’’پہلے قِصّہ سن لیجئے۔کہتے ہیں کہ ارب پتی عرب شیخ نے رولز رائس کار کمپنی سے رابطہ کیا اور کہا کہ دس دن کے بعد میری نوبیاہتا بیوی لندن آنیوالی ہے اور میںیہ چاہتا ہوں کہ اسکو نئی رولز رائس کار پر ایئرپورٹ سے ریسیو کروں۔ رولز رائس کی انتظامیہ نے شیخ سے کہا کہ ہمارے پاس تو گاڑی تیار نہیں ہوتی ہم آرڈر ملنے کے بعد گاہک کی خواہش کے مطابق اسے بناتے ہیں اور اس عمل میں کم از کم چھ ماہ لگ جاتے ہیں ۔شیخ امیر بھی تھا اور بارسوخ بھی، وُہ بضد رہا کہ نہیں مجھے دس دن کے اندر گاڑی چاہئے اور کہا کہ اس نئی گاڑی کیلئے وہ کوئی بھی قیمت دینے کو تیارہے۔ انتظامیہ کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی مگر انکے کسی دانش مند مشیر نے انہیں شیخ کی ناراضی سے ڈرایا اور انہیں نئی گاڑی شیخ کو دینے پر قائل کر لیا۔ دس دن بعد شیخ کی نوبیاہتا دلہن ہیتھرو لندن ایئرپورٹ پر اتری تو شیخ نے بیگم کو گاڑی میں بٹھایا اور فخر سے اسے خود ڈرائیو کرتے ہوئے ایئرپورٹ سے باہر نکلا دونوں دولہا دلہن گاڑی کی آرام دہ سواری پر نازاں و فرحاں جا رہے تھے کہ گاڑی ایئر پورٹ سے 9 میل دور جا کر رک گئی ،شیخ کے ہمراہ پروٹوکول کے عملے نے بہت کوشش کی مگر گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی شخ غصّے میں آگیا۔ کمپنی کی انتظامیہ کو بلایا گیا اور پوچھا کہ نئی گاڑی اور وہ بھی اتنی مہنگی، یہ 9 میل کے بعد رک کیوں گئی ہے؟ شیخ کی موجودگی میں گاڑی کا بونٹ کھولا گیا تو وہاں انجن ہی نہیں تھا۔ شیخ نے حیران ہو کر رولز رائس کی انتظامیہ سے پوچھا کہ انجن تو ہے نہیں یہ گاڑی چلی کیسے؟ منیجر نے ہاتھ باندھ کر کہا کہ یہ گاڑی انجن پر نہیں ساکھ پر چل رہی تھی۔ انجن تیار نہیں تھا مگر ہمیں اپنی ساکھ پر اعتبار تھا اور توقع کے مطابق یہ9 میل تو چلی ہے آپ کی خواہش تھی کہ ایئر پورٹ پر اس گاڑی کو استعمال کریں سووہ خواہش پوری ہوئی یہ ساکھ پر کچھ تو چلی مگر انجن نہ ہو تو ساکھ پرکتنی چل سکتی ہے۔‘‘
رانا ثناء ایک جہاندیدہ اور گرم و سرد چشیدہ سیاسی کارکن ہیں۔ مشکلات اور آزمائشوں میں بھی سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر چلتے ہیں ان کا جمہوریت اور سیاست پر ایمان بہت مضبوط ہے ، میں نے انہیں شدید ترین مشکل میں بھی کبھی شکستہ نہیں دیکھا۔ رانا ثناء اللّٰہ کی یہ تجویز ، کہ ملک کے 5 بڑے بیٹھ کر استحکام اور پائیدار ترقی کا کوئی راستہ نکالیں،انتہائی عمدہ ہے۔ رانا ثناء اللّٰہ صاحب کی ساکھ رولز رائس سے بھی بلند ہے مگر اس تجویز کا بھی انجن نہیں ہے کیونکہ عمران خان بطور وزیر اعظم بھی کسی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہ تھے اور اب بھی تیار نہیں ہونگے۔ دوسری طرف فیلڈ مارشل اپوزیشن سے ملنے کے روادار ہی نہیں ان دونوں کی ملاقات موجودہ حالات میں ناممکن ہے۔ نواز شریف خود چل کر عمران خان کے گھر بنی گالہ گئے تھے تو ملاقات ممکن ہوئی تھی، دوسرا اب کوئی نعیم الحق مرحوم کا متبادل بھی نہیں جو ماضی کی طرح عمران خان سے کھل کر بات کر سکتا ہو۔ پانچ بڑوں کی ملاقات ایک اچھی خواہش ضرور ہے مگر فی الحال اس پر عمل کا کوئی امکان نہیں۔ گفتگو کا آغاز تو پارلیمان سے ہی ہونا چاہئے آگے چلیں تو ملاقاتیں بھی ممکن ہو جائیں گی مگر پہلے جمود تو ٹوٹے ....نواز شریف کے بعد رانا ثناء اللّٰہ وہ واحد نونی رہنما ہیں جو سیاسی ذہن کے ساتھ سوچتے ہیں اور اپنے دل کی بات اپنے لیڈروں کے سامنے کھل کر کہنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں، نون میں کسی کو انکی وفاداری پر شک نہیں اس لئے وہ اختلاف بھی دھڑلے سے کر لیتے ہیں۔ رانا ثناء اللّٰہ نے موجودہ حکومتی تکون کے سامنے بارہا یہ کہا ہے کہ اس تکون میں سے ایک بھی لائن گری تو ساری تکون ہی فارغ ہو جائیگی۔ تکون سے انکی مراد مقتدرہ، نون اور پیپلز پارٹی ہے، مقتدرہ نے نون اور پیپلز پارٹی کو فارغ کیا تو مقتدرہ کمزور ہوجائیگی اور اگر نون اور پیپلز پارٹی میں سے کسی نے مقتدرہ سے اتحاد توڑنے کی کوشش کی تو وہ بھی فضا میں معلق ہو کر رہ جائیگی۔ اس لئے وُہ حکومتی تکون کے تین بڑوں کے سامنے بارہا اپنا یہ قول دہرا چکے ہیں کہ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا اور ملکر چلنا ہے ورنہ اپوزیشن سب کو کھا سکتی ہے اور بقول ان کے ملک کو مستحکم رکھنے کیلئے اس تکون کا مضبوط رہنا اور لمبے عرصے تک نظام کو چلانا ضروری ہے۔
ساکھ اور انجن کے حوالے سے مقتدرہ ہمیشہ سے پاکستانی ریاست کا انجن رہی ہے مگر آج کے دور میں یہی انجن بیرونی حملوں کی زد میں ہے اندرونی دشمن بھی اس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، ابھی تک تو ساکھ کے ہی سہارے حکومتی گاڑی چلی جارہی ہے لیکن اگرگاڑی کے اندر انجن مضبوط نہ ہوا تو ساکھ زیادہ دیر نہیں چلتی گاڑی 9 میل چل کر رک جاتی ہے ۔ اس لئے ریاستی تکون کے تینوں کو نوں اور تینوں لائنوں کا اکٹھے رہنا ضروری ہے۔ رانا ثناء اللّٰہ اور نواز شریف اس حوالے سے ہم آہنگ لگتے ہیں گزشتہ دنوں محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی پر اسپیکر ایاز صادق، رانا ثناء اللّٰہ خان اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری پر مشتمل ایک نونی وفد نوڈیرو پہنچا یہ غیر معمولی خیر سگالی دورہ بظاہر صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو سے اظہار یکجہتی اور محترمہ کیلئے خصوصی دعا کیلئے کیا گیا تھا مگر سیاسی طور پر نون اور پیپلز پارٹی کے لمبے عرصے تک اکٹھے چلنے کا ایک نیاوعدہ یا نیا ’’معاہدہ وفا‘‘ تھا ۔اس دورے کو اس تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہئے کہ نئے صوبوں اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی کے حوالے سے نئی افواہوں میں کبھی پیپلز پارٹی تو کبھی نون کو فارغ کرنے کی سازشوں کی کہانی سنائی جاتی ہے۔ نیا ’’معاہدہ وفا‘‘ دراصل ان سازشوں اور افواہوں کا توڑ ہے اور اس زبانی معاہدے سے ہرکس و ناکس کو باخبر کرنا مقصود ہے کہ ان دونوں جماعتوں میں کوئی بڑا اختلاف نہیں اور سب اکٹھے ہی چلیں گے۔اکٹھے چلیں گے تو ساکھ برقرار رہے گی ،انجن بھی چلے گا تو گاڑی دوڑے گی وگرنہ ماضی کی طرح توڑ پھوڑہوئی تو رولزرائس بھی 9میل بعد کھڑی ہو جاتی ہے ۔
پاک بھارت جنگ سے پہلے پتھروں سے بھرے ٹرالے کی تمثیل درست لگتی تھی مگراب تو ہم عالمی ساکھ کےاعتبار سے رولز رائس بنے ہوئے ہیں، صدر ٹرمپ ہماری گاڑی یعنی ہماری طاقت کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتا۔ مشرق وسطیٰ میں ہم ہر معاملے میں مشوروں میں شریک ہیں پاکستان کو کونے میں پھینکنے کی کوششیں ناکام ہو چکیں ۔ہم سینٹر اسٹیج پر ہیں رولز رائس بھی ہے ساکھ بھی ہے بس معاشی انجن کی کمی ہے کہیں سے تیل اور گریس پڑ گئی معاشی انجن کا خزانہ اور بھرا تو گاڑی فراٹے بھرے گی البتہ جو غلطی ماضی میں ہوتی رہی اگروہ والی غلطی پھر ہوئی تو رولز رائس 9میل چل کر ناکارہ ہو کرکھڑی ہو جائیگی۔ ماضی کے وہ متنازعہ سیاسی منصوبے جن میں نئےصوبوں کا قیام، اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی سے چھیڑ چھاڑ رولز رائس کی پہلے رفتار کو نقصان پہنچائیں گے اور پھر آپس کی لڑائیاں گاڑی کو فراری جیسی اسپیڈ کی بجائے پسنجر جیسی رفتار میں تبدیل کر دیں گی۔ اتفاق رائے اور قدموں کا ناپ تول کر چلنا ہی سیاسی گاڑی کو مستقل چلاتا ہے۔ جلدی، زبردستی اور خود کو درست سمجھنے کی حکمت عملی رولز رائس ہو یا فراری دونوں کیلئے دوڑنا ناممکن بنا دیتی ہے۔ پانچ بڑےاکٹھے بیٹھیں نہ بیٹھیں مگرنئے نئے تجربات سے گریز کریں صرف ضلعی سطح پر بلدیاتی نظام کی بحالی کردیں رولز رائس کی رفتار پکڑی نہیں جاسکے گی۔