اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل اور دماغ کی صحت کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں، عام طور پر فلیکس سیڈز (السی) کو اومیگا تھری کا بہترین پودوں سے حاصل ہونے والا ذریعہ سمجھا جاتا ہے تاہم غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ غذائیں ایسی بھی ہیں جن میں السی کے بیجوں سے بھی زیادہ یا زیادہ مؤثر اقسام کے اومیگا تھری موجود ہوتے ہیں۔
چیا سیڈز (تخمِ داؤدی) غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں اور فلیکس سیڈز کے مقابلے میں فی گرام قدرے زیادہ اومیگا تھری (ALA) فراہم کرتے ہیں، اِنہیں پیسنے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے یہ استعمال میں بھی آسان ہیں۔
اخروٹ تمام خشک میوہ جات میں اومیگا تھری کا سب سے بڑا ذریعہ مانے جاتے ہیں، ایک مٹھی اخروٹ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند چکنائیاں اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتے ہیں۔
سویا بین پھلیاں فائبر اور پودوں سے حاصل ہونے والی پروٹین سے بھرپور ہوتی ہیں، ان میں اومیگا تھری کے ساتھ ساتھ اہم وٹامنز اور منرلز بھی پائے جاتے ہیں جو مجموعی غذائی توازن میں مدد دیتے ہیں۔
سالمن میں اومیگا تھری کی زیادہ طاقتور اقسام EPA اور DHA براہِ راست موجود ہوتی ہے جسے جسم فوری طور پر استعمال کر سکتا ہے، اومیگا تھری کی یہ قسم دل اور میٹابولک صحت کے لیے نہایت مفید سمجھی جاتی ہے۔
سارڈین سائز میں چھوٹی مگر غذائیت میں بھرپور مچھلی ہے۔
اس میں اومیگا تھری کے ساتھ ساتھ کیلشیئم، وٹامن بی 12 اور سیلینیئم بھی پایا جاتا ہے جو ہڈیوں اور اعصابی نظام کے لیے فائدہ مند ہے۔
ماہرین کے مطابق فلیکس سیڈز (السی) میں موجود اومیگا تھری (ALA) کو جسم میں EPA اور DHA میں تبدیل ہونا پڑتا ہے جو ہر فرد میں یکساں طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔
اسی لیے متوازن غذا میں پودوں اور مچھلی دونوں ذرائع سے حاصل ہونے والا اومیگا تھری شامل کرنا صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔