معروف برطانوی ماہر غذائیت ڈاکٹر ڈوئن ملر کا کہنا ہے کہ کیلے کے صرف مٹھاس پر توجہ دینا گمراہ کن ہے، یہ ایک بہترین پھل ہے جو کہ توانائی کا ایک مرتکز ذریعہ ہیں اور انہیں کہیں بھی لے جانا یا دوپہر کے کھانے کے ساتھ رکھنا بہت آسان ہوتا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ مٹھائیوں یا میٹھے مشروبات کے برعکس کیلے میں موجود شکر فائبر، پانی اور مائیکرو نیوٹرینٹس کے ساتھ جڑی ہوتی ہے، جو ہاضمے کے عمل کو سست کرتی ہے اور خون میں شوگر کی اچانک اور تیزی سے بڑھنے کو روکتی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں کیلے پر یہ تنقید بھی کی جا رہی ہے کہ یہ حد سے زیادہ میٹھا، نشاستہ دار ہوتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ڈوئن کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے کیلے پک جاتے ہیں ان میں شکر کی مقدار بڑھ سکتی ہے، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ فری شوگر نہیں ہوتی، اس لیے خاص طور پر ورزش سے پہلے یہ ایک مفید اضافہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا بڑی آبادیوں پر کی گئی تحقیق سے یہ پتہ چلا کہ کیلے سمیت ہر قسم کے پھل کھانا دل بہتر صحت اور مجموعی طور پر شرح اموات میں کمی کا باعث ہے۔ مزید برآں اس سے وزن میں اضافہ یا میٹابولک نقصان نہیں ہوتا۔ کیلا طویل عرصے سے فٹنس، دل کی صحت، بہتر ہاضمے اور فوری توانائی سے منسلک کیا جاتا رہا ہے۔
دریں اثنا چھلکے سمیت کیلے کھانے کے صحت کے فوائد، پوشیدہ نقصانات اور روزانہ کتنے کیلے کھانے چاہییں اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ کیلے کی طرح انکے چھلکے بھی صحت کے لیے مفید ہیں، اس میں کافی زیادہ فائبر ہوتا ہے، لیکن اس پر کیڑے مار ادویات کے اثرات ہوتے ہیں جبکہ سخت ہونے کے ساتھ کڑوے بھی ہوتے ہیں تو اس سے آنتوں میں تکلیف اور نظام ہضم میں خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک سے دو کیلے کھانا بہتر ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔