمہوریت‘‘ کو بھی اپنے ساتھ ڈبو گیا یا کچھ اُمید کی کرن باقی ہے، دیکھتے ہیں نیا سال کیا اُمیدیں لے کر آتا ہے، ویسے بھی سال2026ء ’’ماڈرن ڈیمو کریسی‘‘ کے250سال کے طور پر منایا جائے گا، مگر ہمیں ورثہ میں27ویں آئینی ترمیم نصیب ہوئی جو بادی نظر میں جمہوریت اور آئین و قانون کی بالادستی پر کاری ضرب نظر آتی ہے۔ وہ نظام کیسے جمہوری ہوسکتا ہے جہاں سیاست محصور، عدلیہ معزول اور میڈیا مجبور ہو۔

وہ جس کی روشنی کچے مکانوں تک بھی پہنچتی ہو

نا وہ سورج نکلتا ہے نا اپنے دن بدلتے ہیں ویسے تو یہ سال بھی پچھلے سال کا تسلسل ہی نظر آتا ہے۔ ’’مقبولیت‘‘ جیل میں اور ’’قبولیت‘‘ برسراقتدار، گوکے حکمران مسلم لیگ (ن) کا دعویٰ ہے کہ حال ہی میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں سات قومی اسمبلی اور چھ پنجاب اسمبلی میں کامیابی نے خاص طور پر جہاں تحریک انصاف مدمقابل تھی میں کامیابی نے ’’مقبولیت‘‘ کے بُت کو پاش پاش کردیا، مگر اس کی حقیقت کا اندازہ تو آنے والے بلدیاتی انتخابات میں یا جب سابق وزیراعظم عمران خان باہر آئیں گے تب ہوگا، بہرکیف پی ٹی آئی کے لیے یہ الیکشن اس لیے اہم تھا کہ انہیں اس میں پارٹی کو متحرک کرنے کا موقع ملا تھا،مگر وہ کنفوژن کا شکار رہے، الیکشن کا بائیکاٹ ہوا بھی اور نہیں بھی۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ہری پور اور لاہور کے ضمنی الیکشن میں آپ حصہ لیں اور باقی نشستوں کا بائیکاٹ۔ 

یہ الیکشن بھی اور سال بھی خود تحریک انصاف کے لیے بہت سے سوالات چھوڑ گیا، مگر پہلے ذرا اس کا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ سال موجودہ حکمرانوں کے لیے اور خود اس ’’ہائپرڈ نظام‘‘ کے لیے کیسا رہا۔ حکرانوں نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ 

آخر اپوزیشن کا اتحاد کیوں نہ بن سکا اور ایک منظم تحریک کیوں نہ چل سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ خود عمران خان کو اب جیل میں ڈھائی سال ہوچکے ہیں۔ اس دوران وہ ایک دن کے لیے بھی اسپتال نہیں گئے اورنہ ہی تاحال اپنے سخت اور اپنے تہیں ہی سہی اک اصولی موقف میں لچک پیدا کی۔ 

وہ 8فروری 2024ء کا ’’مینڈیٹ‘‘ واپس چاہتے ہیں، بات بقول ان کے، صرف انہی سے کرنا چاہتے ہیں جن کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہے، یعنی مقتدرہ،البتہ درمیان میں کچھ لچک پیدا ہوئی جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دو راؤنڈ ہوئے۔ بدقسمتی سے حکومت نے اس دوران مذاکراتی ٹیم کو بانی پی ٹی آئی سے بات کرنے اور گائیڈ لائن لینے کی درخواست نہیں مانی،یوں جو بات آگے بڑھ سکتی تھی، وہ نہ بڑھ سکی اور ختم ہوگئی۔ 

سیاسی طور پر یہ حکومت کی غلط حکمت عملی تھی مگر شاید حکومت خود ہی بات کو زیادہ آگے لے جانے میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ اگر مذاکرات آگے بڑھتے اور کہیں نہ کہیں اور چند نکات پر بھی اتفاق ہوجاتا تو سیاسی فائدہ حکمراں جماعت کو ہی ہوتا کہ انہوں نے معاملات کو سیاسی انداز میں حل کیا۔ 

اپوزیشن کے پاس ویسے بھی دینے کو زیادہ کچھ نہیں ہوتا، ماسوائے احتجاج اور مزاحمت کے، یہی ان کا اور وقت کی اپوزیشن کا مضبوط ہتھیار ہوتا ہے، جس کو حکومت اپنی سیاسی حکمت عملی سے ٹھنڈا کرسکتی تھی، اگر حکومت سختی یا جبر کا ہتھیار استعمال کرتی ہے تو سیاسی نقصان اس کا ہی ہوتا ہے کیونکہ کوئی تحریک چلے نہ چلے حکومتوں کا گراف اوپر نہیں جاتا۔ 

اس کے برخلاف اگر وزیراعظم اور کچھ نہیں تو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہی ’’کینسر‘‘ جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ڈاکٹر یاسمین راشد کو ہی رہایا کم از کم ان کے گھر کو نجی جیل قرار دے کر منتقل کرنے کا حکم دے دیتی تو یہ اچھا پیغام جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے اور وزیراعظم نے ایک اچھا موقع ضائع کردیا۔ 

ایک ایسے موقع پر جب مئی میں پاک بھارت جنگ میں پاکستان کو جنگی اور سفارتی محاذوں پر بڑی کامیابی ملی، پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بڑا بریک تھرو ملا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی غیر معمولی حمایت کی۔ وزیراعظم کے پاس موقع تھا کہ وہ سیاسی میدان میں اپوزیشن کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے۔ 

مثلاً عمران خان سے ان کے اہل خانہ کی ملاقات کروانے میں کردار ادا کرتے۔ وہ وزیراعلیٰ کے پی اور ان کی بہن علیمہ خان کو مذاکرات کے لیے دعوت دے سکتے تھے، جس سے ٹینشن کو کم کرنے میں مدد ملتی۔ کے پی کے وزیراعلیٰ کے ساتھ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے آگے بڑھ سکتے تھے۔ اگر پھر بھی دوسری طرف سے مثبت جواب نہ آتا تو نقصان پی ٹی آئی کا ہوتا، حکومت کا نہیں، کیونکہ تحریک انصاف میں ایک بڑی سوچ مذاکرات کی حامی ہے۔ 

آج کے مقابلے میں1877ء کی تحریک میں کئی سو لوگوں کی ہلاکت کے بعد جب حکومت یا اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دی تو اس کے نتیجہ میں تحریک معطل کردی گئی تھی اور بات چیت نتیجہ خیز ہوگئی تھی۔ 5جولائی1977ء کو مارشل لاء لگانے کا جواز نہ تھا۔ اس وقت کی نظربند لیڈر شپ کو باقاعدہ جیلوں سے ایک جگہ منتقل کیا گیا، تاکہ وہ آپس میں مشاورت کرسکیں، مگر آج لگتا ہے جس طرح اپوزیشن پی ٹی آئی بانی سے رائے لیے بغیر کچھ کر نہیں سکتی، حکومت کو بھی کسی سے لائن لینی پڑتی ہے۔

بظاہر لگتا ہے حکومت کی کمزور وکٹ کا فائدہ کسی اور نے اٹھایا، جس کی تازہ مثال27ویں ترمیم ہے، اب یہ ترمیم کیا گل کھلائے گی، اس کے لیے تھوڑا انتظار، مگر اس ترمیم نے صرف اعلیٰ عدلیہ کو ہی کمزور نہیں کیا بلکہ جمہوریت اور سیاست کو ہی کمزور کردیا ہے۔ 

اس بات کا اب امکان بہت کم ہے کہ موجود عدلیہ کی صورت حال میں عمران کو کوئی بڑا ریلیف مل پائے گا، چاہے معاملہ9مئی کا ہو یا190ملین پاؤنڈ کیس کا مگر آج قائم کی ہوئی آئینی عدالت شاید حکمرانوں کو بہتر نظام نظر آ رہی ہے، مگر کل عین ممکن ہے اسے بھی ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے تحت چلنا پڑے۔

اپوزیشن کی حکمت عملی

سال2025ء میں بھی اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پی ٹی آئی نہ کوئی بڑی تحریک چلانے میں کامیاب ہوسکی اور نہ کوئی بڑا اتحاد بنانے میں۔ ایسا کیوں نہیں ہوسکا، حالانکہ جب سے عمران خان کی حکومت اپریل2023ء میں عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجہ میں کئی کئی مواقع آئے، تاہم9مئی کے واقعات نے اپوزیشن خاص طور پر تحریک انصاف کو خاصا نقصان پہنچایا۔ خود اپوزیشن جماعتوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے۔ 

جس کا فائدہ حکومت یا حکمران اتحاد کو ہوا۔ 9مئی کو جو بھی ہوا اس کی صاف اور شفاف تحقیقات کی اس لیے بھی ضرورت تھی اور اگر ایسا ہوتا تو حکومت اور مقتدرہ کا کیس مضبوط ہوتا کیونکہ خود حکومت کا یہ دعویٰ تھا کہ یہ ’’اوپن اینڈ شٹ ‘‘کیس ہے۔ آج اس بات کو دو سال ہوچکے ہیں مگر اس کے مبینہ طور پر مرکزی کردار عمران خان پر یہ مقدمہ چلا ہی نہیں۔ یہ بات ویسی ہی ہے جیسی ایم کیو ایم (لندن) کے کیس میں 22 اگست، 2016ء میں ہوا۔ 

اس واقعہ کو اب10سال بیت گئے ہیں مگر یہ ’’تلوار‘‘ صرف لندن والوں کے لیے نہیں بلکہ خود ایم کیو ایم (پاکستان) کے لیے بھی ہے کہ جہاں انہوں نے کوئی غیر جانبدار اپوزیشن لینے کی کوشش کی،22اگست کے کیس کی سماعت کا نوٹس آیا گیا۔ان دو سالوں میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف کی حکمت عملی ناقص رہی، گوکہ وہ اپنے تیں مضاحمت کرتے رہے، ان کے کئی ساتھی یا تو جیلوں میں ہیں، فرار ہیں یا انڈر گراؤنڈ یا پھر گھروں میں، ایسی جو حکمت عملی بننی چاہیے تھی وہ نظر نہیں آئی۔ 

پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت نے اپنی ایک ’’سیاسی کمیٹی‘‘ بھی تشکیل دی مگر وہ بھی زیادہ متحرک نظر نہیں آئی۔ خود پارلیمنٹ کے اندر بھی پی ٹی آئی یا بانی کی یہ حکمت عملی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آپ پارلیمنٹ کا حصہ بھی ہیں مگر تمام کمیٹیوں جن کی چیئرمین شپ ان کے پاس تھی وہاں سے استعفیٰ دے دیا۔ 

یہ ویسی ہی حکمت عملی لگتی ہے جیسے ضمنی انتخابات کی۔ پی ٹی آئی اور ان کے اتحادیوں کے دو اہم ترین رہنما شاہ محمود قریشی اور چوہدری پرویز الٰہی نے خاموشی کا روزہ رکھا ہوا ہے جبکہ بہت سے رہنما جو باہر ہیں جیسا کہ بیرسٹر گوہر، چیئرمین پی ٹی آئی، سلمان اکرم راجہ، سیکریٹری جنرل، اسد قیصر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور کچھ دیگر انہوں نے کئی بار کوشش کی، اپوزیشن جماعتوں کو بشمول جمعیت اسلام اور جماعت اسلامی کو وسیع تر اتحاد میں لانے کی مولانا فضل الرحمن کے ساتھ تو26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر تو دونوں اس حد تک قریب آگئے تھے کہ اتحاد بنتے بنتے رہ گیا۔ 

میری ذاتی طور پر اسلام آباد میں ان دنوں مولانا سے ایک تفصیلی ملاقات ہوئی تو مولانا نے ’’انکشاف‘‘ کیا کہ ان کی بات چیت خاصی آگے بڑھ گئی تھی، پھر اچانک پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا کہ وہ26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔۔ ’’اس رات جب پی ٹی آئی کے لوگ بانی سے ملاقات اور ہدایت لے کر آئے تو مجھے ان کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوگیا تھا، اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے، میں نے خود ہی ان سے کہا کہ ان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ رائے شماری میں حصہ نہ لیں۔‘‘

بقول مولانا پی ٹی آئی کا ایک مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ آخر بات کس سے کی جائے اور کس کے پاس فیصلوں کا اختیار ہے۔بہرکیف سال2025ء میں صورت حال تحریک انصاف کے حق میں نہیں گئی، نہ وہ اندرونی طور پر کوئی موثر دبائو کی حکمت عمل بنا پائے اور نہ ہی بین الاقوامی سطح پر حکومت پر عمران کی رہائی کے لیےکوئی خاص لابی لانے میں کامیاب نظر آئے، مگر تحریک انصاف کی ان تمام کمزوریوں کے باوجود کیا حکومت مضبوط ہوئی، کیا مسلم لیگ (ن) کو ’’تخت پنجاب‘‘ واپس مل گیا اور کیا عمران خان رہا ہو بھی جائیں، پی ٹی آئی کو ان کا انتخابی نشان ’’بیلٹ پیپر‘‘ واپس مل بھی جائے، پی ٹی آئی کی بحیثیت جماعت انتخابی عمل میں حصہ لینے کی اجازت مل بھی جائے تو مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوگی؟

آج کی صورت حال میں ضمنی الیکشن میں کامیابی کے باوجود اس کا جواب نفی میں ہوگا۔ تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود حکومت یا حکومت کی حمایت کرنے والے اپوزیشن کو اس طرح نہیں توڑ پائے جس طرح شاید ان کو امید تھی، خاص طور پر9مئی کے واقعات کے بعد، البتہ وہ بیشتر رہنما جو اس جماعت کا حصہ بنے2011ء یا 2013ء کے بعد توقع کے عین مطابق آہستہ آہستہ ساتھ چھوڑ گئے جن میں بڑے نام فیصل واڈا، علیمہ خان، جہانگیر ترین، فواد چوہدری، فیاض الحسن چوہان اور دیگر شامل ہیں۔

خان صاحب کے قریبی ساتھ اسد عمر، علی زیدی، عمران اسماعیل نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ سب سے اہم ’’وکٹ‘‘ جس کی وجہ سے شاید خان صاحب کی حکومت گئی یا جن کا اہم کردار رہا، ان کے دور اقتدار کے زوال کا سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی راہیں جدا کرلیں۔

پاکستان کی ’’جمہوریت‘‘ کو’’لوٹا کریسی‘‘ نے بہت نقصان پہنچایا مگر اس کے ذمہ دار وہ سیاست دان ہیں جو ایسے لوگوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے کیس میں خود خان صاحب اس کے ذمہ دار ہیں، ان کے بارے میں یہ عام تاثر رہا اور اب بھی ہے کہ وہ ’’مردم شناس‘‘ نہیں ہیں مگر یہ معاملہ صرف خان کے ساتھ نہیں پاکستان کی مقبول ترین اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید کے ساتھ بھی رہا۔

میری اتفاق سے ان دونوں کے ساتھ معاملات پر گفتگو رہی۔ بی بی کی جدوجہد کے ساتھی اور تھے اور 1988ء میں اقتدار ملنے کے قریب تھا تو طرح طرح کے لوگ پارٹی میں آنے لگے، ایسے بھی جن سے خود محترمہ کھی پہلے نہیں ملی تھیں۔ میں نے پوچھا، بی بی آپ ایسے لوگوں کو پارٹی میں اور پھر حکومت میں اہم پوزیشن کیوں دے دیتی ہیں، مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ’’یہ مشروط اقتدار لینے کی سزا ہے۔‘‘ اسی طرح2013ء کے وقت اور الیکشن کے بعد خان صاحب کی پارٹی میں کئی متنازعہ شخصیات نے جوائن کرنا شروع کردیا۔

میں نے خان صاحب سے پوچھا کہ پارٹی کی پالیسی تو اس حوالے سے خاصی سخت رہی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے بارے میں جو دوسری جماعتیں چھوڑ کر آتے ہیں تو یہ ’’یو۔ ٹرن‘‘ کیوں؟ کہنے لگے۔ ’’مظہر 2013ء کے الیکشن میں ہمارے بہت سے نظریاتی ساتھی ہار گئے تھے، اس لیے یہ بھی ضروری ہے کہ الیکٹریبلز کو لیا جائے جو اپنے حلقے سے الیکشن جیتتے رہے ہیں۔‘‘ میں نے صرف اتنا کہا جو آج آپ کے ساتھ ہیں وہ کل کسی اور کے ساتھ ہوں گے کیونکہ وہ اپنے حلقے میں خودمختار ہیں۔ خیر بات سال2025ء کی ہورہی تھی۔ 

اس سال موجود حکمراں اتحاد جن میں پی پی پی اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) بھی شامل ہیں کی بادی نظر میں کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں رہا اور ان کی خوش قسمتی کہ اپوزیشن جماعتیں وہ دبائو بڑھانے میں ناکام رہتی جو کسی بھی حکومت کو ہلا سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ ’’گورنمنٹ، ملٹری تعلقات ہیں۔ 

ظاہر ہے وزیراعظم شہباز شریف کا مزاج بڑے بھائی میاں نواز شریف سے مختلف ہے، ورنہ تو1997ء میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی شہرت بھی ایک پروفیشل جنرل کی تھی اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب ان کو پتہ چلا کہ وزیراعظم ان کے ’’نیشنل سیکورٹی کونسل‘‘ والے بیان پر ناراض ہیں تو اس سے پہلے وہ استعفیٰ طلب کرتے، انہوں نے خود ہی وزیراعظم سے مل کر استعفیٰ پیش کردیا۔

اس وقت وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری سعید مہدی بتاتے ہیں۔ ’’میں نےجنرل کرامت کے وقت بھی اور جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کے وقت بھی میاں صاحب کو احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیا تھا۔‘‘ وزیراعظم شہبازشریف میاں صاحب کے دور میں بھی بڑے بھائی کو مقتدرہ کے معاملے میں احتیاط سے کام لینے کا مشورہ دیتے رہے ہیں، ان کے اور چوہدری نثار علی خان کے مشورہ پر ہی جنرل مشرف کو آرمی چیف نامزد کیا گیا مگر ان کو برطرف کرتے وقت میاں صاحب نے ان دونوں کی رائے نہیں لی۔

کہتے ہیں وزیراعظم شہباز جو پہلے دن سے ہی جب شریفوں کوسیاست میں لایا جارہا تھا مقتدرہ کے فیورٹ رہے ہیں۔ اس لیے جب عمران خان کی حکومت کو ہٹایا گیا تو نوازشریف تو نئے انتخابات کی بات کرہے تھے مگر جنرل قمر جاوید باجوہ اس کے مخالف تھے، اس کے باوجود 8فروری کے الیکشن سے پہلے جو16ماہ حکومت رہی، شہبازشریف کی، جس کی بھاری قیمت مسلم لیگ (ن) کو یہ دینی پڑی کہ وہ اتنے غیر مقبول ہوئے کہ تقریباً فارغ ہی ہوگئے، شاید یہی وجہ تھی کہ میاں نواز شریف وزیراعظم نہیں بننا چاہتے۔ 

خیر یہ الگ بات کہ مقتدرہ بھی شاید ان کو وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتی تھی، ان کے لیے پہلی چوائس شہباز ہی تھے، لہٰذا اب تک وزیراعظم اور آرمی چیف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے درمیان ایک آئیڈیل تعلقات ہیں اور شاید ہی کوئی ایسا مسئلہ آیا ہو جس میں اختلاف پیدا ہو، ویسے بھی اس پورے دور میں تاحال بات بین الاقوامی سطح پر بھارت سے تعلقات کی ہو، افغانستان سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ہو یا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کی یا چین سے تعلقات کی، دونوں ایک ہی پیچ پر نظر آئے۔ 

خزانہ کی وزارت ہو، دفاعی امور ہوں، خارجہ پالیسی ہو یا وزارت داخلہ کے معاملات، اب یہ وزارتیں برائے نام ہی سویلین کے پاس ہیں۔ اب اگر نوازشریف صاحب کبھی کبھار کوئی ہلکی سی جھلک پرانے والے نوازشریف کی دے بھی دیں تو تاریخ کا پہیہ واپس نہیں جاتا۔ 

اللہ ان کو صحت دے وہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے اہم کردار ہیں مگر اس وقت جو تعلقات ہیں اس میں کسی اور کی کم از کم آئندہ الیکشن سے پہلے گنجائش نظر نہیں آ رہی۔ ویسے بھی میاں صاحب کی پوری توجہ اپنی بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر ہے۔پی پی کا رول بھی اس پورے سال دلچسپ رہا، وہ حکومت میں نہ ہوتے ہوئے بھی ان کے اتحادی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری پہلے ہی دوسری بارصدر منتخب ہوکر ریکارڈ قائم کرچکے ہیں، چونکہ آئندہ الیکشن کے بعد وہ صدر نہ ہوں گے، نہ ہی اب رہنا چاہتے ہیں، اس لیے تاحیات استشنیٰ ملنے کے بعد وہ اب پارٹی اور خاندان کے معاملات پر توجہ دینا چاہتے ہیں، البتہ ان کی یہ ضرور خواہش ہے کہ ان کا بیٹا بلاول بھٹو زرداری آئندہ وزیراعظم بنے، مگر شاید اس کے لیے وہ کوئی بڑی لڑائی لڑنا نہیں چاہیں گے۔

ان کے اور میاں نوازشریف کے تعلقات میں ہمیشہ سے کبھی گرم جوشی اور کبھی سردمہری رہی ہے، جس کی اپنی ایک تاریخ ہے مگر دونوں کبھی بھی پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں گئے۔ دونوں اختلافات کو اس حد تک نہیں لے گئے کہ ’’اینٹ سے اینٹ‘‘ بجانی پڑے۔ 

ان کے درمیان آخری بڑا اختلاف سابقہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے ایک اجلاس جو مسلم لیگ کے رہنما طارق فضل چوہدری کے گھر پر غالباً دسمبر2020ء میں ہوا تھا، جب ایک موقع ایسا بھی آیا، زرداری صاحب نے میاں صاحب کو طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر لانگ مارچ کرنی ہے اسلام آباد تک تو میاں صاحب لندن سے آکر قیادت کریں، یہ وہ وقت تھا جب پی پی پی کو پی ڈی ایم سے نکالا جارہا تھا۔ 

پی پی پی کا رول2025ء میں بھی ایک ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کا ہے اور اس چکر میں وہ جو بات منوانا چاہتے ہیں منوا لیتے ہیں، اس وقت اہم آئینی عہدہ جن میں صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ، گورنر پنجاب اور کے پی اور ساتھ میں سندھ، بلوچستان کی حکومتیں ان کے پاس ہیں، اب تو آزاد کشمیر کی حکومت بھی انہی کے پاس ہے۔

دوسری اتحادی ایم کیو ایم کی حالت ایک جونئر اتحادی کی سی ہے، دو وزارتوں میں ہی خوش ہیں۔ اب اگر28ویں ترمیم آتی ہے اور اس میں ان کی بلدیاتی اداروں کی خودمختاری کی ترامیم شامل ہوتی ہیں تو وہ اس کو بریک تھرو کہہ سکیں گے۔ سال 2025ء پاکستان کے دو حساس صوبوں بلوچستان اور کے پی کے معاملات پر ان گنت سوالات چھوڑ کر جارہا ہے۔ 

دونوں صوبوں میں ریاست کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سامنا ہے مگر دونوں میں معاملات مختلف نوعیت کے ہیں۔ کے پی میں ایک مشکل یہ ہے کہ وہاں کی حکومت اپوزیشن کی ہے، جس کے مرکز سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ دہشت گردی چاہے وہ افغان بارڈر کے اس پار سے ہورہی ہو یا ان کے سہولت کار خود پاکستان کے اندر کررہے ہوں، صوبہ کو عدم استحکام کی طرف لے جارہی ہے۔ دونوں کے درمیان ’’بیانیہ‘‘ میں بھی فرق ہے اور حکمت عملی میں بھی۔ پچھلے چند ماہ میں کے پی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ لہٰذا سال 2026ء ہمارے لیے انتہائی اہم ہوگا اور اندرونی طور پر اتحاد بہت ضروری ہے۔ 

دوسری طرف بلوچستان کا معاملہ بھی سنگین صورت حال اختیار کرتا چلا جارہا ہے۔ ایک طرف ریاست کو علیحدگی پسند گروپس کا سامنا ہے، جس کے بارے میں ہمارے ریاستی اداروں کا واضح موقف ہے کہ ان گروپس کو بھارت کی مکمل تائید حاصل ہے، کیونکہ وہ ’’سی پیک‘‘ کو بنتا دیکھنا چاہتے خاص طور پر چینی باشندوں اور ان میں بھی جو لوگ اس پروجیکٹ پر کام کررہے ہیں ان کو نشانہ بنا رہا ہے مگر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جو حکمت عملی بنائی گئی ہے، جس میں بادی نظر میں خود ان سیاسی لوگوں کو بھی ایک طرف کردیا گیا، وہ سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ 

بات چاہے اختر مینگل کی ہو، محمود خان اچکزئی کی ہو یا ڈاکٹر عبدل مالک کی، ان کو سائیڈ لائن کرنے سے معاملہ حل نہیں ہوپائے گا۔ ریاست کو نہ صرف ان کے ساتھ بیٹھنا چاہیے بلکہ وہاں کی سب سے مقبول سیاسی حقیقت ماہ رنگ بلوچ سے بھی بات کرنی چاہیے کیونکہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی جتنے بھی سیاسی آدمی ہوں ان کو ان زمینی حقائق کا علم ہے کہ یہ معاملہ ہے سیاسی اور علیحدگی پسند تحریکیں کمزور صرف سیاسی عمل سے کمزور پڑتی ہیں۔

نمائندہ حکومت ہو اور اس کو ریاست اسپیس دے تو بات حل کی طرف جاسکتی ہے۔ آخر میں اگر سال بھر میں ہونے والےسیاسی معاملات کا جائزہ لیں تو لگتا ہے جمہوریت مضبوط ہونے کے بجائے کمزور ہوئی، عین ممکن ہے آج یہ بات ہماری اشرافیہ اور حکمرانوں کو سمجھ نہ آرہی ہو مگر زمینی حقائق یہی بتاتے ہیں 8فروری، 2024ء سے آج تک ہونے والے واقعات نے سب سے زیادہ نقصان خود پارلیمنٹ کی جمہوری اقدار کو، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کو پہنچایا ہے۔ 

آپ ان رہنمائوں سے شدید سیاسی اختلاف کرسکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ’’مقبول لیڈر‘‘ نہیں چاہیے وہ عمران خان ہو، ماہ رنگ بلوچ ہو، منظور پشتین ہو یا الطاف حسین۔ ہاں 2018ء میں میاں نوازشریف بھی اس فہرست میں شامل تھے، پھر خود ان کی بعض پالیسیوں نے ان کے اپنے معاملات تو ٹھیک کیے مگر ان کی مقبولیت کا گراف نیچے آگیا۔2024ء اور2025ء کا بنیادی فرق یہ ہے کہ پچھلے سال8فروری کو لوگوں نے ایک ایسی پارٹی کو ووٹ دیا، بڑی تعداد میں جس کے پاس نہ نام تھا، نہ انتخابی نشان اور وہ رجحان ایک جمہوری سوچ رکھنے والے کے لیے ’’امید کی کرن‘‘ اس سال جو لوگ بڑی تعداد میں باہر نکلے وہ سال2025ء میں گھروں میں بیٹھے رہے اور گھروں سے تبدیلیاں نہیں آتیں،لہٰذا جب تک ووٹ کو عزت دینے اور دلوانے کے لیے سب متفق نہیں ہوتے ’’ووٹ‘‘ کو عزت نہیں ملے گی۔ 

رہ گئی بات آئین کی تو جس آئین میں نائب وزیراعظم کی شق ہی موجود نہیں ہو اور ہم دوسری بار کسی کو نائب وزیراعظم بنادیں، جس آئین میں یہ واضح لکھا ہو کہ ہر تین ماہ بعد سی سی آئی کا اجلاس ہونا لازم ہو اور ہم آئین کی خلاف ورزی کرتے رہیں، وہاں آپ جمہوریت کو مضبوط نہیں، کمزور کررہے ہیں۔ 

حکمراں اشرافیہ کی سوچ کا اندازہ تو اس بات سے لگالیں کہ پچھلے چند ماہ سے نہ کوئی نیا چیئرمین الیکشن کمیشن آیا ہے اور نہ ہی قائد حزب اختلاف، یوں لگتا ہے کہ ’’اختلاف‘‘ سننے کو کوئی تیار نہیں۔سال۔ 2025ء کا سورج ڈوب گیا اور ڈوب گئیں وہ سب اُمیدیں جس کے لیے نہ جانے کتنے اور کس کس جماعت کے سیاسی کارکنوں اور خود لیڈر شپ نے قربانیاں دیں، مگر آج انہی کے ہاتھوں سیاسی لوگوں اور سیاسی اقدار کا جنازہ نکالا جارہا ہے۔ 

جس معاشرہ میں نہ میڈیا آزاد ہو، نہ عدلیہ، جہاں پارلیمنٹ اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو یرغمال بنانے کے عمل کا حصہ ہو، وہاں اُمیدیں دم توڑتی جارہی ہیں۔ البتہ ہر ایسے معاشرے میں چند ایسی آوازیں ضرور ہوتی ہیں جو مستقبل کا پتہ دیتی ہیں۔ قومیں اور معاشرہ بننے میں بعض اوقات بڑا وقت لگتا ہے، بس آپ نے اپنی سمت درست کرنی ہے۔ ملک یا ریاست نااہلی، کرپشن اور محض نعروں سے مضبوط نہیں ہوتی۔

کہاں تک دوستوں کی بے رخی کا ہم کریں ماتم چلو اس بار بھی ہم ہی سر مقتل نکالتے ہیں۔ 

اسپیشل ایڈیشن سے مزید