• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بابا بلّھے شاہ نے اپنی ایک مشہور کافی میں زمانے کے الٹ پھیر کا ذکر کیا ہے۔بلّھے شاہ کا زمانہ تھا یا آج جھلّے شاہ کا زمانہ ہے ،زمانہ واقعی الٹ گیا ہے۔ بلّھے شاہ نے کہا ہے۔

کاں لگڑ نوں مارن لگے، چڑیاں جرّے ڈھائے

گھوڑے چُگن روڑیاں اَتے گدھوں خوید پوائے

زمانے میں اس قدر الٹ ہو رہا ہے کہ کوّے لگر بگڑ کو مارنے لگے ہیں اور چڑیاں اپنے سے بڑے جرّوں کو مارنے لگی ہیں گھوڑے جنہیں سبز چارہ ملتا ہے وُہ تو بیچارے روڑے کوڑے سے چگ رہے ہیں اور گدھ جو لاشیں اور ہڈیاں کھاتے ہیں ان کی موج لگی ہوئی ہے اور وُہ سبز چراہ گاہوں سے سیر ہو رہے ہیں واقعی زمانے میں تبدیلی آچکی ہے۔

یہ اس الٹے زمانے اور تبدیلی کا ہی اثر ہے کہ ملک سے فرار ہونے والے بھگوڑے خود کو بہادر کہلاتے ہیں حالانکہ مشکل میں آکر ملک سے بھاگنا بزدلی اور اپنے لیڈر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرنا بے وفائی کی انتہائی شکل ہے پھر بھی بہادر بھگوڑے اپنے فرار کی داستانوں اور زندگی میں پڑے ایک دوتھپڑوں کو نسیم حجازی کے ناولوں کے ہیرو کی طرح اپنی قربانیوں کے نشان کے طور پر بیان کرتے پھرتے ہیں۔ بلّھے شاہ کو جھلّے شاہ کے زمانے اور اس میں سچ کے انجام کا بھی علم تھا اس لئے فرماتے ہیں۔

سچیاں نوں پئے ملدے دھکّے، جھوٹھے کول بہائے

اگے ہوئے کنگالے بیٹھے، پچھلیاں فرش و چھائے

بلّھے شاہ کے زمانے میں بھی سچ بولنے والوں کو دھکّے کھانے پڑتے تھے اور جھوٹ بولنے والے خوشامدی بڑوں کی محفل کا حصہ بنتے تھے کنگلے، علم و دولت سے خالی، آگے آگے ہو کر بیٹھتے تھے اور بیک بنچر یاپیچھے بیٹھنے والوں کو فرش کے کونے میں جگہ ملتی تھی۔ آج جھلّے شاہ کے دور میں بھی کچھ نہیں بدلا آج کے بہادر بھگوڑے ، پچھلے دور میں مقتدرہ کے چمچے اور کانٹے تھے انہی کے کہنے پرنو کریاں لیتے، بغیر میرٹ کے بڑی بڑی تنخو اہیں پاتے اور مقتدرہ کی طرف سے سیاستدانوں، صحافیوں اور جمہوریت کیخلاف دی گئی کہانیاں کرپشن کےخلاف جہاد کے طور پر پیش کرتے تھے۔ اب یہ سب مانتے ہیں کہ ہم جھوٹے کاغذوں کی مدد سے جعلی کہانیاں بنا کر جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرتے رہے ہیں۔ دلچسپ امریہ ہے کہ کل تک جمہوریت پر تیر برسانے والے آجکل جمہوریت کے چیمپئن بنےہیں۔ واقعی’ الٹے ہور زمانے آئے‘، جمہوریت کے دشمن بھی یہی تھے اور آج کل جمہوریت کے سجن بھی یہی ہیں۔ کل تک یہ میڈیا کی آزادی کیخلاف تقریریں کیا کرتے تھے آزاد صحافیوں کو لفافہ کہہ کر اور جھوٹی کہانیاں سنا کر ان کا تمسخر اڑایا کرتے تھے ۔حامد میر کو گولیاں لگیں تو یہی صاحبان اسے پلاسٹک کی گولیاں کہہ کر مذاق اڑایا کرتے تھے ایک میڈیا مالک کو جیل بھیجا گیا تو یہ اس کے حق میںدلائل دے کر ثابت کرتے رہے کہ صحافیوں کا اصل مقام تو جیل ہے ،احمد نورانی کو مارپڑی تو کہتے تھے لڑکی کا چکر ہے صحافت کا مسئلہ نہیں، یہی وہ لوگ ہیں جوکہتے تھے میڈیا کی آزادی، ریاست کے مفادات سے بڑی تو نہیں، یہی بیان دیا کرتے تھے کہ آزادی بے لگام نہیں ہوتی۔ اب یہ سب بہروپئے میڈیا پر پابندیوں پر آنسو بہانے اور آہ و زاری میں شریک ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ انہیں تب بھی درست مانا جاتاتھا اور اب بھی درست مانا جائے، یہ تب بھی سچے تھے اور آج بھی سچے ہیں، یہ مقتدرہ کے ساتھ ہوں تو مقتدرہ اچھی ہوتی ہے اسکے ظلم اور پابندیاں حلال ہوتی ہیں یہ مقتدرہ کے خلاف ہو جائیں تو مقتدرہ بری ہوتی ہے اس کے ہر عمل کو ظلم اور اسکی ہر پابندی کو حرام قرار دیا جائے یعنی اصول ان کیلئے موم کی ناک ہیں جو ان کی مرضی سے اپنارخ بدل لیں۔ واقعی الٹے ہور زمانے آئے...‘‘

بہادر بھگوڑے جنرل باجوہ کو بھگوان اور فیض حمید کوبَلوان مانتے تھے۔ پھر ’’ابا جان‘‘ تبدیل ہو گئے تو وُہ میر جعفر ٹھہرے اور خود یہ سراج الدولہ بن گئے حالانکہ یہ تو میر جعفر کے تحفتہ الدولہ تھے۔ فیض حمیدبَلوان رہے مگر ان کے کورٹ مارشل کے دوران ایک یوٹیوبر کے جو راز کھلے ہیں وہ آنیوالے دنوں میں سامنے آکر رہیں گے کہ کس طرح اس بھگوڑے بہادر نے اپنے ہی لیڈر کے کیا کیا راز افشا کئے اور جب وہ لیڈر جیل میں گیا تو ایک سیاستدان اور ایک طاقتور سے ساز باز کر کے یہ کس طرح ملک سے دم دبا کر فرار ہوا اور اب اپنی بہادری کے قصّے بیچارے معصوم انصافیوں کو سنا کر انہیں لوٹ رہا ہے اور اپنے ڈالروں سے لندن میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ مگروہ اب بھی بہادر، اصول پسند، نہ بکنے والا اور انقلاب کے بعد کا ایک بڑا لیڈر بنا پھرتا ہے۔ یہ سب گرگٹ، موقع پرست ہیں رنگ اور اصول بدلنے میں ذرہ برابر وقت نہیں لگاتے بلّھے شاہ نے درست کہا تھا ’الٹے ہور زمانے آئے۔‘

جھلّے شاہوں کا حال بھی بلّھے شاہ والا ہے تب بھی ان کے سچ پر کبھی ٹائٹل تبدیل ہوتے تھے اور کبھی ’’یہ کمپنی نہیں چلے گی‘‘ پر لفافے کے خطاب ملتے تھے، اب بھی ٹائٹل تبدیل ہوتے ہیں نئی کتاب ’’نئے مہرے‘‘ کا ٹائٹل اب بھی بدلا گیا ہے مگر خیر سے اب کتاب تو دستیاب ہے۔ پہلے بھی جھوٹے قرار دیئے جاتے تھے اب بھی یہ اعزاز برقرار ہے مگر یہ ’’یوٹرن‘‘ بھگوڑے مختلف بہروپ بھرکے ہر بار ہیرو بننا چاہتے ہیں جبکہ بقول بلّھے شاہ یہ وہ اصلی ولن ہیں جنہوں نے اگلی صفوں پر قبضہ جما رکھا ہے۔ الٹے ہور زمانے آئے...

بہادر بھگوڑے جو مرضی کہانیاں سنائیں، سچ کو جھوٹ بتائیں،ہر روز بغاوت کرائیں یا انقلاب لائیں ،کبھی ٹرمپ سے امیدیں باندھیں یا کبھی بھارتی حملے کے فوائد بیان کریں انکی دو عملی اور جھوٹ بے نقاب ہو رہا ہے ۔دیس میں رہنے والے ہی اصل بہادر ہوتے ہیں، وہ جھلّے شاہ ڈٹ کر رہیں یا ڈر کر رہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہےوہ اہل وطن کے دکھ درد اور آسائش و آزمائش کے ساتھی تو ہیں ۔آپ ڈالر بھی کما رہے ہیں انتشار و افتراق بھی پھیلا رہے ہیں۔یہ ملک میں مصالحت اور مفاہمت کی کوشش کو نقصان پہنچا رہے ہیں ،خان کو ہر صورت میں جیل میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی ڈالروں کی دکان چلتی رہے خان باہر آگیا تو ان کے ڈالر اور ان کا بیانیہ دونوں ختم ہو جائیں گے۔

بلّھے شاہ یا جھلّے شاہ کی تنقید ہو یا تعریف وہ چھپنی نہیں چاہئےالبتہ بھگوڑے شاہ کو سرے سے کوئی حق نہیں کہ اپنے ہمراہیوں کو بقول انکے اندھے کنویں میں چھوڑ کر جانیوالے دور دیس بیٹھ کر کنویں سے نکلنے کے مشورے دیتے ہیں، پہلے خود کنویں میں پھینکا، خود فراری بن گئے اور اب جو کوئی کنویں میں پڑے کو نکالنے کی کوشش کرتا ہے اس سے لڑتے،بھڑتے اور اسکو طعنے دیتے ہیں، غدار اور ٹائوٹ قرار دیتے ہیں۔ واہ بھئی واہ آپ جب ٹاؤٹ تھے تب یہ اعزاز تھا اور آج آپ بھگوڑے ہیں تب بھی یہ اعزاز ہے باقی رہے جھلّے شاہ وہ تب بھی برے تھے آج بھی برے ہیں سچے بلّھے شاہ کے زمانے میں بھی فرش پر تھے آج بھی فرش پر ہیں،تاہم وہ تب بھی خوش تھے آج بھی خوش ہیں.....

تازہ ترین