• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے گڑھی خدا بخش بھٹو میں شہید بینظیر بھٹو کی برسی کی تقریب میں شرکت کے بعد سکھر میں میڈیا سے گفتگو میں خواہش ظاہر کی کہ پاکستان مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلزپارٹی لمبی اننگز کھیلنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں کیا تمنائیں اور آشائیں پرورش پا رہی ہیں۔ ایسی خواہش پر پہلا رد عمل تو یہ ہوتا ہے کہ ’’تدبیر کند بندہ تقدیر زند خندہ‘‘ یا پھر سامان سو برس کا پل کی خبر نہیں۔ ویسے تاریخ کا مطالعہ کریں تو کسی حکمران نے بھی اپنی مدت پوری ہونے پر رخصت ہونیکا مظاہرہ نہیں کیا۔ سبھی کم از کم دو دہائی مسند نشیں رہنا چاہتے تھے لیکن ایسی لمبی اننگز کیلئے عوام کی خدمت اور ملک کے استحکام کیلئےجو اقدامات ناگزیر تھے انکو ترجیح نہیں دیتے تھے۔ دوسری طرف محلاتی سازشیں انکے اس ارادے میں مزاحم رہتی تھیں یا پھر پل کی خبر نہیں کا اپنا ایک کردار ہوتا تھا۔ کسی نے ایسا روڈ میپ مرتب نہیں کیا جو عوام کے دلوں میں پر حکومت کرنے کی بنیاد بنتا۔ پاکستان مسلم لیگ ن 1985ء سے وقفوں وقفوں سے برسر اقتدار رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی 1971 ءسے حکومت میں رہی ہے۔ 1988ءسے تو دونوں پارٹیاں اب تک باری باری اننگز کھیلتی آ رہی ہیں۔ یہ بھی چار دہائیاں تو بنتی ہیں۔ اس لمبی اننگز میں پنجاب میں مسلم لیگ ن کے کتنے سال ہیں۔سندھ میں پی پی پی کے کتنے اور اب 2008ءسے پی پی سندھ میں ایک تسلسل سے برسر اقتدار ہے۔ لمبی اننگز کھیلنے کے خواہش مند قائدین کی عمریں ملاحظہ ہوں تین بار وزیراعظم رہنے والے میاں محمد نواز شریف ماشاءاللہ 76 سال کے ہیں دو بار صدر مملکت رہنے والے جناب آصف علی زرداری 70برس کے دو بار وزیراعظم اور اتنی ہی بار وزیراعلیٰ پنجاب رہنے والے میاں شہباز شریف 74برس کے، 'شریک اقتدار رہنے والے مولانا فضل الرحمن 72 برس کے۔ لمبی اننگز کے ارادے کا انکشاف کرنیوالے اور دو بار قومی اسمبلی کے سپیکر رہنے والے ایاز صادق 71 برس کے۔ ان میں سے اکثر کی علالت کی خبریں بھی آتی رہتی ہیں۔ پاکستان میں اوسط عمر کے تناسب سے قومی سیاسی جماعتوں کے یہ معزز سربراہ کتنے سال مزید متحرک اور فعال رہ سکتے ہیں البتہ محترمہ مریم نواز 52 سال اور بلاول بھٹو زرداری 37سال کی عمر میں لمبی اننگز کھیل سکتے ہیں مگر ان کی طرف سے بھی یہ واضح نہیں کہ وہ اپنے ذاتی اقتدار کے استحکام کو پیش نظر رکھتے ہیں یا دونوں طرف سے دشمنوں میں گھرے پاکستان کے دوام کی فکر رکھتے ہیں۔ میں لمبی اننگز کے مخمصے میں آپ کو نیا سال مبارک کہنا تو بھول ہی گیا آج سے پاکستان کی عمر کا 79واں سال شروع ہو رہا ہے اب تک جن تجزیوں اور پیشن گوئیوں سے آگاہی ہوئی ہے کسی ایک برہمن نے بھی 2026 ءکو اچھا سال نہیں کہا ۔آج کل کے دنیا بھر کے حکمرانوں میں کسی کو بھی عالمی مدبر نہیں کہا جا سکتا۔ امریکی صدر ہوں، روس کے سربراہ، برطانیہ، فرانس یابھارت کے حکمران۔ کوئی بھی عالمی سطح پر امن ،خوشحالی ،بین الاقوامی مفاہمت کا لائحہ عمل نہیں دے رہا ۔سب اپنے اپنے دائرے میں گھوم رہے ہیں ۔اپنے داخلی مسائل کے یرغمال ہیں کوئی بھی اپنا ملک نہیں صرف اپنی حکومت چلا رہے ہیں ۔صرف چین کے صدر ایک پٹی ایک سڑک کے ذریعے کم از کم علاقائی استحکام کی کوششیں کر رہے ہیں مگر امریکہ یورپ ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں میں محصور ہے اس کے مختلف ادارے غربت میں کمی، موسمیات کی تبدیلی، زراعت، تجارت معیشت ،باہمی علاقائی تعاون، صحت ،تعلیم، آبادی میں اضافے پر رپورٹیں مرتب کرتے رہتے ہیں وارننگ بھی جاری کرتے ہیں۔ لیکن بھارت اسرائیل جیسی ہٹ دھرم قیادتوں اور ان کے سرپرستوں کی من مانیوں کے باعث انسانی زندگی کے وقار اور زمین کو لاحق خطرات کیلئے کوئی اجتماعی کوششیں نہیں ہو رہیں ۔ایک زمانہ تھا جب عالمی قیادتیں ایک دوسرے کے اشتراک سے غربت کم کرنے، آبادی میں اضافہ روکنے، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو فروغ دینے میں مثالی تعاون کرتی تھیں ۔ لمبی اننگز کھیلنے کی تمنائی دونوں پارٹیوں مسلم لیگ ن اور پی پی کا نقطہ نظر اور اہم ترین مسائل کے سلسلے میں عملی اقدامات دیکھیں سب سے پہلے غربت کی لکیر سے نیچے بڑھتی ہوئی بھیڑ کے اعداد و شمار پھر آبادی میں اضافہ، عالمی قرضوں کا بوجھ یہ تینوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ پہلے تو یہ جائزہ بھی لیں کیا مسلم لیگ ن وہی جماعت ہے جسکی بنیاد میاں محمد نواز شریف نے رکھی تھی جس سے پنجاب کے لوگ پہلی بار خوش ہوئے تھے کہ بالاخر پنجاب کو ایک قومی سطح کا قائد میسر آگیا ہے، خاص طور پر تاجر طبقہ بہت مطمئن ہوا تھا، کیا اب بھی اس کی پالیسیاں وہی ہیں اور کیا ابھی تاجر طبقہ ان سے خوش ہے۔ پھر پاکستان پیپلز پارٹی پر ایک ناقدانہ نظر ڈالیں کیا یہ وہی پارٹی ہے جس کی بنیادشہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1967ءمیں ڈاکٹر مبشر حسن کی کوٹھی میں لاہور میں رکھی۔1983 ء میں پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے 15فیصد پاکستانی بتائے جاتے ہیں اور ڈالر 15 روپے کا ۔آج غربت کی لکیر سے نیچے 44فیصد اور ڈالر 282 روپے کا۔ 2017ءمیں غربت کی لکیر سے نیچے 24 فیصد۔ 2020 ء تک یہی شرح رہتی ہے۔ افسوسناک صورت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن ہو یا پی پی پی یا 2018 ء میں پی ٹی آئی کی حکومت غربت کے خاتمے کیلئے منظم اور سنجیدہ کوشش کسی کی نظر نہیں آتی ہمارا عظیم دوست چین غربت مٹانے میں سب سے زیادہ کامیاب رہا ہے۔ 1990ء سے 2005ء کے درمیان اسکی مسلسل مساعی سے غربت کی شرح بہت کم ہو کر رہ گئی ہے لمبی اننگز کھیلنے کی خواہاں دونوں پارٹیوں کے لیڈر اب بھی غربت کے خاتمے کو اولین ترجیح قرار نہیں دیتے۔ غربت سے سب سے زیادہ متاثر دیہی علاقے ہیں جہاں ملک کی اکثریت رہتی ہے۔ ملک میں اپنے وسائل کو استعمال کر کے غریبی ختم کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ ترجیح ان تینوں پارٹیوں کی نہیں ہے آئی ایم ایف سے قرضے لئے جاتے ہیں ان قرضوں کی ادائیگی بھی غربت بڑھاتی ہے۔ غربت کے خاتمے کا سب سے موثر حل نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی ہے عالمی اداروں کے مطابق فوری طور پر 20لاکھ اسامیاں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مینوفیکچرنگ نہیں ہو رہی غیر ملکی کمپنیاں اور ہمارے ذہین نوجوان ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اسپیکر ایاز صادق سے میری گزارش یہی ہوگی کہ وہ اپنی اس لمبی اننگز کی تمنا سے مطلوبہ اقدامات پر قوم کو اعتماد میں لیں بلکہ بہتر ہوگا اپنی اس خواہش پر قومی اسمبلی میں ہر علاقے کے ارکان کو اظہار کا موقع دیں۔

تازہ ترین