• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کے پی کے نوجوان وزیرا علیٰ سہیل خان آفریدی 9؍ جنوری سے سندھ کا دورہ شروع کررہے ہیں بادیِ النظر میں یہ دورہ اُنکی اُس مہم کا حصّہ ہے جس میں وہ ملک میں ایک ’اسٹریٹ موومنٹ‘ شروع کرنے سے پہلے پارٹی کو متحرک کرنا چاہتے ہیں اور نظر یہی آتا ہے کہ یہ تحریک غالباً رمضان المبار ک کے بعد شروع ہوپائے گی۔ آفریدی کو جب علی امین گنڈا پور کی جگہ وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو خیال تھا وہ جذباتی انداز میں کوئی 26؍ نومبر، والا ایڈونچر کردیں گے مگر انہوں نے ماسوائے چند جذباتی تقاریر کے کچھ عملی اقدامات کیے۔ اس سے پہلے وہ پنجاب کے دورے پر بھی گئے جہاں مسلم لیگ (ن) کی حکومت یوں کہیں تو بہتر ہوگا وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی حکومت نے ریاست کے روایتی حربے استعمال کر کے، اس دورے کو آفریدی کیلئے مشکل کردیا۔ کچھ نا خوشگوار واقعات بھی ہوئے جس پر خود وزیر اعلیٰ کے پی کو معذرت بھی کرنی پڑی۔ اچھے اور سمجھدار سیاستدان وہی ہوتے ہیں جو سبق سیکھتے ہیں لہٰذا اب جبکہ وہ صوفیوں کی سرزمین سندھ آرہے ہیں تو اُنہیں انتہائی مثبت پیغام ملا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ صاحب کی طرف سے انکو نہ صرف دورۂ خیر مقدم کے حوالے سے بلکہ ملاقات کی بھی ’دعوت‘ دے دی گئی ہے۔ کیا یہ دورہ پی پی پی، اور پی ٹی آئی کے درمیان خلیج کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتاہے۔ اس کیلئے،تھوڑا انتظار کیونکہ بہرحال درمیان میں’غیر سیاسی لوگ‘ اکثر سیاسی ہوجاتے ہیں۔

پی پی پی اور پی ٹی آئی میں ایک قدرِ مشترک ہے دونوں بہرحال فارم۔47 کی پیداوار نہیں۔ پی پی پی سے لوگوں کا لاکھ اختلاف سہی مگر وہ اس بات کے ہمیشہ سے معترف رہے ہیں کہ اُس کے رہنماؤں اور پارٹی اپروچ میں کمال کی برداشت ہے۔ ویسے تو کراچی کی ایک تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید کے درمیان خوشگوارجملوں کا تبادلہ ہوا اور شاہ صاحب نے سلمان راجہ کو سہیل آفریدی کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ ہاؤس میں کھانے کی دعوت بھی دی جسکے جواب میں پی ٹی آئی کے رہنما نے پی پی پی اور سندھ حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ اب کوئی ’بریک تھرو‘ ہوتا ہے یا نہیں مگر کم از کم اِن رویوں سے بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ضرور ملے گی۔

پی پی پی اور پی ٹی آئی میں دوسری قدرِ مشترک یہ ہے کہ دونوں جماعتیں پچھلے تین انتخابات سے اپنے اپنے صوبوں میں الیکشن جیتتی آ رہی ہیں اور حکومت میں ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے تو کے پی کی روایتی سیاست کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ 2013کے الیکشن سے پہلےکےپی میں ہر الیکشن کے بعد کوئی نئی جماعت یا اتحاد حکومت بناتاتھا۔ یہیں جماعت اسلامی اور جے یو آئی کی بھی حکومت رہی (2008سے 2002) تک اور پی پی پی۔ اے این پی کی بھی (2013سے 2008) تک مگر سال 2013 سے (2024) تک وہاں کے لوگوں نے پی ٹی آئی پر اعتماد کیا ہے۔ شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ دیگر بڑی جماعتوں نے یہاں اُس طرح سیاسی کام کرنا چھوڑدیا ہے۔ خیر اے این پی اور پی پی پی تو طالبان کے نشانے پر رہیں اور کئی رہنما مارے گئے۔ البتہ جے یو آئی نے جنوری، 2022 کے بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو سرپر ائز دیا اور شاید سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک نہ آ تی تو تحریکِ انصاف کیلئے معاملات سیاسی طور پر بہتر نہ ہوتے مگر جیسا کہ میں نے اوپر کہا ’غیر سیاسی‘ لوگوں کے غیر سیاسی فیصلے اکثر خود اُن کیلئے مشکلات کھڑی کردیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی طرح پی پی پی ویسے تو سندھ میں کسی نہ کسی شکل میں 1970ء کے الیکشن کے بعد سے ہے مگر اس دوران خاص طور پر 1977ء کے بعد 11سالہ مارشل لا میں وہ نشانے پر رہی جس طرح مسلم لیگ (ن) جنرل مشرف کے 9سال کے دوران یاPTI اپریل،2022کے بعد سے۔ مگر 2008سے پی پی پی پچھلے 17سال سے مسلسل حکومت میں ہے تاہم سندھ کی سیاست کے پی سے ذرا مختلف ہے۔ یہاں دیہی اور شہری سندھ کی تقسیم نے سیاست کو بھی تقسیم کر رکھا ہے۔ شہری سندھ کےنتائج مختلف آتے رہے ہیں کبھی شہر جماعتِ اسلامی کے پاس گئے تو کبھی ایم کیو ایم کے اور اب عملی طور پر’’ووٹ‘‘ کی حد تک پی ٹی آئی مضبوط ترین جماعت نظر آتی ہے مگر سہیل آفریدی کو اس دورے میں اندازہ ہوجائے گا۔ تنظیمی طور پر پارٹی کی تقسیم کا۔ دیہی سندھ میں تا حال پی پی پی کو کسی بڑے چیلنج کا سامنا نہیں رہا کیونکہ نہ مسلم لیگ نے نہ ایم کیو ایم نے نہ ہی خود پی ٹی آئی نے یہاں سیاسی کام کیے۔ اس وقت پی پی پی کے بعد یہاں کی مؤثر جماعت جے یو آئی ہے جسکے متحرک لیڈر ڈاکٹر راشد سومرو نے خود پی پی پی کے گڑھ لاڑکانہ میں اُن کو ٹف ٹائم دیا جیسا کہ پی ٹی آئی اس وقت لیاری میں پی پی پی کو دے رہی ہے۔

اِس پسِ منظر میں اُمید تو یہی کی جاسکتی ہے کہ سہیل آفریدی اپنے اِس دورے میں کسی بھی تحریک کو چلانے سے پہلے گراؤنڈ کا تفصیلی جائزہ لیں  گے۔ یہ بات اپنی جگہ بہت اہم ہے کہ دیہی سندھ کے نوجوان کے رُجحان میں بھی تبدیلی کے اثرات ہیں جس کامظاہرہ اُس نے ’نہروں‘ جیسے معاملے میں کیا۔ سوشل میڈیا نے سیاسی طور پر بھی اپنا اثر چھوڑا ہے۔ اِس پسِ منظر میں اگر جلسے جلوس میں کوئی بڑی رکاوٹ نہ ڈالی گئی، بلکہ پی پی پی نے کسی ’دباؤ‘ میں آکر آفریدی کیلئےپنجاب جیسی صورتحال پیدا نہ کی تو آگے جاکر اِن جماعتوں کے درمیان مائنس مسلم لیگ (ن) کوئی سیاسی اتحاد بھی بن سکتا ہے۔ البتہ اِس دورے سے کراچی اور حیدرآباد میں پی ٹی آئی، ایم کیو ایم (پاکستان) اور جماعتِ اسلامی کیلئے مزید مشکل کھڑی کرسکتی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں ’مقابلے‘ کا رجحان مثبت اشارہ دیتا ہے اگر جماعتیں ’اشاروں‘ پر چلنا چھوڑ دیں اور اپنی سیاست کریں۔ ویسے تو اب ’صحافت‘ بھی ’اشاروں‘ پر ہورہی ہے۔

تازہ ترین