• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سال 2025ءافواج پاکستان کو عالمی سطح پر اچھی شہرت دلانے کے علاوہ وطن عزیز سمیت دنیا بھر میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کیلئےقابل فخر قرار پایا، جسکی بدولت دیار غیر میں پیدا ہونیوالے پاکستانی نژاد بچے بھی پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کررہے ہیں۔ فرانس میں پیدا ہونیوالی پاکستانی نژاد نسل آج نہ صرف فرانسیسی معاشرے میں باوقار مقام رکھتی ہے بلکہ اپنے آبائی وطن پاکستان پر بھی فخر محسوس کرتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل میرا بیٹا علی چوہدری اور اس کی بہن، جو فرانس کی ایک معیاری بزنس یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ہیں، نے ایک دلچسپ گفتگو کا ذکر کیا۔ انکے پروفیسروں نے بڑی حیرت سےان سے پوچھا کہ چند برس پہلے تک تو بھارت یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ پاکستان معاشی طور پر آخری سانسیں لے رہا ہے، اور عالمی میڈیا میںبھی یہی تأثر ملتا تھا کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ اس زمانے میں پاکستان کی سابقہ عسکری قیادت کے بعض بیانات نےکہ’’ ہمارے ٹینک زنگ آلود ہوچکےہیں اور ان میں ڈالنے کیلئے تیل تک نہیں ‘‘ملک کے کمزور دفاعی وسائل کی تصویر پیش کی تھی۔لیکن پھر، اس سال مئی میں ہونے والی پاک بھارت مختصر جھڑپ کے بعد منظر نامہ یکسر بدل گیا۔ پروفیسروں نے حیرت کے ساتھ کہا کہ پاکستان نے نہ صرف بھارتی رافیل طیاروں کا سامنا کیا بلکہ انہیں مار گرایا، اور بھارت کو عسکری سطح پر غیر متوقع دھچکا لگا۔

ایک پروفیسر نے تبسم کے ساتھ کہا’’آپ تو جانتے ہیں، رافیل کا مطلب طوفان ہے۔ مگر آپ کے ملک کی مسلح افواج نے نہ صرف اس طوفان کا مقابلہ کیا بلکہ کئی طوفان زمین بوس بھی کردیئے... یہ کیسے ممکن ہوا؟‘‘یہ سوال سن کر میرے بچوں کو فخر محسوس ہوا، کہ ان کے سامنے آج پاکستان ایک نئے اعتماد کے ساتھ پیش ہو رہا ہے،ایک ایسا وطن جس پر وہ کھل کر فخر کرتے ہیں۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور ان کے رفقا کے علاوہ حکومت کا مکمل تعاون اور قوم کی دعائوں سے ممکن ہوا ، اگر چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کی چیف آف ڈیفنس فورسز بننے کے بعد عسکری خدمات کے علاوہ قومی اقدامات کا بغور جائزہ لیا جائے توان کا مقصد ملکی سلامتی و معیشت کو مستحکم کرنے ، بہتر طور پر ملکی سفارت کاری آگے لیجانے کے علاوہ ملکی خدوخال کی بنیادی اکائی کو درست کرنا ہے ،جس کے بعد انٹرنیشنل سطح پر یہ بات واضح ہو گئی کہ پاکستان اب وہ پاکستان نہیں رہا کہ جو چاہے جہاں اور جب چاہے منہ اٹھا کےپاکستان پہنچ جائے اور یہاں کی کاروباری منڈیوں پر قابض ہو جائے۔ اس مقصد کو حاصل کرنےکیلئے سب سے پہلے نیشنل ڈیٹا کی درستی کی ذمہ داری ایک انتہائی قابل افسر کے سپرد کردی گئی ہے، میری مراد’’چیئرمین نادرا‘‘ لیفٹیننٹ جنرل افسر منیر سے ہے جنہوں نہ صرف محکمے کو ملک دشمن عناصر سے پاک کیا بلکہ ایسی اصلاحات کیں کہ اب ملک کے علاوہ اوورسیز پاکستانی بھی دنوں میں اپنا نیشنل ڈیٹا ، شناختی کارڈ ، فیملی معلومات ، بچوں کی پیدائش کا اندراج اور فیملی میںسے کسی کی موت کا اندراج گھنٹوں میںکر سکتے ہیں۔ دنیا کے 26ممالک پاکستان نادرا کی کارکردگی سے متاثر ہو کراسکی اپنے ملکوں کیلئےسروس حاصل کرنے کےلئے کوشاں ہیں کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل منیر افسر کا شمار پاکستان کی مسلح افواج کے ان افسروں میں ہوتا ہے جو چوبیس گھنٹے صرف اور صرف ملک و قوم کیلئے صرف کرتے ہیں ان کے چھوٹے بھائی میجر جنرل شاہد منیر افسر بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دن رات ملک وقوم کیلئے سرگرم عمل رہتے ہیں اگر یہ کہا جائے کہ یہ انتہائی پروفیشنل سولجر ہیں تو غلط نہیں ہوگا ،یہی وجہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسزسید عاصم منیر کا یہ ویژن کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو پاکستان سے بے دخل کیا جائے یہ نادرا نیشنل ڈیٹا کی درستی کے باعث ممکن ہوا ۔اب بھی 45فیصد غیر ملکی پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں محل نما کوٹھیوں میں جعلی کاغذات کی بنیاد پر خریدی گئی جائیدادوں کے باعث مقیم ہیں صرف لاہور شہر کا سروے کریں تمام انتہائی مہنگے ترین علاقوں، مارکیٹوں میں غیر ملکی مقیم ہیں اور کاروبار پر قابض ہیں جو سول بیوروکریسی کے بعض افسران کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے یہ لوگ دوسرےصوبوں میں مقیم ملک دشمن عناصر کی مکمل سہولت کاری کرتے ہیں جس کا منہ بولتا ثبوت کوئٹہ سے کراچی بھجوائی گئی معصوم بچی کا واقعہ ہے۔ پنجاب میں مقیم ان غیر ملکیوں کی طرف سےمستقبل قریب میں سادہ لوح پنجابیوں کو استعمال کرنے کے قوی امکانات ہیں۔ حکومت کو عسکری سطح کی مانیٹرنگ سسٹم کو لانا ہوگا جو اہم قومی ایشوز کی براہ راست نگرانی کرے ۔

آج جب فرانسیسی پروفیسر پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہیں تو یہ اس نئے بدلتے ہوئے عالمی نقطۂ نظر کا اظہار ہے۔ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرنے لگی ہے کہ پاکستان کی عسکری صلاحیت صرف اسلحے یا آلات تک محدود نہیں، بلکہ اس میں تربیت، تجربہ، ذہانت اور حکمت عملی کا ایک گہرا نظام شامل ہے۔فرانس میں رہنے والی نئی پاکستانی نسل اس تبدیلی کو قریب سے دیکھ رہی ہےاور انہی تجربات کی بنیاد پر اپنے وطن کے بارے میں نہ صرف پُراعتمادہے بلکہ اپنے فخر کا اظہار بھی کرتی ہے۔

تازہ ترین