• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ورزش کے بعد دودھ پینے سے بڑھاپے میں ہڈیاں مضبوط ہوسکتی ہیں، تحقیق

ایک نئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ ورزش کے بعد دودھ پینا بڑھاپے میں ہڈیوں کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق ورزش کے بعد دودھ پینا معمر افراد کو جان لیوا فریکچر (ہڈی ٹوٹنے) سے بچانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

جیسے جیسے دنیا کی آبادی کی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے، پٹھوں کی مضبوطی اور ہڈیوں کی کثافت کو برقرار رکھنا ایک بڑا صحت کا چیلنج بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اوسٹیوپوروسس (ہڈیوں کا بھربھرا پن) کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

تاہم اس سے کہیں زیادہ افراد اوسٹیوپونیا سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 50 سال سے زائد عمر کے تقریباً 40 فیصد افراد کو اوسٹیوپونیا لاحق ہو سکتا ہے، جو ہڈیوں کے بھربھرے یا کمزور ہونے کا ابتدائی مرحلہ ہوتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق مسلسل اور باقاعدگی سے ورزش بالخصوص اس بیماری سے نبرد آزما ہونے کی ٹریننگ کو طویل عرصے سے عضلاتی و ہڈیوں کی بیماریوں کے خلاف ایک مؤثر طریقہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

لیکن اب چینی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بھرپور ایکسرسائز کے بعد ایک گلاس دودھ پینے کے معمول کو اپنا کر ہڈیوں کی کمزوری سے بچاؤ ممکن اور کافی موثر ثابت ہوسکتا ہے۔

سائنس دانوں  کے مطابق پروٹین کو طویل عرصے سے ہڈیوں کی صحت سے منسلک کیا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ کیلشیم کے جذب کرنے کے عمل کو بڑھانے میں مدد دیتا ہے، جو ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے نہایت ضروری ہے اور بڑھاپے میں گرنے کی صورت میں ہڈی ٹوٹنے کے خطرے کو کم کرتا ہے۔

یہ تحقیقی رپورٹ جرنل آف نیوٹریشن، ہیلتھ اینڈ ایجنگ میں شائع ہوئی ہے، جس میں گائے کے دودھ اور سویا دودھ کو با آسانی استعمال ہونے والے پروٹین ذرائع کے طور پر موثر قرار دیا گیا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 82 صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا گیا، جو ایسی کسی طبی حالت سے آزاد تھے جو ان کے پروٹین کے استعمال پر اثر انداز ہو سکتی ہو۔

تمام شرکاء نے آٹھ ہفتوں پر مشتمل ورزش کے پروگرام کو مکمل کیا، جس میں ہر ہفتے مزاحمتی اور توازن کی تربیت کے تین سیشن شامل تھے۔ جس کے بعد شرکا کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ 

جس میں صرف ورزش، ورزش کے ساتھ غذائی تعلیم، ورزش، غذائی تعلیم اور گائے کے دودھ کی اضافی مقدار اور ورزش، غذائی تعلیم اور سویا دودھ کی اضافی مقدار شامل کیے گئے۔ پہلے اور دوسرے گروپ کو کوئی اضافی غذائی انٹروینشن نہیں دی گئی اور وہ معمول کے مطابق اپنی غذا لیتے رہے۔

گائے کے دودھ والے گروپ کے شرکاء نے اپنی ورزش ختم کرنے کے ایک گھنٹے بعد 240 ملی لیٹر کم چکنائی والا دودھ پیا۔ سویا دودھ پینے والے شرکاء کو اس سے قدرے کم مقدار دی گئی۔ تاکہ دونوں گروپوں کو ہر سیشن کے دوران تقریباً 7 سے 8 گرام پروٹین حاصل ہو۔ 

ان دونوں گروپوں نے ہر تربیتی سیشن کے بعد 60 گرام ابلا ہوا میٹھا آلو بھی کھایا، تاکہ پروٹین کے ساتھ کاربوہائیڈریٹس کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ آٹھ ہفتے بعد تمام گروپوں میں تیز چلنے میں کافی بہتری نظر آئی۔ 

جس سے یہ پتہ چلا کہ ریگولر ایکسر سائز سے چلنے پھرنے جسمانی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ فرق گائے کا دودھ پینے والے افراد میں نظر آیا جنکی جسمانی صلاحیت کے ساتھ ہڈیوں کی مضبوطی بھی شامل تھی۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

صحت سے مزید