متحدہ عرب امارات میں جاری انٹر نیشنل لیگ ٹی ٹوئنٹی کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ کا پاکستان سے گہرا تعلق ہے۔1990میں پاکستان کے دورے میں نیوزی لینڈ کی جانب سے دو ٹیسٹ اور تین ون ڈے انٹر نیشنل کھیلنے والے وائٹ کا انٹر نیشنل کیئریئر وسیم اکرم اور وقار یونس کی بولنگ نے ختم کیا۔
2012میں ڈیوڈ وائٹ نے کرکٹ نیوزی لینڈ کے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے مائیک ہیسن کو پہلی بار قومی ٹیم کا کوچ بنایا وہ کہتے ہیں کہ ہیسن پاکستان کرکٹ کو بھی فائدہ پہنچائیں گے۔
تین سال قبل انہوں نے آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں انتظامی امور سنبھالے، ان کا کہنا ہے کہ انٹر نیشنل ٹورنامنٹس کی وجہ سے لیگ کو ونڈو کے چیلنجوں کا سامنا ہے اس کے باوجود دنیا کے بہترین کھلاڑی اس میں شریک ہیں۔ہماری کوشش ہے کہ لیگ میں سعودی عرب اور کویت کی سرمایہ کاری بھی آئے اور ٹیموں کا بھی اضافہ ہو۔
انھوں نے کہا ہم سعودی عرب اور کویت کے ساتھ ایک معاہدہ کرنے جا رہے ہیں جس کے تحت ان کے کھلاڑی بھی ٹیموں کا حصہ ہوں گے۔ کچھ افریقی ملکوں کے کھلاڑیوں کو بھی موقع دے رہے ہیں۔ عرب ملکوں میں اس لیگ سے کرکٹ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔
شارجہ اسٹیڈیم میں جنگ کو خصوصی انٹر ویو میں ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ پاکستان کے چھ کھلاڑی فخر زمان، نسیم شاہ، عثمان طارق، حسن نواز اور ظفر گوہر ڈیزٹ وائزر ٹیم کا حصہ ہیں۔
انھوں نے کہا کھلاڑیوں کو لینے کا اختیار ٹیموں کی انتظامیہ کے پاس ہے ہم اس میں مداخلت نہیں کرسکتے، لیکن پاکستان میں اس سال جیو سوپر یہ ٹورنامنٹ دکھا رہا ہے اس لیے ٹورنامنٹ کو پاکستانی شائقین میں زبردست پذیرائی ملی ہے، براڈ کاسٹر نمبر غیر معمولی ہیں۔
ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ میں تین سال سے یہاں کام کر کے انجوائے کر رہا ہوں اس لیگ کو پروفیشنل انداز میں کروا کر اس خطے میں کرکٹ کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے ونڈو میں کچھ مشکلات حائل رہی ہیں اس کے باوجود ہمارے پاس کوالٹی کھلاڑی ہیں حالانکہ دنیا میں دو اور لیگز بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔
سابق کیوی پلیئر کا مزید کہنا تھا کہ ہماری سہولیات بہت اچھی ہیں تین ورلڈ کلاس گراونڈز ہیں اس لیگ سے ماراتی کرکٹ کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی کھلاڑیوں کو ایکشن میں دیکھنا چاہتے ہیں، پاکستانی کرکٹرز کا لیگ میں بڑا کردار ہے اور اگلے سالوں میں پاکستان کی نمائندگی بڑے پیمانے پر ہوگی۔
ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ ایک ٹیم 8 غیر ملکی، دو اماراتی اور ایک ایسوسی ایٹ ملک کے کھلاڑی کی شرکت سے منفرد انداز میں تجربہ کیا گیا ہے، اس لیگ سے آئی سی سی کے ایسوسی ایٹس ملکوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ امید ہے کہ ٹیموں میں اگلے سال مزید پاکستانی آئیں گے، آٹھ غیر ملکیوں سے متحدہ عرب امارات کی کرکٹ کو فائدہ ہو رہا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ کہ سعود ی عرب اور کویت میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے میں بھی مدد دیں دیں گے، 2012 میں جب میں نے مائیک ہیسن کو نیوزی لینڈ کا ہیڈ کوچ بنایا تو لوگ کہنے لگے یہ کونسا مائیک ہے، لیکن کرکٹ ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ان لوگوں کا تقرر کروں جو واقعی اس عہدے کے اہل ہیں۔ اکثر لوگ بڑے کھلاڑیوں کو بڑی ٹیموں کا کوچ بنا دیتے ہیں۔
انھوں نے کہا مائیک ہیسن بہت آرگنائز اور کرکٹ سمجھنے والے زبردست کوچ ہیں۔وہ اچھے سلیکٹر ہیں اور کرکٹ کی باریکیوں کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کرکٹ کو بلندی پر اس لیے پہنچایا کہ وہ اپنی انا کو سائیڈ پر رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان نے ان کا تقرری کر کے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے پاکستان کی کوچنگ چیلنج ہوتی ہے اور مائیک اس چیلنج کو سامنے رکھ کر اچھا کام کر رہے ہیں۔
ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ میری مائیک ہیسن سے ایشیا کپ کے دوران ملاقاتیں ہوئیں، ہم نے ساتھ گالف بھی کھیلی۔ پاکستان ایشیا کپ جیت سکتا تھا۔ وہ پاکستان کے لیے اچھا کام کر رہے ہیں میں ا ن کی محنت اور کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں شاندار سہولتیں ہیں جس سے لیگ میں شریک کھلاڑیوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ ہم اگلے سال ایسی ونڈو میں یہ ٹورنامنٹ کرائیں گے جس میں زیادہ ایشیا ئی کھلاڑی شرکت کریں گے۔ اماراتی کرکٹ کو اس لیگ سے فائدہ ہو رہا ہے امارات نے پہلی بار ایشیا کپ کے لیے کوالیفائی کیا۔
ڈیوڈ وائٹ نے کہا غیر ملکی اسٹارز کے ساتھ انہیں فائدہ ہو رہا ہے۔ اس لیگ سے سعودی عرب اور کویت کو بھی فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جائے گی، اس وقت پلان نہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان میں بھی لیگ کے میچ کروانے کا سوچا جائے، ہمارے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اچھے روابط ہیں۔