تمام اہل وطن کوسال نو کی خوشیاں مبارک۔ سال 2025ء اپنی تمامتر تابانیوں اور قہر سامانیوںکے ساتھ رخصت ہوا۔ گویا آج کی دنیا نے اکیسویں صدی کا ایک چوتھائی گزار لیا۔ ایک سال ہی نہیں اس ربع صدی میں انسانیت نے کیا کھویا؟ کیا پایا ؟۔ ہر ذی شعور کو اس کا جائزہ لینا چاہیے، ساتھ ہی یہ سوچنا چاہیے کہ اگلے برس اور اگلی چوتھائی صدی کو پوری دنیا کیلئےکس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے؟ اس گلوبل ویلیج کے تمام باسیوں کوانسانی بھلائی و فلاح کی نئی سربلندیوں کیلئے غورو فکر اور تگ و دو کرنی چاہیے۔ جہاں تک ہمارے تضادستان کا تعلق ہے اس کے حالات پر ہمیں بہت زیادہ پریشان ہونے اور کڑھنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ یہاں کے حالات تبدیل ہوتے دکھائی نہیں دیتے کیونکہ جب تک ہماری مخصوص تعلیم اور مطالعۂ پاکستان کے راسخ العقیدہ موجود ہیںکوئی اس روایتی سماج کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔
ہمارا موجودہ ہائیبرڈ سسٹم بھی یونہی چلتا رہے گا اور اس درویش لوگ جیسے دل کے پھپھولے یونہی پھوڑتے رہیں گے۔ قیدی نمبر804اپنے کرموں کا پھل یونہی اڈیالہ میں چکھتا رہے گااورگوہرنایاب خان جیسی یوتھ یا جوانی بھی ملاقاتیں نہ ہوپانے کی پریشانی بھول کر یہی کہے گی کہ اب ہمارے بزرگوار کو اللہ اللہ ہی کرنا چاہیے۔لہٰذا کسی شہزادے شہزادی یا دور و نزدیک کے تعلق دار کو بیچ میں ڈال کر سلطنتِ خداداد کی سرحدوں سے باہر جابیٹھنےکے آزمودہ نسخےکو آزما یا اپنالیا جائے اور اسی کو فتح مبین کا نام دے لیاجائے تو بہترہے۔بات دور نکل گئی عرضِ حال تو محض اتنی تھی کہ اس مملکتِ خداداد کے حالات الحمد للہ جیسے ہیں ماشا اللہ ویسے ہی رہیں گے چاہے 2025 جائے یا 2026 اورستائیس آئے۔ اس لیے اے میرے نوجوانو تم زیادہ پریشان ہونا چھوڑدو، نہ کسی کے خلاف ہائو ہوکرو نہ اپنی محرومیوں کا رونا رئوو۔ ذرا سوچو حکیم الامت ،شاعرمشرق آپ کے اصل مرض کی کیا خوبصورت تشخیص کرگئے۔’’عصرِ حاضر مَلک الموت ہے تیرا، جس نے...قبض کی رُوح تری دے کے تجھے فکرِ معاش ‘‘ ۔ لہٰذا آرام سکون سے پہلے اپنی معاشی پریشانیوں کو دور فرمائیں ملک و ملت کہیں بھاگے نہیں جارہے 2025ء جاتے جاتے اپنے پیچھے جو پریشانیاں چھوڑ گیا ہے ان میں سے ایک تو امریکی صدر ٹرمپ ہیں جنہوں نے پوری دنیا میں ہلچل ہی نہیں مچارکھی ایک وختا ڈالا ہوا ہے اور یہ بلا 2026ء میں بھی یونہی مسلط رہے گی۔ اس سے رشیا یوکرین جنگ بندی ہو نہ ہو مگر غزہ کا کباڑہ ضرور کر کے جائیگا چاہے اسکے باسیوں کو ارضِ جارڈن میں بسانا پڑے یا صومالیہ لینڈ کو مزید آباد کرنا پڑے۔
البتہ ہمارے پاکستانیوں کیلئے یہ بندہ خوشگوار ہے کہ اس نے ہماری ہمسائیگی میں ابھرتی انڈین طاقت کے’’ بادشاہ‘‘ مودی کا ضرور ناک میں دم کررکھا ہے اور سات آٹھ طیارے گرائے جانے کا تذکرہ کرنا شاید وہ کسی بھی محفل میں نہیں بھولتا۔ اسے اصل غصہ اس بات پر ہے کہ مودی نے جنگ بندی میں اسکے عالمی رول کو تسلیم نہ کرتے ہوئے امن نوبل پرائز کیلئے اس کی نامزدگی نہیں کی،جسے وہ مودی کی نمک حرامی سمجھتا ہے۔سال2025ء جاتے جاتے اینڈ پر مسلم ورلڈ کو دو دھکے ضرور دے گیا ہے ان میں ایک تو بنگلہ دیش کی پہلی منتخب خاتون پرائم منسٹر خالدہ ضیاء کی رحلت ہے جسکے کارن اس کے بیٹے طارق رحمٰن کو بنگلہ دیش میں خوب پذیرائی مل رہی ہے یوں جماعتِ اسلامی کا چراغ گل ہو نہ ہو ٹمٹمانے ضرور لگا ہے۔ 9پارٹیوں کو ساتھ ملا کر بیچاری نے کیا کیا سپنے دیکھے تھے جو طارق رحمٰن کے ابھرنے کی صورت ٹوٹ رہے ہیں۔دوسری سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں نئی ان بن ہے جو یمنی حوثیوں کے حوالے سے ہے اور افسوسناک ہی قراردی جاسکتی ہے ۔اب امارات کے ساتھ الجھاؤ کا اصل فائدہ خطے میں اسرائیل کو حاصل ہوجائے گا جس کے یو اے ای سے سفارتی و تجارتی تعلقات کو غزہ ٹریجڈی بھی نقصان نہیں پہنچا سکی۔
ہمارے ملک کیلئے دونوں برادر ملک قابلِ محبت و احترام ہیں دونوں سے ہی ہمارے گہرے معاشی و اقتصادی مفادات وابستہ ہیں اور پھر لاکھوں کی تعداد میں ہمارے لوگ وہاں سے مال کماکر ہمارے زرمبادلہ میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، بھلا ہم کیسے ایک کی خاطر دوسرے کو ناراض کرسکتے ہیں۔
آج نیا سال نئی خوشیوں اور نئی امیدوں کے ساتھ طلوع ہوا ہے جسکا پوری دنیا کی طرح ہمارے لوگوں نے بھی بھرپور تمناؤں کے ساتھ استقبال کیا ہے اپنے تمام پڑھنے سننے والوں کو نئے سال 2026ء کی مبارکباد کے ساتھ پنجاب حکومت کا بھی شکریہ جس نے اس خطے پر چھائی پرمژدگی کومحدود حد تک سمجھا تو ہے یوں اپنے مایوس نوجوانوں کو کم از کم ہنسنے کھیلنے یا تفریح کے چند مواقع بخشنے کا اہتمام کیا ہے بالخصوص برسوں کے بعد اس سال یہاں بسنت منانے کی اجازت دی ہے بشرطیکہ ہمارے غیر ذمہ دار لوگ دھاتی ڈور کے ذریعے معصوم جانوں کو نقصان نہ پہنچائیں۔ موٹروے پر تیز رفتاری کے کارن اگر کوئی سانحہ یا حادثہ ہوتا ہے تو اسے روکنے کا بندوبست ہونا چاہیے نہ کہ موٹروے کو ہی بند کردیاجائے۔