ڈیجیٹل دنیا کا سفر اب محض چند بٹن دبانے کا کھیل نہیں رہا۔ 2025کے آتے آتے پاکستان میں سوشل میڈیا نے وہ کردار ادا کیا، کہ حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ گئے۔ عوامی رائے سازی، احتجاج، معلومات، شعور، تفریح، سب کچھ ایک اسکرین میں سمٹ کر عوام کے ہاتھوں میں آگیا۔ لیکن یہ تبدیلی محض امکانات کا دروازہ نہیں کھولتی، بلکہ پورا ایک نیا اضطراب بھی پیدا کرتی ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ اس تبدیلی کا جائزہ لیں تو نہایت دلچسپ حقائق سامنے آتےہیں۔ ملاحظہ کریں 2025 میں سوشل میڈیا نے کیا کچھ کر دیا…
سال بھر، سوشل میڈیا پر کنٹرول اور آزادی اظہار سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع رہا۔ کروڑوں دلوں میں یہی سوال تھے کہ کیا شہری کو مکمل آزادی حاصل ہے یا آن لائن دنیا پر کنٹرول بڑھ رہا ہے؟ بعض مواقع پر پلیٹ فارمز کی رفتار کم ہوئی، کچھ مواد ہٹایا گیا، کہیں ٹرینڈ اچانک غائب ہوئے، تو کہیں سخت پالیسی مباحثے سامنے آئے۔ یوں محسوس ہوا کہ ریاست اور ڈیجیٹل شہری کے درمیان باقاعدہ ایک نئی کشمکش جنم لے چکی ہے۔
سوشل میڈیا نے پاکستان کے سیاسی بیانیے کی شکل ہی بدل ڈالی۔ جلسے سے زیادہ ٹرینڈ اہم اور تقریر سے زیادہ لائیو اسٹریمنگ کا اثر رہا۔ ہر سیاسی پیش رفت، ہر تنازع، ہر احتجاج کا پہلا اور طاقتور گواہ یہی پلیٹ فارمز رہے۔ نوجوان نسل کی سیاسی شمولیت کا راستہ سڑکوں سے زیادہ ٹائم لائن پر نظر آیا۔
خواتین کی ڈیجیٹل آواز
یہ برس خواتین کے حق میں ایک نئی تبدیلی لایا۔ آن لائن ہراسگی، مساوات، تعلیم، کھیل اور پبلک اسپیس جیسے موضوعات پر کئی مؤثر ڈیجیٹل مہمات فعال ہوئیں۔ نوجوان لڑکیوں نے انسٹاگرام، ایکس اور ٹک ٹاک پر بھرپور طریقے سے اپنی شناخت، اپنی رائے اور اپنی کہانی سنائی۔ یہ وہ رجحان ہے جو آنے والے برسوں میں پاکستانی معاشرت کے لیے ایک نئی سمت ثابت ہوسکتا ہے۔
جعلی خبروں کا سیلاب
2025 کے دوران کئی بڑے واقعات غلط یا مبالغہ آمیز معلومات کی وجہ سے متاثر ہوئے۔ فیکٹ چیکنگ پیجز اور ڈیجیٹل لٹریسی مہمات نے اگرچہ کچھ کردار ادا کیا، مگر مجموعی طور پر اس کی ضرورت اب بھی بہت زیادہ ہے۔
ڈیجیٹل کری ایٹرز اور نئی معیشت
اگر 2025کسی پہلو سے سب سے زیادہ مثبت رہا تو وہ ہے، پاکستانی نوجوانوں کا اُبھرتا ہوا ڈیجیٹل کیریئر۔ یوٹیوب چینلز، ٹک ٹاک کری ایٹرز، پوڈکاسٹ میزبان، فوٹو گرافرز اور لائف اسٹائل بلاگرز، سب نے اپنی جگہ بنائی۔ مقامی کہانیاں، کھانے، بازار، ثقافت، موسم، ماحول، سب کو ایک نئی آواز ملی۔ یہ ایک ایسی معیشت ہے جو نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھول رہی اور پاکستان کی نرم تصویر دنیا کو دکھا رہی ہے۔
آگے کا سفر
2025 کا منظرنامہ ایک بات پوری طرح واضح کر چکا ہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان کا سوشل میڈیا ایک طاقت بن چکا ہے۔ لیکن یہ طاقت ذمہ داری، قوانین، آزادی، پرائیویسی اور عوامی شعور، سب کا توازن مانگتی ہے۔ اگر ریاست، معاشرہ اورپلیٹ فارمز مل کر ایک متوازن راستہ نکال لیں تو یہ ڈیجیٹل دنیا پاکستان کے لیےلامحدود مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب انسان کے ہاتھ میں کتابیں اور آنکھوں میں خواب ہوتے تھے۔
گزرے سال صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ آنکھیں موبائل کی اسکرین پر جمی اور ہاتھ گویا کسی نامعلوم جادوگر کے اشارے پر مصروف رہے۔ اس نئی دنیا نے زندگی آسان بھی کی، مگر بے شمار نئے مسائل بھی پیدا کیے۔ سب سے دلچسپ اور کبھی کبھی افسوس ناک وہ واقعات ہیں جو صرف اس وجہ سے پیش آئے ہیں کہ انسان لمحہ بھر کے لیے بھی سوشل میڈیا سے نظریں نہیں ہٹاسکا۔
پیدل چلنے والوں کے حادثات کی نئی قسم سامنے آئی، جنہیں “سوشل میڈیا زومبیز” کہا جاتا ہے۔ لوگ چلتے چلتے فون میں گم ہو کر فٹ پاتھ کے کنارے سے نیچے جا گرتے، فواروں میں جا پڑتے، کھلے مین ہولز میں غرق ہو جاتے ہیں۔
امریکا، چین اور یورپ میں ایسے واقعات کی طویل فہرست ہے، جنہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے انسان نے اپنی پوری سمت کا اختیار ان چھوٹی اسکرینوں کے حوالے کر دیا ہو، پھر فیس بک یا انسٹا گرام کے لیے سیلفی کے جنون کی داستان الگ ہے۔
موبائل نے صرف جسمانی نہیں، تعلقات میں دوریاں بھی پیدا کیں۔ جدید دور کا ایک لفظ "فبنگ" ہے۔ یعنی اپنے قریب بیٹھے شخص کو نظر انداز کر کے فون میں گم ہو جانا۔ اسی بنا پر دنیا بھر کی عدالتوں میں طلاق کے ایسے مقدمات درج ہوئےجہاں وجہ کے طور پر’’ ضرورت سے زیادہ فون کےاستعمال‘‘ کا ذکر ہوا۔ رشتوں میں خاموش دراڑ ڈالنے کا یہ نیا اور خطرناک طریقہ ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اس دراڑ کو ابتدا میں کوئی سنجیدہ لیتا ہی نہیں۔
لائیو اسٹریم نے بھی انسان کو بہت کچھ دکھایا۔ یورپ، چین، امریکا اور دیگر ملکوں میں ایسے واقعات عام ہیں کہ لوگ لائیو ویڈیو بناتے بناتے گھر میں آگ لگا بیٹھے، ٹریفک حادثہ کر دیایا خود کو ایسی کسی مشکل میں ڈال لیا۔ لیکن سب سے مہلک عادت گاڑی چلاتے ہوئے میسج کرنا ہے۔ دنیا بھر میں سیکڑوں حادثات صرف اس وجہ سے ہوئے کہ ڈرائیور اپنے فون میں مصروف تھا ۔
خاندانوں اور دوستوں سے رابطہ: ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، احباب اور خاندان کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنا واٹس ایپ، فیس بک وغیرہ کی بدولت انتہائی آسان ہو گیا۔
سماجی اور عوامی تحریکیں: سوشل میڈیا نے عوامی آواز کو مضبوط بنایا ہے۔ #MeToo جیسی مہمات نے دنیا بھر میں خواتین کو آواز اٹھانے کا موقع دیا،اسی طرح کسی بھی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ممکن ہوا۔
مفت تعلیمی وسائل: یوٹیوب پر لاتعداد اسباق (ٹیو ٹوریلز)، لیکچرز اور آن لائن کورسز دستیاب ہیں، جو رسمی تعلیم کے متبادل یا اس کے معاون کا کام کر رہے ہیں۔
مہارتوں کی تربیت: سوشل میڈیا کی بدولت نوجوانوں نے گھر بیٹھے نئی ٹیکنالوجیز، زبانوں اور دیگر مہارتوں کی تربیت حاصل کی۔
مقامی ثقافت اور موسیقی کا فروغ: ٹک ٹاک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے پاکستانی موسیقی، رقص اور ثقافت کو نئی زندگی دی اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرایا۔
قومی یکجہتی: کرکٹ میچوں یا قومی مواقع پر سوشل میڈیا پر ہونے والا سوشل انٹر ایکشن قومی یکجہتی کے جذبات کو مضبوط کرتا ہے۔ معاشرے کو معلومات، معاشی مواقع، سماجی اختیار اور تعلیمی وسائل تک رسائی کے لحاظ سے یکساں طور پر متاثر کیا۔
یہ ایک ایسا طاقتور ذریعہ ثابت ہواجس نے عام آدمی کو وہ پلیٹ فارم دیا جہاں وہ اپنی آواز بلند کر سکتا، اپنا کاروبار کرسکتا اور دنیا کے علم سے روشناس ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں، لیکن اس کے مثبت پہلو پاکستانی عوام کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
2025 میں پاکستان میں کون سا سوشل میڈیا پلیٹ فارم کتنا مقبول ہوا؟
اس کے بارے میں یقین سے کہنا آسان نہیں، کیونکہ یہاں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور مختلف تحقیقی فورمز کے طریقہ کار بھی مختلف ہیں۔ تاہم اشتہاری اعداد و شمار (مثلاً میٹا کے پلیٹ فارمز)، مارکیٹ رپورٹس، اور دکھائی دینے والے رجحانات کو ملا کر ایک خاصی درست تصویر پیش کر سکتے ہیں۔
پاکستان دنیا کے تیزی سے بڑھتے پھیلتے ڈیجیٹل منظر نامے کا بے حد اہم حصہ ہے، جہاں87ملین (8 کروڑ 70لاکھ) سے زائد سوشل میڈیا صارفین ہیں۔ یعنی ہماری تقریباً 35 فیصد آبادی۔
جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ پاکستان پر یوٹیوب، واٹس ایپ، فیس بک اور ٹک ٹاک کی حکمرانی ہے۔ سوشل میڈیا مارکیٹ مکمل طور پر موبائل فون کے قبضے میں اور اسمارٹ فونز رسائی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ صارفین میں عمر، مقام اور زبان کے لحاظ سے نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔
پلیٹ فارم کے لحاظ سے مقبولیت
درج ذیل فہرست 2025میں ایکٹو یعنی فعال صارفین کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔ بہت سے لوگ ایک سے زیادہ پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں۔
یوٹیوب 80فیصد سے زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں۔ یہ پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے جو ڈرامے، فلمیں، تفریح، موسیقی، خبریں، سبق وغیرہ فراہم کرتا ہے۔ ویڈیو کی شکل میں ہونے اور خواندگی کی شرط نہ رکھنے کی وجہ سے یہ تمام آبادیاتی گروہوں میں بے حد مقبول ہے۔
واٹس ایپ 78 فیصد لوگ استعمال کرتے ہیں۔ اب یہ پاکستان میں مواصلات کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ ذاتی چیٹس، خاندانی گروپس، اور سب سے اہم، کاروبار (واٹس ایپ بزنس) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس پلیٹ فارم نے میسجنگ کا حقیقی معیار قائم کیا ہے۔
فیس بک.72فیصد پاکستانی استعمال کرتے ہیں۔ یہ آبادی کے مختلف گروپس میں اول نمبر پر ہے۔ خبروں، تبصروں، کمیونٹی گروپس، تفریحی پوسٹس اور بزنس پیجز کے لیے فیس بک مضبوط ترین پلیٹ فارم ہے۔25سال سے زائد عمر کے لوگوں میں بے حد مقبول ہے۔
ٹک ٹاک 45 فیصد لوگوں کی پسند ہے۔ یہ پاکستانی نوجوانوں میں شارٹ فارم ویڈیو کی وجہ سے مقبول ہے۔ نوجوانوں کی ثقافت، رجحانات اور موسیقی کے شعبہ میں انتہائی بااثر ہے۔ اس نے انفلوئنسرز کی نئی نسل پیدا کی ہے۔
انسٹا گرام 35فیصد لوگوں میں مقبول ہے۔ یہ پاکستان کے شہری نوجوانوں کی خاص پسند ہے۔ وژول مواد کے شعبہ میں انسٹا گرام اول نمبر پر ہے۔ شہری اور خوش حال صارفین میں اسے زیادہ پسند کیا جاتاہے۔ انفلوئنسر مارکیٹنگ، فیشن، فوڈ اور طرز زندگی کے شعبوں میں یہ پلیٹ فارم اہم سمجھا جاتا ہے ۔
ایکس (ٹوئٹر) پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین میں 10 فیصد لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اشرافیہ کے لیے خبروں اور سیاست کا اہم ترین پلیٹ فارم ہے۔ صارفین کی تعداد کم ہے مگر یہ انتہائی بااثر صارفین ہیں جن میں صحافی، سیاست دان، تجزیہ کار وغیرہ شامل ہیں۔
اسنیپ چیٹ بھی 10 فیصد لوگوں کی پسند ہے۔ یہ نوعمر لوگوں اور نوجوانوں میں مقبول ہے۔ ڈس اپئیرنگ (غائب ہونے والے) میسجز اور قریبی دوستوں کے درمیان پرائیویٹ شیئرنگ کی وجہ سے اسے ترجیح دی جاتی ہے۔
لِنکڈ اِن7فیصد لوگوں کا انتخاب ہے۔ پروفیشنل شعبہ میں یہ اول نمبر پر ہے اور ملازمت کی تلاش، پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ، اور B2B مارکیٹنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تعلیم یافتہ، شہری طبقے میں لنکڈ ان مسلسل مقبول ہو رہا ہے۔
2025میں مقبولیت کے مختلف پیمانے
* جنریشن زی (24 سال سے کم): اس جنریشن کے لیے ٹک ٹاک اور انسٹا گرام بادشاہ ہیں۔ پرائیویٹ مواصلات کے لیے اسنیپ چیٹ بھی بہت مقبول ہے۔ موسیقی اور تفریح کے لیے یوٹیوب خوب استعمال ہوتا ہے۔
* میلینیلز (25-40 سال): یہ لوگ بیک وقت کئی پلیٹ فارم استعمال کرتے ہیں۔ فیس بک اور یوٹیوب بہت مقبول ہیں۔ انسٹا گرام بھی استعمال ہوتا ہے اور روزانہ کی بات چیت اور کام کے لیے یہ لوگ واٹس ایپ پر اعتماد کرتے ہیں۔
* جنریشن ایکس (40 سال سے زائد عمر کے لوگ): ان کے لیے فیس بک سب سے اہم پلیٹ فارم ہے۔ خبروں اور مذہبی مواد کے لیے یوٹیوب وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ ان لوگوں نے خاندانی رابطے کے لیے واٹس ایپ تقریباً عالمگیر سطح پر اپنا لیا ہے۔
تعلیم اور معاشی حیثیت
* اعلیٰ تعلیم / خوشحال صارفین: انسٹا گرام، لنکڈ ان، اور ایکس (ٹویٹر) استعمال کرنے کا زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ وہ انگریزی اور اردو میں مواد استعمال کرتے ہیں اور ہائی اینڈ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے بنیادی ہدف ہیں۔
* کم رسمی تعلیم / متوسط/کم آمدنی: فیس بک، ٹک ٹاک، اور یوٹیوب ان کے لیے اہم پلیٹ فارم ہیں۔ مواد بنیادی طور پر اردو اور علاقائی زبانوں (پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، سرائیکی) میں ہوتا ہے۔
نئے رجحانات، زندگی پر اثرات
1- وڈیو کی حکمرانی: شارٹ فارم ویڈیو (ٹک ٹاک، انسٹا گرام ریلز، یوٹیوب شارٹس) وہ کونٹینٹ ہے جو سب سے زیادہ استعمال ہوتا اور بنایا جاتا ہے۔
2- موبائل فون کی طاقت: سوشل میڈیا تک رسائی کا تقریباً 95 فیصد حصہ اسمارٹ فونز کے ذریعے ہے جو ہر ہاتھ میں ہیں۔ کمپنیوں کے ڈیٹا پیکج سستے ہیں، جس کی وجہ سے وڈیو بنانے اور دیکھنے کا استعمال عام ہے۔
3- ای کامرس اور انفلوئنسر مارکیٹنگ: سوشل کامرس عروج کی طرف گامزن ہے۔ فیس بک اور انسٹا گرام جیسے پلیٹ فارم خرید و فروخت کے گروپس سے مربوط ہیں، سینکڑوں انفلوئنسرز، مختلف برانڈز کے لیے مارکیٹنگ کا ایک بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں۔
4- سیاسی میدان جنگ: سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس (ٹویٹر)، یو ٹیوب اور فیس بک، سیاسی گفتگو، پراپیگنڈا اور تحریکوں کا مرکزی کارزار بن گئے ہیں۔ روایتی الیکٹرانک میڈیا پر مبینہ سنسرشپ کے خدشے نے ان پلیٹ فارمز کو بہت مقبول بنا دیا ہے۔
منظر نامہ پل پل بدلتا رہتا ہے۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار اور رجحانات آج کے لیے درست ہیں، لیکن تیزی سے تبدیل بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ مارکیٹ میں ہر روز نئی ایپس آ رہی ہیں، نئے پلیٹ فارم جنم لے رہے ہیں اور صارفین کا رویہ ہر ماہ بدل رہا ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کے جہاں بہت سے فوائد ہیں، وہاں متعدد نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں سر فہرست سماجی و نفسیاتی نقصانات ہیں۔
1- جھوٹی معلومات اور سازشی نظریات کا فروغ :
* سوشل میڈیا جھوٹی خبروں، غلط معلومات اور سازشی نظریات کے تیزی سے پھیلاؤ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ بغیر کسی چیک کے شیئر ہونے والی خبریں عوامی رائے کو گمراہ کرتی رہتی ہیں، صحت کے حوالے سے غلط مشورے (جیسے ویکسینز کے بارے میں) پھیلاتی ہیں اور معاشرے میں عدم اعتماد پیدا کرتی ہیں۔
2- نفسیاتی صحت پر منفی اثرات:
* تشویش اور افسردگی: دوسروں کی "کامل" زندگیوں کے بارے میں مسلسل موازنہ، سائبر بُلینگ (سوشل میڈیا پر دھمکانا اور بد تہذیبی کرنا)، اور "فومو (FOMO - Fear Of Missing Out) کے جذبات ذہنی دباؤ، تشویش اور خود اعتمادی میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔
* احتساب کا فقدان: آن لائن ہراسانی خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کے خلاف سائبر بُلینگ کے واقعات عام ہیں، اس کے لیے مؤثر احتساب کے نظام کی عدم موجودگی، متاثرین کی نفسیاتی صحت کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
3- سماجی تقسیم اور پولرائزیشن:
* سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے الگورتھم، صارفین کو ان کی پہلے سے موجود رائے سے ملتے جلتے مواد ہی دکھاتے ہیں، جس سے معاشرے میں مختلف مکاتب فکر کے درمیان خلیج بڑھتی ہے۔ یہ مذہبی، سیاسی اور فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینے کا کام کرتا ہے۔
4- سیکیورٹی کے خطرات
1- ذاتی معلومات کی چوری اور پرائیویسی کا خدشہ:
* ہر پلیٹ فارم پر ڈیٹا لیک ہونے، ہیکنگ اور فشنگ کے حملوں کا خطرہ موجود رہتاہے۔بہت سے صارفین پرائیویسی سیٹنگز کا درست طریقے سے استعمال نہیں جانتے، جس کی وجہ سے ان کی ذاتی معلومات غلط ہاتھوں میں چلی جاتی ہے۔
2- سائبر کرائم:
* فشنگ: جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے صارفین سے بینک کی تفصیلات یا او ٹی پی کوڈز حاصل کرنے کی کوششیں عام ہیں۔
* بلیک میلنگ: نجی تصاویر یا معلومات کے بدلے رقم یا دیگر فوائد حاصل کرنے کے لیے بلیک میلنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔
* آئی ڈی کی چوری: کسی دوسرے شخص کی شناخت چُرا کر اس کے نام سے جعلی اکاؤنٹس بنائے جاتے ہیں۔
3- جنسی ہراسانی اور غلط استعمال:
*خواتین کو نامناسب مواد بھیجنے، ان کی تصاویر کے غلط استعمال کی دھمکیاں دینے جیسے واقعات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے بہت سی خواتین آن لائن اسپیس میں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔
سیاسی و قانونی پہلو
1- ریاستی نگرانی اور سنسرشپ:
* حکومت وقتاً فوقتاً سیاسی بے چینی یا سلامتی کے خدشات کے پیش نظر پلیٹ فارمز کو بلاک یا ان کی رفتار کم کر دیتی ہے۔ اس سے معلومات تک رسائی میں رکاوٹ اور ڈیجیٹل خلا پیدا ہوتا ہے۔
2- اینٹی ٹیررازم ایکٹ (پیکا) جیسے قوانین کا غلط استعمال:
* سوشل میڈیا پر تنقیدی آوازوں کو "دہشت گردی" یا "ریاست کے خلاف بغاوت" کے مبہم الزامات کے تحت نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے اظہار رائے کی آزادی سلب ہوتی ہے۔
3- پروپیگنڈا اور جھوٹا مواد:
* سیاسی جماعتیں اور مخصوص گروہ عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے منظم طور پر جعلی خبریں، ڈیپ فیک مواد اور پروپیگنڈا پھیلاتے ہیں، جس سے عوامی شعور متاثر ہوتا ہے۔
ثقافتی و اخلاقی مسائل
* مغربی اور دیگر غیر ملکی ثقافتوں کے مواد کے مسلسل سامنے آنے سے مقامی ثقافتی اقدار اور روایات متاثر ہو رہی ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل اس کی زد میں ہے۔
فحش مواد اور غیر اخلاقی سرگرمیوں تک آسان رسائی نوجوانوں کے اخلاقی شعور پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ مادی اشیاء، رئیسانہ طرز زندگی اور ظاہری خوبصورتی کو غیر ضروری اہمیت دی جا رہی ہے، جس سے معاشرے میں مادہ پرستی بڑھ رہی ہے۔
پاکستان میں سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ اگر ایک طرف یہ معلومات، رابطوں اور مواقع کا خزانہ ہےتو دوسری طرف جھوٹی معلومات، نفسیاتی مسائل، سائبر جرائم اور سماجی تقسیم کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
ان پھندوں سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینا، پرائیویسی کے تحفظ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور Critical Thinking کو اپنانا انتہائی ضروری ہے۔ محتاط اور ذمہ دارانہ استعمال ہی وہ کلید ہے جس کے ذریعے ہم ان طاقتور ٹولز کے فوائد سے مستفید ہو سکتے اور اس کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں۔
حکومت بمقابلہ سوشل میڈیا
پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے یا بند کرنےکے اقدامات تکنیکی بھی ہیں ،قانونی بھی اور انتظامی بھی۔ یہ اقدامات حکومت کی طرف سے قومی سلامتی، مذہبی حساسیت کے تحفظ یا نظم و ضبط کے نام پر کئے جاتے رہے ہیں۔ جیسے'پلیٹ فارمز کو عارضی یا مستقل طور پر بند کرنا۔
پاکستان میں ٹویٹر کو بار بار عارضی طور پر بلاک کیا جاتا رہا ہے، سب سے طویل بلاک 2024 میں فروری سے شروع ہوا اور کئی مہینوں تک جاری رہا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج اور "انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن" کے دوران اس پلیٹ فارم کو غلط طور پر استعمال کیا گیا۔
تنازعات اور تنقید
* ان اقدامات پر اکثر تنقید کی گئی کہ یہ درحقیقت سیاسی مخالفین، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی آواز دبانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
* معاشی نقصان: انٹرنیٹ بند ہونے یا سوشل میڈیا کی رفتار کم ہونے سے فری لانسرز، آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل معیشت کو بھاری نقصان ہوتا ہے۔
* بین الاقوامی دباؤ: ان اقدامات پر امریکا اور یورپی یونین جیسے بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
یوں سمجھئے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے تکنیکی بلاک، قانونی دباؤ اور انتظامی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات قومی مفاد میں ہیں، جبکہ تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ شہری آزادیوں کو سلب کرنے کا ذریعہ ہیں۔
مستقبل کیا ہے؟
2025میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا مستقبل، متضاد رجحانات کے درمیان ایک پیچیدہ کشمکش کا شکار نظر آیا، جو تیز رفتار ٹیکنالوجیکل ترقی، سخت قوانین، اور بدلتی ہوئی عوامی توقعات کا امتزاج ہے۔ درج ذیل عوامل شاید مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔
حکومت "قومی سلامتی" اور "معاشرتی ہم آہنگی" کے نام پر سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے موجودہ سائبر کرائم قوانین کو مزید سخت کر سکتی ہے۔
صارفین کے ڈیٹا کے سرورز قائم کرنے کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے ان کی کارروائیوں پر حکومتی نگرانی میں اضافہ ہوگا۔
حکومت پلیٹ فارمزسے "غیر مطلوبہ" مواد کو ہٹانے کے لیے زیادہ مؤثر طریقے اپنا سکتی ہے، جس سے آزادی اظہار مزید محدود ہو سکتی ہے۔
آرٹیفشل انٹیلی جنس کے ذریعے مقامی زبانوں (اردو، پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی وغیرہ) میں مواد کی تخلیق اور ترجمہ عام ہو جائے گا۔ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار ہونے والی ڈیپ فیکس اور جعلی مواد ایک بہت بڑا مسئلہ بن جائیں گے۔ ہر مواد مشتبہ لگے گا اور یہ صورتحال ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئے گی۔