رمضان المبارک کے پہلے روز غزہ سٹی میں فلسطینی خاندانوں نے اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے کے درمیان اجتماعی افطار کا اہتمام کیا۔
کھنڈرات کے بیچ لمبی میزیں سجائی گئیں جہاں خاندانوں نے کھانا شیئر کیا، دعائیں کیں اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا، پسِ منظر میں ہلکی سجاوٹ اور مذہبی نغمات بھی سنائی دیتے رہے۔
مقامی رہائشی محمد الدادا نے کہا کہ ہم نے اصرار کیا کہ اپنے تباہ شدہ گھروں کے سامنے ہی افطار کریں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نقصان اور غم کے باوجود حوصلے، ایمان اور کمیونٹی کے ساتھ جڑے رہنے کی علامت ہے۔
دوسری جانب المواصی کے علاقے میں خیموں میں مقیم بے گھر فلسطینی خاندانوں نے بھی انتہائی کسمپرسی کے عالم میں رمضان کا آغاز کیا۔
11 بچوں کے والد ولید الزملی جو اسرائیلی فوجی کارروائی کے بعد بے گھر ہو کر خیمے میں رہنے پر مجبور ہیں، انہوں نے بتایا کہ اس سال رمضان خوشیوں کے بغیر آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ سے پہلے ہم رمضان کا استقبال خوشی سے کرتے تھے، بچوں کے لیے مٹھائیاں اور خصوصی کھانے ہوتے تھے، مگر اس سال کوئی خوشی نہیں۔
ولید الزملی کے مطابق جس دکان پر وہ کام کرتے تھے وہ تباہ ہو چکی ہے، جس کے باعث وہ روزگار سے محروم ہو گئے، پہلی افطار کے لیے ان کی اہلیہ نے ایک فلاحی کچن سے کھانا حاصل کیا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اکثریت بے گھر ہو کر تباہ حال علاقوں یا خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
خوراک کی قیمتوں میں شدید اضافے اور محدود امداد نے بنیادی ضروریات کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے، گوشت اور مرغی کی قیمتیں جنگ سے پہلے کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔