• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذیابیطس کے مریض سحری میں کس طرح کی غذا لیں؟

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

رمضان المبارک کو رحمت، برکت اور خود احتسابی کا مہینہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم ذیابیطس میں مبتلا افراد کی ذمے داری اس ماہ میں بڑھ جاتی ہے۔

سحری سے افطار تک طویل دورانیہ، نیند کے معمولات اور ادویات کے اوقات میں تبدیلی، نیز افطار کے وقت اچانک زیادہ کھانا خون میں شوگر کی سطح میں تیزی سے اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے، چنانچہ ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ روزہ رکھتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

طبی ماہرین کے مطابق متوازن غذا، باقاعدگی سے بلڈ شوگر کی جانچ اور ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے ذیابیطس کے مریض رمضان میں بھی اپنی صحت بہتر رکھ سکتے ہیں۔

سحری نہ کرنے یا صرف ہلکی پھلکی غذا پر گزارا کرنے سے شوگر کے اچانک کم ہونے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے، اس لیے سحری ایسی ہونی چاہیے جو دیر تک توانائی فراہم کرے اور شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دے۔

ماہرِ صحت ذیابیطس کے مریضوں کے خدشات کو کم کرتے ہوئے سحری کے لیے موزوں غذائی منصوبہ تجویز کرتے ہیں۔

طبی ماہر کے مطابق سحری میں جب روٹی بنائیں تو گندم کے آٹے میں تھوڑی مقدار میں جو کی شامل کریں اور اس کے ساتھ پروٹین کا مناسب حصہ بھی لازمی رکھا جائے۔

پروٹین کی ضروری مقدار پوری کرنے کے لیے انڈے یا چکن کا استعمال بہترین ہے، مزید برآں صحت مند چکنائی کا استعمال اور وافر مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ سحری میں تلی ہوئی، چکنی اور زیادہ مسالے دار غذاؤں سے پرہیز کریں اور میٹھی اشیاء کا سختی سے اجتناب کریں۔

مٹھاس کے قدرتی متبادل کے طور پر اسٹیویا کے پتے پیس کر مشروبات میں شامل کریں۔

طبی ماہر اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ خون میں شوگر کی سطح کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، ذیابیطس کے مریض سحری کے بعد، افطار سے قبل اور روزہ کھولنے کے بعد شوگر لیول ضرور چیک کریں تاکہ رمضان المبارک کے دوران صحت کو برقرار رکھا جا سکے۔

صحت سے مزید