• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج سے بیس برس قبل میں پہلی مرتبہ تھائی لینڈ گیا، نومبر کا مہینہ تھا، سردی کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا، بس موسم ذرا سا خوشگوار تھا، زیادہ سے زیادہ آپ شام کو پورے بازوؤں والی قمیض پہن سکتے تھے۔ البتہ ’سرکاری‘ طور پر سردی کا آغاز ہو چکا تھا سو بازاروں میں جگہ جگہ سردیوں کے ملبوسات لٹکے ہوئے تھے جنکے ساتھ ’ونٹر گارمنٹس‘ کی تختی آویزاںتھی، لوگ بھی رات کو خواہ مخواہ سردی منانے کی غرض سے جیکٹیں چڑھا لیتے تھے۔ ان دنوں میں نے تھائی عوام کا خاصا ’توا‘ لگایا کہ یہ کیا جانیں سردی کیا ہوتی ہے، کبھی لاہور آئیں خوشبو لگا کر تو انہیں پتا چلے کہ لاہور کی سردیاں کیسی رومانوی ہوتی ہیں۔ کرما شاید اسی کو کہتے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں لاہور کی سردی ہم سے ایسے روٹھی ہے جیسے بریک اپ کے بعد محبوب ناراض ہوتا ہے، محبوب کے بارے میں تو پھر یہ گمان رہتا ہے کہ چاہے کہیں بھی جائے لوٹ کر واپس ہی آئے گا مگر لاہور کی سردی تو شاید ہماری زندگیوں میں اب واپس نہیں آئے گی۔ اور بات صرف لاہور تک نہیں رہی، راولپنڈی، اسلام آباد اور مری سے بھی آگے نکل گئی ہےاور کراچی تو کب کا آؤٹ ہو چکا۔ یہ کب اور کیسے ہوا؟ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ پچھلے بیس برسوں میں ہر سال گرمی کے ایک دن کا اضافہ ہوا ہے، گویا گرما کے بیس دن بڑھ گئے ہیں۔ بارش کے نوّے دن گھٹ کر ستّر رہ گئے ہیں لیکن نوّے دنوں کی مجموعی بارش سے زیادہ بارشیں اب اُن ستّر دنوں میں ہوتی ہیں۔ سرما کی بارشیں نومبر سے فروری، مارچ، اپریل میں منتقل ہو گئی ہیں، اسی لیے نومبر شروع ہوتے ہی لاہور میں اسموگ چھا جاتی ہے جبکہ سرما کی بارشیں کم ہو گئی ہیں اور گرمیوں میں بڑھ گئی ہیں اور یہی ملک میں سیلاب کی ایک وجہ بھی ہے۔لاہور میں جنوری کا پہلا ہفتہ ایسا نہیں ہوتا تھا جیسا اب ہے، سانس لیتے تھے تو منہ سے بھاپ نکلتی تھی، کمروں کے اندر بھی ہیٹر لگانے پڑتے تھے، صبح رضائی سے نکلنا عذاب لگتا تھا، کئی کئی دن تک دھوپ نہیں نکلتی تھی، سردی سے لوگ کپکپاتے پھرتے تھے اور اُن سردیوں میں اگر رات کو موٹرسائیکل پر نکلنا پڑتا تو یوں لگتا تھا جیسے بندہ برف کی سرنگ میں رینگ رہا ہو۔ مجھے یاد ہے بچپن میں جب نومبر کا مہینہ شروع ہوتا تھا تو گھروں میں الماریوں اور صندوقوں سے لحاف، کمبل اور اونی واسکٹیں نکالی جاتی تھیں، لحافوں کو چھت پر دھوپ لگوائی جاتی تھی تاکہ ان کی اکڑن ختم ہو سکے۔ اب یہ باتیں ماضی کا قصہ ہوئیں۔ اِس وقت لاہور میں درجہ حرارت سولہ ڈگری ہے، اسلام آباد میں پندرہ اور مری میں آٹھ، فقط چند سال پہلے تک لاہور میں درجہ حرارت ایک ڈگری تک چلا جاتا تھا۔ گزشتہ رات ہم لاہور کی سڑکوں پر پھرتے رہے، ارادہ تھا کہ باہر بیٹھ کر کچھ کھا پی لیا جائے، اسی بہانے پیروں کے قریب ہیٹر بھی لگا لیں گے، لیکن یہ خواہش بھی پوری نہ ہو سکی، سردی نے ہمارے کڑاکے ہی نہیں نکالے۔ ایک ذاتی افسوس یہ بھی ہے کہ جو لانگ کوٹ میں شنگھائی سے نہایت چاؤ کے ساتھ لایا تھا اسے کہاں پہنوں گا، کیونکہ موسم کا جو حال ہے اسے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے فروری میں پنکھے چلانے پڑیں گے۔ خیر، یہ کچھ زیادہ ہو گیا۔ لاہور میں، چند دن کیلئے ہی سہی، سردی کی ایک شدید لہر آئے گی، اُس میں ہم لاہوری اپنے شوق پورے کر لیں گے۔

مجھے تو یوں لگتا ہے کہ قدرت نے لاہوریوں سے اُن کی مبالغہ آرائی کا انتقام لیا ہے۔ وہ جو ہم دھند کے رومان میں ڈوب کر گانے گاتے تھے، وہی دھند اب ایک زہریلی چادر بن کر ہمارے پھیپھڑوں میں گھُس گئی ہے۔ پہلے سردی آتی تھی تو زندگی میں رومان واپس آ جاتا تھا، اب سردی آتی ہے تو ساتھ میں فیس ماسک، ایئر پیوریفائر اور کھانسی کے سیرپ لاتی ہے۔ پہلے دسمبر اور جنوری کی سردی پر شاعری کی جاتی تھی، اب اسموگ کے نوحے لکھے جاتے ہیں۔ اِس لاہور شہر میں جہاں کبھی باغات تھے وہاں اب کنکریٹ کی عمارتیں اور پلازے ہیں۔ درختوں کا قتلِ عام کر کے ہم نے سمجھا کہ لاہور، پیرس یا نیویارک بن جائے گا اور صرف لاہور ہی کیا، مری کی مثال لے لیں۔ مری جو کبھی سردیوں کا دارالحکومت کہلاتا تھا، اب وہاں برف باری سے زیادہ ٹریفک جام کی خبریں آتی ہیں۔ وہ مال روڈ جہاں کبھی خاموشی اور برف کی سفیدی کا راج ہوتا تھا اب وہاں شور، کچرا اور گندے نالے کی بدبو آتی ہے۔ ملکہ کہسار اب بیوہ کہسار ہے۔ بات پھر وہی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کوئی ایسی بلا نہیں جو صرف کتابوں میں لکھی ہے، یہ وہ حقیقت ہے جو اب ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے رہی بلکہ دروازہ توڑ کر اندر گھس چکی ہے۔ وہ جو بارشیں پہلے برکت بن کر برستی تھیں، اب وہ زحمت بن کر شہروں کو ڈبو دیتی ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں کی طرح ملک میں مون سون کی ترتیب بدل گئی ہے، جمہوریت کی طرح سردی کا دورانیہ سُکڑ گیا ہے اور مقتدرہ کی طرح گرمی نے اپنے پنجے اتنے گاڑ لیے ہیں کہ اب آٹھ مہینے تو ہم صرف سورج سے پناہ مانگ کر گزارتے ہیں۔

تھائی لینڈ میں جب میں نے ان لوگوں کا مذاق اڑایا تھا، تو مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایک دن مجھے اپنے شہر کا یوں مرثیہ لکھنا پڑے گا۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا ہم اپنے بچوں کو وہ سردی کبھی دکھا پائیں گے جس میں گاڑی کی کھڑکی کے شیشے پر جمی دھندپر محبوب کا نام لکھا جاتا تھا یا لاہور کے کُہرے میں لپٹے ہوئے کینٹ اسٹیشن سے گرما گرم چائے پی جاتی تھی یا الفلاح سنیما کے باہر سے نان ٹکی کھائی جاتی تھی؟ یا جین زی کیلئے سردی کا مطلب صرف ’ایئر کوالٹی انڈیکس‘ کا پانچ سو سے اوپر جانا ہوگا؟ اشفاق صاحب جنوری کی سردی کا کیا عمدہ نقشہ کھینچتے تھے: ”جنوری کی دھوپ ہو، آپ اپنے صحن میں بیٹھے مالٹے کھا رہے ہوں، سامنے والے گھر میں آپ کا وہ ہمسایہ ہو جس سے آپ کو خدا واستے کا بیر ہو، وہ چھت کی سیڑھیاں اتر رہا ہو اور آپ کو دیکھتے ہوئے اچانک اُس کا پاؤں پھسل جائے اور وہ لڑھکتا ہوا نیچے آ گرے، اُس لمحے جو خوشی آپ کو ملے گی اُس کا کوئی نعم البدل نہیں۔“ سو، ہم نے تو اُن سردیوں کے مزے لوٹ لیے جب مالٹے کی خوشبو اور جنوری کی دھوپ زندگی کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتی تھی، لیکن آنے والی نسلوں کیلئےہم نے صرف تپش اور دھواں چھوڑا ہے۔

تازہ ترین