سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک کے بانی سمیت 17 امریکی ارب پتی شہریوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ خیراتی اداروں کو عطیہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور ارب پتی وارن بوفے کی طرف سے اعلان سے پہلے ہی 57امیر ترین امریکی شہری اور خاندان اس مہم کے تحت اپنی دولت کا بڑا حصہ عطیہ کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔ اس وقت ارب پتی امریکی شہریوں کی تعداد 400سے زائد ہے جنکے مالیاتی اثاثوں کا اندازہ لگ بھگ 13 کھرب ڈالر ہے۔ گزشتہ دنوں دنیا کی دو امیر ترین شخصیات بل گیٹس اور وارن بوفے بھارتی ارب پتی تاجروں کو اپنی آمدنی فلاحی کاموں اور خیراتی اداروں پر خرچ کرنے کی ترغیب دینے کے مشن پر بھارت پہنچے تھے۔ میرے حساب سے دنیا کے مسائل خیراتی چیرٹی کاموں سے نہیں حل ہونیوالے ۔سرمایہ دارانہ نظام میںمعاشی ناہمواری ،غریبی اور بیروزگاری کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے یہی وجہ ہےکہ امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف تحریک چلانے والوں کا کہنا تھا کہ وہ ان 99فیصد عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں جو ایک فیصد مراعات یافتہ طبقے کے استحصال کا شکار ہیں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم غریبی اور بے روزگاری کے خلاف عملی اقدامات کرنے چاہئیں اور یہ کہ ان امیروں کو زیادہ ٹیکس دینا چاہیے۔ اس وقت ساری دنیا عالمی اقتصادی بحران کی لپیٹ میں ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس بحران کا آغاز امریکہ سے ہی ہوا تھا چنانچہ اس کیلئے اگر امریکہ کو کلی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ امریکہ کی معیشت کے نشیب و فراز کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی لڑ کھڑاتی معیشت نے دنیا کی معیشت کو متزلزل کر دیا ہے اور سچی بات تو یہی ہے کہ اس کا حل بھی اسے ہی نکالنا ہوگا اس وقت امیر ممالک میں دنیا کی کل 20 فیصدآبادی ہے لیکن یہ لوگ دنیا کے 80فیصد سے زیادہ وسائل استعمال کر رہے ہیں 20 اور 80کے تناسب میں بڑا تضاد ہے ترقی پذیر ممالک کے غریب بنے رہنے کا یہ ایک بڑا اور خاص سبب ہے کہ کسی مسئلے کو حل کرنے سے پہلے اس مسئلے کے پیدا ہونے کے اسباب کو سمجھ لینا چاہیے۔ آزاد منڈی میں سرمایہ کار کی سب سے بڑی فتح دولت کو پیدا کرنا ہے لیکن اس کامیابی کے بعد دوسرا سب سے بڑا وقوعہ جو عالمی طور پر پیش آیا وہ سماج میں نا برابری و نا ہمواری اور عدم مساوات تھا ۔تجارت و صنعت میں حکومت کی عدم مداخلت کا اصول دراصل تجارتی نقطہ نظر سے کوئی تجارت نہیں ہے اس کے منفی اور مثبت اثرات واضح اور صاف نظر آتے ہیں۔ صنعتی انقلاب نے مغربی ممالک میں دولت کا ڈھیر لگا دیا اسے ترقی کا تاریخی کارنامہ بھی کہا جا سکتا ہے اور یہی اس کا ظاہر ہے لیکن اس تاریخی صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ حقوق کی لڑائی، ہڑتال، اوقات کار و مزدوری کا معاملہ اور دولت کمانے کے نئے ہنر نے لوگوں کو تباہ و برباد بھی کر دیا حالانکہ تاجر طبقہ اسے مزدوروں کی اہلیت اور کارکردگی کی صلاحیت کہتا ہے لیکن ان تمام حالات نے عدم مساوات کی خلیج کو کافی گہرا کر دیا ہے۔
دنیا کے 27مالک کے لگ بھگ ایک چوتھائی افراد اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فری مارکیٹ سرمایہ دارانہ نظام نقائص سے پُر ہے، 23 فیصد کا کہنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام بُری طرح ناکام ہو چکا ہے اب واپس سوشلسٹ نظام کی طرف جانا ہوگا 50 فیصد کا کہنا ہے کہ ضابطے اور اصلاحات کے ذریعے سرمایہ دارانہ نظام میں موجود مسائل کو دور کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ میں قرضے کے بحران پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا سرمایہ داروں میں غیر یقینی کی فضا پائی جاتی ہے گزشتہ دنوں امریکی بازار حصص میں دو فیصد کی کمی دیکھی گئی جسکی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں میں معاشی مستقبل کے حوالے سے پائی جانیوالی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اسکے ساتھ یورپی مارکیٹوں میں اس سے بھی کہیں زیادہ مندی ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ ایشیائی مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان رہا تاہم ایک اچھی خبر یہ ہے کہ آج امریکہ کی سست شرح نمو میں کچھ تیزی کا امکان پیدا ہوا ہے ۔ـ آج ضرورت امریکہ اور مغربی ممالک کے اخراجات کو کم کرنے کی ہے ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے 20فیصد افراد اس وقت 80فیصد وسائل پر قابض ہیں اس عدم مساوات کو دور کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کےاخراجات میں کمی آئے امریکی اور مغربی سرمایہ داروں و ارب پتیوں کو سمجھنا چاہیے کہ دنیا کی معیشت کی اصلاح اپنی دولت کا بڑا حصہ یا آدھا حصہ خیراتی اداروں اور بھلائی کےکاموں اور چیرٹی پروگراموں سے نہیں ہوگی میں نے کہیں پڑھا ہے کہ غریبوں کی حالت بدلنے کا دعویٰ کرنے والے خود غریبی کے ذائقے سے نا آشنا ہوتے ہیں۔