ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ بےقاعدہ نیند کے انداز ڈیمنشیا (یادداشت کی بیماری) کی ابتدائی علامت ہو سکتے ہیں، جس سے اس مرض کی بروقت شناخت اور آگاہی کی اہمیت مزید واضح ہو گئی ہے۔
جرنل نیورولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جن افراد کی سرکیڈین رِدھمز (جسمانی حیاتیاتی گھڑی) کمزور یا منتشر ہوتے ہیں، اُن میں ڈیمنشیا لاحق ہونے کا خطرہ زیادہ پایا گیا۔
سرکیڈین رِدھمز نیند، ہارمونز کے اخراج اور جسم کے دیگر اہم افعال کو منظم کرتے ہیں۔
اس تحقیق میں تقریباً 2 ہزار 200 افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر 79 سال تھی اور تحقیق کے آغاز پر ان میں سے کوئی بھی ڈیمنشیا کا مریض نہیں تھا۔
شرکاء نے تقریباً 12 دن تک ایک چھوٹا ہارٹ مانیٹر پہنا، جس کے ذریعے ان کی سرگرمی اور آرام کے پیٹرن ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے بعد 3 سال تک ان کی نگرانی کی گئی۔
اس دوران 176 افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص ہوئی، شرکاء کو ان کی سرکیڈین رِدھم کی مضبوطی کی بنیاد پر مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ کمزور رِدھم والے گروپ میں شامل 727 افراد میں سے 106 کو ڈیمنشیا لاحق ہوا، جبکہ مضبوط رِدھم والے گروپ میں شامل 728 افراد میں سے صرف 31 افراد اس بیماری کا شکار ہوئے۔
یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمزور سرکیڈین رِدھم رکھنے والوں میں ڈیمنشیا کا خطرہ تقریباً ڈھائی گنا زیادہ رہا۔
محققین کے مطابق مزید یہ بھی سامنے آیا کہ جن افراد کی روزمرہ سرگرمیوں کا عروج دوپہر 2 بجکر 15 منٹ یا اس کے بعد ہوتا تھا، ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ پایا گیا جن کی سرگرمیوں کا عروج 1 بج کر 11 منٹ سے 2 بج کر 14 منٹ کے درمیان تھا۔
محقق کے مطابق سرکیڈین رِدھم میں بگاڑ جسمانی عمل جیسے سوزش کو متاثر کر سکتا ہے اور نیند میں خلل ڈال سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دماغ میں ڈیمنشیا سے منسلک امائلائیڈ پلیکس بڑھ سکتے ہیں یا ان کے اخراج کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس امر کو اُجاگر کرتی ہے کہ نیند کے معمولات پر نظر رکھنا ڈیمنشیا کی ابتدائی روک تھام اور آگاہی کے لیے ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔