• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس وقت مسلم لیگ نون سب سے بڑی حکمران جماعت ہے۔ نونی ہی وزیراعظم اور نونی ہی وزیراعلیٰ پنجاب ہے، گویا نونی سیاست اور اس کے اندرونی و بیرونی ناک نقشہ کو سمجھنا ضروری ہے۔ نونی لیڈروں کی سوچ کیا ہے، اس کی ناک کیسی ہے اور آگے نقشہ کیا بنے گا؟نقشے کی ابتدا 2024ء کے الیکشن سے کرتے ہیں ۔الیکشن سے پہلے میاں نواز شریف وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے۔ نتائج حسبِ توقع نہ آئے اور اس وقت کی اہم خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کے اندازے سراسر غلط نکلے جس نے بریفنگ میں کہا تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ ن دو تہائی اکثریت سے جیتے گی ۔میاں نواز شریف دانشمند ہیں وہ وقت کے مطابق بہترین آپشن کا استعمال کرتے ہیں، الیکشن کے بعد کی صورتحال کا اندازہ لگاتے ہوئے انہوں نےBest چوائس کو چنا۔بھائی شہباز شریف کو وزیراعظم اور بیٹی مریم نواز شریف کو وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کر دیا۔ بیٹی مریم نواز صبح شام اپنے والد نوازشریف کو اپنے منصوبوں اور روزانہ کی سرگرمیوں سے مکمل آگاہ رکھتی ہیں۔ ویسے ان کا اور انکے والد کا یہ تعلق وزارتِ اعلیٰ سے بہت پہلے کا ہے، جب سے وہ سیاست میں آئی ہیں تب سے وہ اپنے والد کو صبح بتا کر اور مشورہ کر کے آتی ہیں کہ انہیں آج کیا کرنا ہے اور کس طرح سے کرنا ہے۔ جب ابلاغ اتنا گہرا ہو تو قربت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے، اس لئے مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف کی اپنی بیٹی مریم نواز کو ہر معاملے میں اشیر باد حاصل ہوتی ہے۔ دوسری طرف میاں شہباز شریف بھی نواز شریف کا مکمل اعتماد رکھتے ہیں گزشتہ 30 سال کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو نواز شریف کے قریب ترین راز دان اورمشیرِخاص شہباز شریف ہی رہے ہیں ،کئی لوگ تو کہتے ہیں کہ نواز شریف مشورہ سب سے کرتے ہیں مگر مشورہ مانتے صرف شہباز شریف کا ہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں سیاست کیسے کرنی ہے کے معاملات پر دونوں بھائیوں میں اختلاف رہا مگر پھر بھی اعتماد اس قدر تھا کہ ان اختلافات کے باوجود اسی زمانے میں نواز شریف نے اپنے بھائی شہباز شریف کو مسلم لیگ نون کا صدر بنا دیا ۔ دوسری طرف شہباز شریف شاید اِدھر اُدھر گلہ شکوہ تو کر لیتے ہیں مگر بڑے بھائی کے سامنے نہ کبھی بولے ہیں نہ کبھی انکے کسی فیصلے کیخلاف گئے ہیں۔وہ سیاست کے آغاز میں بھی چھوٹے بھائی تھے اور وزیراعظم بننے کے بعد تو وہ سرعام کہتے ہیں کہ میرے لیے میرے بھائی کا درجہ باپ کا ہے، میں ان کی کسی بات یا حکم سے سرِمو اختلاف نہیں کر سکتا۔ اس پس منظر میں ن سے ش نکلنے کی باتیں پہلے بھی غلط ثابت ہوئیں اور آئندہ بھی ایسا کوئی امکان نہیں۔ البتہ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہونے کی وجہ سے جو تال میل اور یک رنگی ہونی چاہئے وہ سرے سے مفقود ہے ۔چچا شہباز شریف اور بیٹیوں جیسی بھتیجی مریم نواز شریف کا آپس میں ذاتی رشتہ، محبت و شفقت اور باہمی احترام کا ہے مگر شہباز شریف کی قیادت میں قائم وفاقی حکومت اور مریم نواز شریف کی قیادت میں چلنے والی صوبائی حکومت کا انتظامی اور سیاسی تعلق بہت ہی کمزور ہے، چنانچہ اراکین پارلیمان و صوبائی اسمبلی مخمصے کا شکار ہیں۔ اس عدم موافقت کا سب سے زیادہ بُرا اثر نونی سیاست پر پڑ رہا ہے ۔

نوازشریف خاندانی معاملات میں انصاف پسند مشہور ہیں لیکن اتفاق فیملی کے بٹوارے پر کئی اتفاقی ناراض بھی ہوئے تھے اور آج بھی سب میں اتفاق نہیں۔ نواز شریف نے میاں شریف کی وفات کے بعدخاندانی جائیداد یںاور اثاثے اپنے بھائیوں اور انکے بچوں میں تقسیم کر دیئے تھے ،اثاثوں کی تقسیم کے وقت ایک مشترکہ فیملی فرینڈ جسٹس ملک قیوم کو یہ فرض سونپا گیا۔تاہم اس وقت بعض ہلکے پھلکے اعتراضات کے باوجود یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو گیا۔ سیاسی وراثت کی بات آئی تو میاں نواز شریف نے اپنے بھائی کو وفاقی حکومت کا بڑا حصّہ سونپ دیا اور چھوٹی وراثت یعنی پنجاب کی وزارت اعلیٰ مریم نواز کے ہاتھ آئی۔ شہباز شریف نے تو اس فیصلے کو من و عن قبول کر لیا مگر نواز شریف کے ماضی کے جانشین اور انہی کی عادتوں کے مالک حمزہ شہباز شریف ان فیصلوں کے بعدبڑی سیاست سے غیرمتحرک ہو گئے اور اب ان کی سرگرمیاں حلقے یا لاہور میں اپنے احباب سے تعلقات تک محدود ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ انکے والد نےانکو وفاق میں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں اراکین اسمبلی کے معاملات دیکھنے کو کہا ہے،ماضی میں وہ پنجاب میں بھی یہ کام کرتے رہے ہیں لیکن تاحال انہوں نے یہ ذمہ داری نہیں سنبھالی شاید وہ انتظار کر رہے ہیں کہ تایا نواز شریف خود بلا کر انہیں کوئی ذمہ داری سونپیں۔ دوسری طرف نواز شریف نے مریم نواز شریف کو ورکنگ میں فری ہینڈ دے رکھا ہے۔ پنجاب کے فری ہینڈ نے وفاقی حکومت میں پس ِپردہ سرگوشیوں اور اعتراضات و تحفظات کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔ ماضی میں نونی حکومت کا یہ دستور تھا کہ انکے اراکین اسمبلی افسران کے تقرر و تبادلے اور ترقی کے منصوبوں میں براہ راست شریک ہوتے تھے، اس بار پنجاب حکومت نے یہ دستور بدل کر رکھ دیا ہے مریم نواز خود افسروں کے انٹرویو کرتی ہیں اور میرٹ پر انہیں تعینات کرتی ہیں۔ اراکین اسمبلی کا چونکہ افسروں کے تقرر و تبادلے میں کوئی اختیار ہی نہیں اسلئے انکے رسوخ میں نمایاں کمی ہوئی ہے یوں وہ اراکین اس پالیسی کو اپنے مستقبل کی سیاست کیلئے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ کئی نونی وفاقی وزراء اور اراکین اسمبلی وفاق اور صوبے کے درمیان عدم مطابقت اور عدم تعاون کو اب حکومت کیلئے ایک بڑا سیاسی چیلنج سمجھتے ہیں اوروہ وزیراعظم شہباز شریف کی اس نازک صورتحال میں خاموشی اور مریم نواز شریف کی خود اعتمادی کو نونی سیاست کیلئے زہرِقاتل سمجھ رہے ہیں۔ نونی حلقوں میں ایک طرف شہباز شریف کی دانش مندی اور مشکل ترین صورتحال میں راستہ نکالنے کی صلاحیت کی تعریف کی جاتی ہے تو دوسری طرف مریم نواز شریف کے تحرک ،بہادری اور پنجاب کو بدلنے کے منصوبوں کو سراہا جاتا ہے، دونوں کو نونی اثاثہ قرار دیا جاتا ہے۔ شہباز شریف چچا ہیں،عمر میں بڑے اور تجربے میں بھی بڑے ہیں مگر وہ گلی محلّے کی سیاست میں نہیںپڑتے۔ وہ کسی سیاسی بیانیے پر یقین نہیں رکھتے وہ مقتدرہ کے ساتھ بناکر رکھنے اور ملکی ترقی کیلئے کام کرنے ہی کو اپنا بیانیہ سمجھتے ہیں جبکہ مریم نواز شریف میں سیاسی جراثیم زیادہ ہیںوہ مخالفوں کو نیزے کی نوک پر رکھ کر تقریریں کرتی ہیں اور تھوڑے ہی عرصے میں وہ مستقبل میں پارٹی کا نیا چہرہ بن کر ابھرچکی ہیں۔آج تک کے نونی ناک نقشے کا خلاصہ یہ ہے کہ بظاہر سمندر پرسکون ہے مگرسمندر کی لہروں میں کئی طوفان چھپے ہوئے ہیں ،چچا شہباز شریف کبھی اپنی بھتیجی کیخلاف حرفِ شکایت زبان پر نہیں لائیں گے اور تابع فرمان بھتیجی کبھی اپنے مہربان چچا سے نہ ناراض ہوگی، نہ کھلی بغاوت کرئیگی۔ دونوں کی شکایات موجود ہیں لیکن دونوں نواز شریف کی عدالت میں معاملہ لیجانا نہیں چاہتے ۔شرم، لحاظ، احترام یا اسے جو بھی نام دیا جائے ان معاملات کو زیربحث نہ لانے سے نون کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی ہو رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کبھی نواز شریف خود شہباز شریف اور مریم نواز کو آمنے سامنے بٹھائیں، دونوں کے معاون ساتھ ہوں اور پھر آپس کے مغالطے زیربحث لاکر کوئی مفاہمانہ راستہ نکالا جائے ۔وفاق اور صوبہ ایک دوسرے سے متصادم ہونے کی بجائے موافق ہوں گے توتبھی نونی ستارہ زیادہ بہتر طور پر چمک سکے گا وگرنہ کہیں سیاہ بادل اسے چھپا نہ دیں۔

تازہ ترین