مسئلہ کشمیر کی طرح فلسطین کا مسئلہ بھی دنیا کے طویل ترین عرصے سے جاری تنازعات میں سے ایک ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے مغربی ذرائع ابلاغ، دانشور، عسکری ماہرین اور عالمی رہنما اسرائیل فلسطین تنازع کو انتہائی پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے آرہے ہیں۔ جن واقعات کی بناء پر اس انسانیت سوز مسئلے نے جنم لیا۔ اس کا مختصراً جائزہ اور 2025میں کیا ہوا، نذرقارئین ہے۔ پہلے ارض فلسطین کا المیہ تاریخ کے آئینے میں ملاحظہ کریں۔
2؍نومبر 1917ء کو برطانیہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے برطانیہ میں موجود یہودی کمیونٹی کے اہم ترین رہنما لایونیل والٹر راتھس چائلڈ کو ایک خط لکھا، جو 67الفاظ پر مشتمل مختصر خط تھا لیکن جو کچھ اس میں لکھا گیا تھا اس نے ارض فلسطین کو ایک بھونچال سے ایسا دو چار کیا کہ، اس کے جھٹکے اب تک محسوس کیے جارہے ہیں۔خط میں برطانوی حکومت کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ فلسطین میں یہودیوں کے وطن کے قیام میں ان کی مدد کی جائے گی۔
اس خط کو ’’اعلان بالفور‘‘ (Balfour Declaration)کہا جاتا ہے ۔ یہ پہلی جنگ عظیم کا دور تھا ۔ اس وقت برطانیہ کے تخت شاہی پر شاہ جارج پنجم براجمان تھے، تاج برطانیہ کی حکومت مشرق سے مغرب تک ہر طرف پھیلی ہوئی تھی جس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اس وقت کی سب سے بڑی عالمی طاقت نے یہودیوں سے وعدہ کیا کہ وہ انہیں فلسطین میں وطن بناکر دے گی جو اس وقت سلطنت عثمانیہ کا ایک حصہ تھا اور جہاں فلسطینی عربوں کی آبادی 90فیصد تھی۔ 1923ء میں اس حوالے سے ایک برطانوی حکم نامہ تخلیق کیا گیا جس کی تائید لیگ آف نیشنز نے بھی کی جس پر 1948ء تک عملدرآمد کیا گیا۔1922ء میں سلطنت عثمانیہ کاخاتمہ ہوچکا تھا۔ اس عرصے کے دوران برطانیہ نے بڑے پیمانے پر یہودیوں کی نقل مکانی میں ان کی مدد کی۔
فلسطین میں تازہ وارد ہونے والے بہت سے یہودی یورپ میں جرمن نازیوں کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے وہاں سے راہِ فرار اختیار کررہے تھے، تاہم جب برطانوی حکام نے بڑے پیمانے پر یہودیوں کو بسانے اور فلسطین میں مقامی عربوں کی زمینیں جبراً ضبط کرکے انہیں یہود آبادکاروں کے حوالے کرنا شروع کیں تو فلسطینیوں کو اپنی آبادی کا توازن بگڑنے پر تشویش ہوئی۔ فطری طور پر فلسطینی مسلمانوں میں غاصب انگریز سامراج کے خلاف نفرت پیدا ہوئی اور انہوں نے علم بغاوت بلند کیا۔
یہ باغیانہ روش 1936ء سے 1939ء تک جاری رہی ۔ اپریل 1936ء میں نو تشکیل شدہ عرب قومی کمیٹی نے فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ عام ہڑتال کریں، ٹیکسوں کی ادائیگی روک دیں اور یہودی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اس طرح انہوں نے یہودیوں کی فلسطین نقل مکانی کے خلاف احتجاج کرنا شروع کیا۔ 6ماہ تک جاری رہنے والی اس ہڑتال کو قابض برطانوی حکومت نے بدترین جبر و تشدد کے ذریعہ کچلا۔
بڑے پیمانے پر فلسطینی گرفتار اور بطور سزا ان کے گھر مسمار کردیے گئے، گویا انہوں نے یہودیوں کو وہ راہ دکھائی جس پر آج بھی یہودی حکومت عمل کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کررہی ہے ۔ اس بغاوت کا دوسرا مرحلہ 1937ء کے آخر میں شروع ہوا ،جس کی قیادت فلسطینی کاشتکاروں کی مزاحمتی تحریک نے کی ،انہوں نے برطانوی استعماری فوج اور حکام کو نشانہ بنایا۔
اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے 1939ء کے وسط تک برطانیہ نے فلسطین میں اپنے 30ہزار فوجی اکھٹا کرکے فلسطینی دیہات پر فضائی بمباری، کرفیو کا نفاذ ، مکانوں کا انہدام، گرفتاریاں اور مقدمے چلائے بغیر فلسطینیوں کو موت کی سزا دینا معمول بن گیا۔
برطانوی حکومت نے یہودی آبادکاروں کے ساتھ مل کر مسلح گروپ تشکیل دیے اوربغاوت کچلنے والی فورس ’’اسپیشل نائٹ اسکواڈ‘‘ بنائی جو یہودی جنگجوؤں پر مشتمل تھی۔ یہودی آبادیوں میں خفیہ طور پر اسلحہ درآمد کیا جانے لگا اور اسلحہ ساز فیکٹریاں بنائی گئیں، جنہیں ’’ہگانہ‘‘ کہا جاتا تھا، جو بعد میں اسرائیلی فوج کا بنیادی حصہ بنے۔ بغاوت کے ان تین برسوں میں 5ہزار فلسطینی شہید ، 15سے 20ہزار زخمی ہوئے اور 5ہزار 6سو فلسطینیوں کو پابند سلاسل کیا گیا۔
یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کا برطانیہ اور امریکا کو فائدہ
پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ اور امریکا بھی سیاسی اور سماجی عدم استحکام سے دوچار ہورہا تھا، اس وقت یہودیوں کی بڑی تعداد یورپی کیمپوں میں زندگی بسر کررہی تھی ۔ امریکا اور یورپ دونوں اس خوف میں مبتلا تھے کہ یہودی اس خطے میں جمع ہوکر ان کے لیے مسائل پیدا نہ کر دیں، اس سےبچنے کے لیے انہیں مشرق وسطیٰ کی راہ دکھائی گئی۔
اس ضمن میں اسرائیلی صدر ٹرومین نے برطانوی وزیراعظم ایٹلی کو خط لکھ کر اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ یورپی کیمپوں میں پناہ گزین یہودیوں کو وہاں سے نکال کر فوری طور پر ایک لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں بسائے، بعدازاں1920ء کی دہائی سے یہودی پناہ گزینوں کو فلسطین بھجوانے کی تیاری تیز کردی گئ۔ پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد برطانیہ اپنے زیر تسلط مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر میں گہری دلچسپی لینے لگا تھا۔
برطانیہ کے علاوہ فرانس کی بھی خواہش تھی کہ مشرق وسطیٰ میں زیر زمین محفوظ تیل صرف مسلمانوں کے ہاتھوں میں نہ رہے۔ اس تناظر میں یہودی ریاست کا قیام ان کے لیے دوہرے فائدے کا باعث تھا۔ ایک طرف مشرق وسطیٰ کا امن خطرے میں رہتا، عرب ریاستوں کو امریکا اور یورپی ممالک کا دست نگر رہنا پڑتا، دوسری طرف تیل کی دولت پر عرب ملکوں کی مکمل اجارہ داری بھی برقرار نہیں رہ سکتی تھی،یوں فلسطین میں یہودیوں کی آبادی بڑھانے کا منصوبہ بروئے کار لایا گیا۔
1918ء کے اعداد و شمار کے مطابق فلسطین میں مسلمانوں کی آبادی 6لاکھ 66ہزار اور یہودی آبادی صرف 60ہزار تھی ،تاہم 1931ء تک فلسطین میں یہودیوں کو منتقل کرکے ان کی تعداد ایک لاکھ74ہزار610ہوگئی۔
یہودیوں کی تعداد مسلسل بڑھائی جارہی تھی لیکن ان کے قبضے میں آبادی کے لحاظ سے زمین کم تھی، لہٰذا نو تشکیل شدہ اقوام متحدہ نے 1947ء میں، جو اس وقت بھی مغربی سامراجی قوتوں کی آلہ کار تھی، قرارداد ’’181‘‘ کی منظوری دی جس میں فلسطین کو عرب اور یہودی ریاستوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
فلسطینیوں نے اس منصوبے کو مسترد کردیا، کیونکہ اس میں فلسطین کی تقریباً 56فیصد زمین مجوزہ یہودی ریاست کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس میں زیادہ تر زرخیز ساحلی علاقے شامل تھے۔ اس وقت فلسطینی مسلمان 94فیصد تاریخی فلسطین کے مالک تھے اور فلسطین کی کل آبادی کا 67فیصد تھے۔
1948ء کا ’’النکبہ‘‘ فلسطینیوں کی نسل کشی
فلسطین میں برطانوی استعمار کو حکمرانی کاجومینڈیٹ دیا گیا تھا، اس کی مدت 14مئی 1948ء کو ختم ہونی تھی لیکن اس سے پہلے ہی صہیونی نیم فوجی دستوں نے فلسطینی شہروں، قصبوں، دیہات کو تباہ کرنے اور یہودی ریاست کی سرحدوں کو وسیع تر کرنے کے لیے فوجی آپریشن کا آغاز کردیا تھا ،گو کہ اس وقت تک صہیونی ریاست کی پیدائش نہیں ہوئی تھی ۔ اسی دوران اپریل 1948ء میں بیت المقدس کے نواح میں واقع دیر یاسین نامی گائوں میں 100سے زیادہ فلسطینی مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کردیا گیا۔
بعد ازاں 5جون1967ء کو شروع ہونے والی 6روزہ اسرائیل عرب جنگ کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو ایک بار پھر جبری طور پر ان کے وطن سے بے دخل کیا گیا۔ دسمبر 1967ء میں کمیونزم کے فلسفے سے متاثرہ ایک نئی تنظیم ’’پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین ‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔
فلسطین کی آزادی کے حق میں مسلح جدوجہد کرنے والی ’’الفتح‘‘ کے بعد یہ دوسری بڑی تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ PELPمغربی کنارہ میں الفتح اور غزہ میں حماس کی حکمرانی کو غیر قانونی اور مسئلہ فلسطین کا حل ایک ریاست فلسطین کا قیام سممجھتی ہے۔ 1960ء اور 1970ء کی دہائیوں میں پاپولر فرنٹ اسرائیلی تنصیبات پر حملوں اور متعدد مسافر طیاروں کے اغواء کے واقعات کے حوالے سے بہت مشہور ہوئی تھی۔
طیارے اغواء کرنے والوں میں سابق فلسطینی پناہ گزین خاتون لیلیٰ خالد بھی شامل تھیں جنہوں نے 29؍اگست 1969ء کو روم سے تل ابیب جانے والی ٹی ڈبلیو اے کی پرواز 840اور 6؍ستمبر 1970ء کو اسرائیلی فضائی کمپنی ایل آل کی ایمسٹرڈیم سے نیویارک جانے والی فلائٹ 219کو اغواء کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان واقعات کی وجہ سے دنیا کو فلسطینیوں کی حالت زار کی طرف پوری طرح متوجہ ہونے کا موقع ملا تھا۔
1967ء ہی میں مقبوضہ مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی میں یہودی آبادکاروں کی رہائش اور دیگر ضروریات کی تکمیل کے لیے تعمیرات کا آغاز ہوگیا تھا۔ ان کو اسرائیلی شہریوں کی طرح تمام حقوق اور مراعات سے نوازا گیا تھا، جبکہ زمین کے اصل مالک فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج کے نرغے میں زندگی بسر کرنے کی اجازت دی گئ۔اور ہر قسم کی سیاسی سرگرمیوں اور شہری حقوق کے مطالبے سے روک دیا گیا۔
پہلا انتفاضہ1987-1993
دسمبر 1987ء میں پہلی بار فلسطینیوں کا صبر و ضبط کا بندھن اس وقت ٹوٹا جب فلسطینی مزدوروں کو لے جانے والی ایک کار کو اسرائیلی فوجی ٹرک نے قصداً ٹکر مار کر تباہ کردیا۔ اس واقعے میں چار فلسطینی شہید ہوئے تھے جس کے بعد بڑے پیمانے پر ہنگامے پھوٹ پڑے۔
فلسطینی تاریخ کا یہ پہلا ’’انتقاضہ‘‘ (پہلی بغاوت) تھا جس میں خاص طور پر فلسطینی نوجوانوں اور بچوں نے جان کی پروا نہ کرتے ہوئے اسرائیلی ٹینکوں اور سڑکوں پر سوار قابض فوجیوں کو پتھروں سے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
اس سنگ باری کے حوالے سے اسے ’’انتقاضہ الحجارۃ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اسی دوران حماس کی تحریک منظر عام پر آئی جو مصر کی جماعت اخوان المسلمون سے متاثر تھی، اس نے اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت کا آغاز کیا۔
اس تحریک کو کچلنے کے لیے اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع اسحاق رابن نے ’’ان کی ہڈیاں توڑ دو‘‘ کی پالیسی اختیار کی جس میں مقدمہ چلائے بغیر فلسطینیوں کو قتل کرنا، یونیورسٹیوں کی بندش، سرگرم کارکنوں کی جلا وطنی اور گھروں کو تباہ کرنا شامل تھا۔
اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے، سول نافرمانی اور ہڑتال کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران 1988ء میں عرب لیگ نے’’فلسطین تنظیم آزادی‘‘ کو فلسطینی عوام کی واحد نمائندہ تنظیم کے طور پر تسلیم کرلیا۔ فلسطینیوں کی مزاحمتی تحریک سے بین الاقوامی برادری میں یہ احساس ہوا کہ اس تنازع کا کوئی حل تلاش کرنا چاہئے۔
اوسلو معاہدہ اور فلسطینی اتھارٹی کا قیام
1993ء میں اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینیوں کی ایک عبوری حکومت ’’فلسطینی اتھارٹی‘‘ (PA)کا قیام عمل میں آیا،اسے مقبوضہ مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی میں محدود علاقے میں حکومت قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس معاہدے کے ساتھ ہی پہلے انتقاضہ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ معاہدے کے تحت اسرائیل کو مغربی کنارہ کے 60فیصد علاقے خطے کی زمینی اور آبی وسائل پر کنٹرول کا اختیار حاصل ہوگیا۔
فلسطینی اتھارٹی کے قیام کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ وہ مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی میں ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہوگا ، پہلی منتخب فلسطینی حکومت تشکیل دے گی لیکن یہ منصوبہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ فلسطینی اتھارٹی کے ناقدین اسے قابض اسرائیلی حکومت کا آلہ کار سمجھتے، ان کا خیال تھا کہ اسرائیل مخالف سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
قبل ازیں ناروے میں مختلف بیک ڈور چینلز سے رابطوں کے بعد اوسلو امن معاہدے کی راہ ہموار ہوئی تھی اور 1993ء میں اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کی صدارت میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ اس تاریخی موقع پر تنظیم آزادی فلسطین نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیل نے فلسطینی تنظیم آزادی کو فلسطینی عوام کی واحد نمائندہ جماعت کے طور پر تسلیم کیا اور فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن اس معاہدے میں بہت جلد دراڑیں پڑنے لگیں۔
اس وقت کے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر بنجامین نیتن یاہو نے اوسلو معاہدے کو اسرائیل کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ قراردیا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کی رفتار بڑھادی ۔4؍نومبر 1995ء کو ایک یہودی انتہا پسند کے ہاتھوں اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن کے قتل سے حالات مزیدخراب ہوگئے۔ اوسلو معاہدے کے دو سال بعد 1995ء میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے گرد الیکٹرانک باڑھ اور کنکریٹ کی دیوار تعمیر کی جس کے بعد منقسم فلسطینی علاقوں میں رابطے ممکن نہ رہے، گویا غزہ کے شہری ایک طرح سے محصور ہوکر رہ گئے۔
دوسرے انتقاضہ کا آغاز
اسرائیل کے خلاف دوسرا انتقاضہ 28؍ستمبر 2000ء کو اس وقت شروع ہوا جب انتہا پسند اسرائیلی اپوزیشن پارٹی ’’لیکوڈ‘‘ کے رہنما ایریل شیرون نے مسجد اقصیٰ کے کمپائونڈ کا دورہ کیا۔ اس وقت بیت المقدس کے قدیم شہر کے ارد گرد ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے، اس موقع پر فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں میں دو دن کے دوران پانچ فلسطینی شہید اور 200سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ان واقعات کے بعد بڑے پیمانے پر اسرائیل کے خلاف مسلح بغاوت کا آغاز ہوا۔
دوسرے انتقاضہ کے دوران اسرائیل نے فلسطین کی معیشت اور انفرا اسٹرکچر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، ان علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا جہاں فلسطینی اتھارٹی کی حکومت، اس کے ساتھ ہی یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے تعمیرات کا آغاز کیا، علاقے کو تقسیم کرنے کے لیے دیواریں تعمیر کیں، اس سے جہاں فلسطینیوں کا روزگار تباہ ہوا، وہیں وہ اپنی بچی کچھی زمینوں سے بھی محروم ہوئے۔
برسہا برس سے لاکھوں کی تعداد میں پوری دنیا سے یہودی آبادکاروں کو لاکر فلسطینیوں کی مسروقہ زمینوں پر بنائی گئی کالونیوں میں آباد کیا جارہا ہے، مغربی ممالک اس معاملے میں اسرائیلی حکومت کی مکمل ہمت افزائی کررہے ہیں جبکہ عرب دنیا اپنے مفادات کی بنا پر صرف مذمتی بیانات پر اکتفا کررہی ہے۔ فلسطینیوں کے لیے ا ن کی سر زمین روز بروز تنگ سے تنگ ہوتی جارہی ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کی آبادی بڑھانے کے لیے جنوبی افریقہ سے بھی سیاہ فام یہودیوں کو لاکر بسایا گیا، جس کی وجہ سے فلسطینی شہر اور قصبے بھی ’’بنتوستان‘‘(Bantustans) میں تبدیل ہوچکے ہیں، جیسا کہ جنوبی افریقہ میں وہاں کی نسل پرست حکومت نے ان سیاہ فاموں کے لیے الگ تھلگ بستیاں قائم کیں تھیں۔
اوسلو معاہدے پر دستخط کے وقت مغربی کنارہ بشمول مشرقی بیت المقدس میں ایک لاکھ 10ہزار سے کچھ زیادہ یہودی آبادکار رہائش پذیر تھے ،آج ان کی تعداد 7لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جو فلسطینیوں سے چھینی گئی ایک لاکھ ہیکٹرز سے زیادہ زمینوں پر آباد ہیں۔
فلسطین تنظیم آزادی کے رہنما یاسر عرفا ت کےانتقال کے ایک سال بعد دوسرا، انتقاضہ اس وقت ختم کردیا جب غزہ کی پٹی میں قائم 21اسرائیلی نو آبادیاں منہدم کرکے اسرائیلی فوجی اور 93ہزار یہودی آبادکار وہاں سے انخلا کر گئے۔ 25؍جنوری 2006ء کو فلسطینیوں نے عام انتخابات میں ووٹ ڈالے جس میں حماس کو اکثریت حاصل ہوئی ،تاہم بدقسمتی سے اس کے بعد فتح اور حماس کے حامیوں کے درمیان خانہ جنگی چھڑ گئی جو کئی ماہ جاری رہی۔
اس کے بعد حماس نے فتح کو غزہ کی پٹی سے بے دخل کردیا اور فلسطینی اتھارٹی کی اہم ترین سیاسی جماعت فتح نے مغربی کنارے کے باقی ماندہ حصوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ فلسطینیوں میں عدم اتحاد کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے جون 2007ء میں اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی زمینی، فضائی اور بحری ناکہ بندی کردی اور حماس پر دہشت گردی کا الزام عائد کیا۔
اسرائیل اب تک غزہ کی پٹی پر پانچ مرتبہ بھرپور فوجی حملے کرچکا ہے۔ 2008، 2012، 2014اور 2021کے بعد 7؍اکتوبر 2023ء کو حماس کی جانب سے اسرائیل پر کیے جانے والے غیر متوقع اور اچانک حملے کے بعد اسرائیل کے موجودہ وحشیانہ حملے تادم تحریر جاری ہیں۔ 29ستمبر 2025کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خاتمے، باقی ماندہ زندہ اور مردہ یرغمالیوں کی واپسی اور محصور علاقے میں انسانی امداد کی مکمل داخلے کی اجازت کے حوالے سےجنگ بندی کے سلسلے میں 20نکاتی تجاویز پیش کی تھیں جن میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ اسرائیلی فوج تین مراحل میں غزہ سے پیچھے ہٹ جائے گی۔
مصر،قطر اور ترکیہ کی مصالحانہ کوششوں کے بعد 13؍اکتوبر کو 30ملکوں کے نمائندے غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے لیے جمع ہوئے تھے تاہم اس تقریب میں اسرائیل اور حماس کی کوئی نمائندگی موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے یہ شکوک و شبہات سر ابھارنے لگے تھے کہ اس سربراہی اجلاس سے جنگ کے خاتمے اور اسرائیل کی جانب سے غزہ کا 18سالہ محاصرہ ختم کرنا شاید ممکن نہ ہو ۔ اور ایسا ہی ہوا ۔ اسرائیلی حملوں کے باوجود امریکا کا یہ اصرار ہے کہ جنگ بندی معاہدے پر پوری طرح عمل ہورہا ہے ، جب کہ ایسا نہیں ہورہا۔
2025؛ اعداد و شمار کی روشنی میں
7؍اکتوبر 2025کو غزہ پر اسرائیلی حملے کی دوسری برسی تھی۔ اس وقت تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 67ہزار فلسطینی شہید ہوچکے تھے جبکہ ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے تھے۔ شہداء میں کم ازکم 20ہزار بچے شامل تھے،گذشتہ 24ماہ میں ہر ایک گھنٹے پر اسرائیل ایک فلسطینی بچے کو موت کے گھاٹ اُتاررہا تھا۔
شہداء کی تعداد نامعلوم ہے، یہ زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ سرکاری اموات کی تعداد میں ان لوگوں کو شامل نہیں کیا گیا جو ملبے تلے معدوم ہوگئے یا لاپتہ ہیں،بہت سے معذور ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسیف نے اندازہ لگایا ہے کہ غزہ کے 3سے4بچے اپنے ایک ہاتھ یا پائوں یا دونوں سے محروم ہیں۔
125اسپتال اور کلینکس تباہ
اسرائیل نے غزہ کے تقریباً تمام اسپتالوں اور طبی مراکز پر حملے کیے۔ جنیوا کنونشن کے تحت اسپتالوں کو حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر کسی اسپتال پر حملہ کرنا ’’جنگی جرم‘‘ ہے۔
خوراک کے بجائے موت
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس تنظیم کے خوراک تقسیم کرنے کے مراکز پر اسرائیلی فوجیوں اور بی ایچ ایف کے سیکورٹی اہلکاروں نے 2600سے زیادہ فلسطینیوں کو اس وقت ہلاک اور 19ہزار سے زیادہ افراد کو زخمی کردیا جب وہ خوراک وصول کرنے کے منتظر تھے۔
کوئی بھی گھر محفوظ نہیں رہا
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کے مطابق اگست2025تک 92 فیصد تما م رہائشی عمارتیں اور 88فیصد تجارتی مراکز یاتو تباہ ہوچکے تھے یا انہیں نقصان پہنچا تھا۔ تمام بستیاں اور محلے صفحہ ہستی سے مٹادیے گئے،جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوگئے۔
اقوام متحدہ کے UNOSAT پروگرام نے سیٹلائٹ کے ذریعے حاصل ہونے والی تصاویر کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ 8جولائی2025تک غزہ کی پٹی میں 78فیصد عمارتی ڈھانچے تباہ ہوچکے ہیں۔ اگر کسی طرح تعمیر نو کا سلسلہ شروع بھی ہوا تو گمبھیر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
تعلیمی اداروں کی تباہی
تعلیمی نظام جنگ کے بوجھ تلے برباد ہوچکا ہے۔ 2300سے زیادہ تعلیمی ادارے، 63یونیورسٹی کی عمارتوں سمیت زمین بوس ہوچکے ہیں،جو باقی رہ گئے ہیں وہ بے گھر افراد کی پناہ گاہوں میں تبدیل کردیے گئے ہیں۔
فلسطینیوں پر بہیمانہ مظالم اور ان کو اپنے وطن میں اجنبی بنانے کا سلسلہ گذشتہ ایک صدی سے بھی زائد عرصے سے جاری ہے جس کی گواہی نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم دانشور اور اہل علم بھی دے رہے اور مقدور بھر اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بھی بلند کررہے ہیں۔ جیفری ڈیوڈ ساکس(Jeffery David Sachs)کا تعلق ایک یہودی گھرانے سے ہے۔
وہ ایک ممتاز امریکی دانشور، ماہر معاشیات، کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر اور سینٹر فار سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر ہیں ۔ دنیا بھر کی حکومت پالیسیوں کا مدلل، غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتے ہیں ۔ چند ماہ پیشتر انہیں قبرص کی فریڈرک یونیورسٹی میں لیکچر کے لیے مدعو کیا گیا تھا جہاں انہوں نے برطانوی دور استعاریت پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ’’اس وقت دنیا بھر میں جتنے بھی تنازعات اور مسائل دیکھے جارہے ہیں وہ سب برطانیہ کی وجہ سے ہیں۔
یہ بات پاکستان کے لیے بھی سچ ہے اور بھارت کے لیے بھی ۔ مشرق وسطیٰ کے حوالے سے بھی اس کی سچائی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ یہاں قبرص میں بھی جو مسئلہ ہے وہ بھی انگریز سامراج کی وجہ سے ہے۔ نائجیریا اور افریقا کے مسائل کے لیے بھی برطانیہ ذمہ دار ہے اور اس میں کوئی دورائے نہیں ہے، ایسا اس وجہ سے ہے کہ انگریز 200سال سے زیادہ عرصے تک تقریباً پوری دنیا میں حکمرانی کرتے رہے، وہ جہاں بھی گئے، مسائل اور تنازعات چھوڑتے گئے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس وقت فلسطین میں جو تباہی مچی ہوئی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ 1915اور1917کے دوران برطانوی سامراج نے اس ایک علاقے کو تین مختلف گروپوں کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
پہلے یہ وعدہ انہوں نےمصر میں موجود اپنے ہائی کمشنر میک موہن کے توسط سے عربوں سے کیا کہ، اگر تم ہمارا ساتھ دیتے ہوئے ترکوں( شریف مکہ حسین بن علی) کے خلاف جنگ کرو تو فلسطین تمہارا ہے، پھر انگریز سامراج نے فرانس سے ایک خفیہ ’’سائیکوس۔
پیکوٹ معاہدہ‘‘ کیااور فرانس سے کہا کہ، سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد فلسطین تمہارا ہوجائے گا، اس کے بعد 1917میں وہ ’’بالفور ڈکلریشن‘‘ لے آئے اور اعلان کیا کہ فلسطین یہودیوں کا وطن ہے، لہٰذا انگریزوں نے تین بار ایک ایسی سرزمین تین غیروں کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا جو خود ان کی نہیں تھی۔
جہاں تک کہ میں سمجھتا ہوں ایسا کرنے کے لیے انہوں نے بڑی جرات کا مظاہرہ کیا۔ اور اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہ سارے مسئلے سلجھ جائیں لیکن سچائی یہ ہے کہ تمام مسائل کی جڑ، جہاں سے سارے مسئلے کی ابتدا ہوئی وہ یہی (برطانوی سامراج) ہے‘‘۔