• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قابو میں نہ آنیوالا ہائی بلڈ پریشر دماغ کو کیسے نقصان پہنچاتا ہے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو 

ہائی بلڈ پریشر یعنی کہ بلند فشارِ خون ایک خاموش مگر خطرناک بیماری ہے جو بظاہر علامات کے بغیر جسم کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، عام طور پر اس کے اثرات دل سے جوڑے جاتے ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بلند فشارِ خون دماغ کو بھی گہرے اور دیرپا نقصانات پہنچاتا ہے۔

دماغ پر ہائی بلڈ پریشر کے اثرات

دماغ اگرچہ جسمانی وزن کا صرف 2 فیصد ہے لیکن یہ جسم کی 20 فیصد خون کی فراہمی استعمال کرتا ہے، اسی لیے خون کی نالیوں کو پہنچنے والا نقصان براہِ راست دماغی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔

فالج (اسٹروک)

ہائی بلڈ پریشر خون کی نالیوں کو تنگ اور سخت کر دیتا ہے، اگر نالی بند ہو جائے یا پھٹ جائے تو فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں مستقل دماغی نقصان یا جسمانی معذوری ہو سکتی ہے۔

ذہنی کمزوری اور یادداشت کا متاثر ہونا

تحقیقات کے مطابق بلند فشارِ خون یادداشت کی کمزوری اور ڈیمنشیا کا سبب بن سکتا ہے خاص طور پر درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر مستقبل میں سوچنے، فیصلے کرنے اور ذہنی رفتار کو متاثر کرتا ہے۔

عارضی فالج (TIA)

یہ مختصر دورانیے کے دورے ہوتے ہیں جو مستقبل کے بڑے فالج کا خطرے کی گھنٹی سمجھے جاتے ہیں۔

دماغی ساخت میں تبدیلیاں

مسلسل ہائی بلڈ پریشر دماغ کی باریک شریانوں کو نقصان پہنچاتا ہے، سفید مادے (وائٹ میٹر) کو متاثر کرتا ہے اور دماغ کے سکڑنے، خاص طور پر یادداشت سے جڑے حصے کو نقصان پہنچاتا ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر گردوں کو ناکارہ بنا سکتا ہے اور آنکھوں کی بینائی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

بلڈ پریشر قابو میں رکھنے کے آسان طریقے

متوازن اور کم نمک والی غذاؤں کا استعمال کریں، روزانہ ورزش کو معمول بنائیں، ذہنی دباؤ میں کمی لانے کی کوشش کریں اور باقاعدہ بلڈ پریشر کی جانچ جاری رکھیں۔

ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا باقاعدہ استعمال

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ درمیانی عمر میں بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنا مستقبل میں فالج اور ذہنی کمزوری کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر دیتا ہے، اسی لیے بلند فشارِ خون سے متعلق اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور تجویز کردہ ادویات کا باقاعدگی سے استعمال کریں۔


نوٹ: یہ معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید