امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ یہ دعوے کرتے رہے ہیں کہ وہ جنگ کے مخالف ہیں اور انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے 7 جنگوں کو روکا ہے جس پر وہ نوبل انعام کے حقدار ہیں مگر گزشتہ دنوں تیل کی دولت سے مالا مال ملک وینزویلا پر امریکی حملے، صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو اُن کے بیڈ روم سے اٹھاکر امریکہ لے جانے کے واقعہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی امن کے دعوے کی حقیقت بے نقاب اور دنیا کو ششدر کردیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر امریکی افواج نے یہ حملہ رات کی تاریکی میں وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر کیا جسکے نتیجے میں پورا شہر دھماکوں سے گونج اٹھا، شہر پر جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں اور بجلی کی عدم فراہمی کے باعث دارالحکومت تاریکی میں ڈوب گیا۔ اِن حملوں میں صدر نکولس مادورو کے ذاتی محافظوں اور صدارتی محل پر متعین کولمبیا سے تعلق رکھنے والے 32 سیکورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد مارے گئے۔ اس طرح امریکہ نے صرف 3 گھنٹوں میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا 12 سالہ اقتدار ختم کردیا۔ بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی ہتھکڑی لگی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور کہا کہ ’’میں نے وینزویلا پر حملے اور نکولس کی گرفتاری کے حیرت انگیز مناظر ایک ٹی وی شو کی طرح براہ راست دیکھے، اب وینزویلا کا انتظام اور تیل کے ذخائر امریکہ سنبھالے گا، امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں سرمایہ کاری کریں گی جس سے امریکہ مستفید ہوگا۔‘‘
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر مسلسل یہ الزام عائد کرتے رہے تھے کہ وہ وینزویلا سے امریکہ منشیات کی اسمگلنگ کی سرپرستی کررہے ہیں تاہم نکولس مادورو نے امریکی الزامات کی تردید کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ برسراقتدار آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کو فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں اور نکولس مادورو پر اقتدار چھوڑنے کیلئے دباؤ بڑھا رہے تھے اور خطے میں فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے وینزویلا کے اطراف جنگی طیارہ بردار بحری جہاز بھیج دیئے تھے جبکہ امریکی افواج نے وینزویلا کے پانیوں میں آنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں درجنوں بحری اہداف پر حملے کئے تھے جس سے یہ واضح تھا کہ امریکہ کسی وقت بھی وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتا ہے مگر یہ توقع نہیں تھی کہ امریکہ رات کی تاریکی میں اچانک حملہ کرکے ملک کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو اٹھاکر لے جائے گا۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا جب امریکہ نے کسی ملک کے صدر کو رات کی تاریکی میں اٹھا کر امریکہ منتقل کیا ہو۔ اس سے قبل 1989ءمیں امریکی افواج نے پاناما پر حملہ کرکے فوجی حکمران مینول نوریگا کو منشیات اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ مینول نوریگا نے امریکی ریاست میامی کی جیل میں کئی سال تک سزائے قید بھگتی اور 2017ءمیں امریکی جیل میں ہی وفات پاگئے۔ وینزویلا پر امریکی حملے کی روس، چین، برازیل، کولمبیا اور دیگر ممالک نے شدید مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی اور خطرناک مثال ہے۔ سب سے زیادہ سخت بیان چین کی طرف سے آیا جس میں کہا گیا کہ ’’کوئی ملک دنیا کے پولیس مین کا کردار اور خود کو دنیا کا جج قرار نہیں دے سکتا۔‘‘ دوسری طرف وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر کو اٹھاکر لے جانے کے واقعہ کے بعد لاطینی امریکہ کے ممالک برازیل، کولمبیا اور کیوبا خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ کی کولمبیا کے صدر کو دی گئی حالیہ دھمکی کہ ’’کولمبیا کے صدرکا انجام بھی وینزویلا کے صدر کی طرح ہوسکتا ہے‘‘ نے لاطینی امریکی ممالک کی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ وینزویلا پر امریکی حملے کے بعد دنیا کی نظریں اب ایران پر مرکوز ہیں اور خدشات ہیں کہ امریکہ کا اگلا ہدف تیل پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ایران ہوگا تاکہ وہاں رجیم چینج کے نام پر اپنی مرضی کی حکومت قائم کرکے خطے میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا جاسکے۔
وینزویلا دنیا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والا ملک اور اوپیک کا اہم رکن ہے۔ وینزویلا کے تیل کے ذخائر کا تخمینہ 303 ارب بیرل سے زائد لگایا گیا ہے جن کی مالیت 22 کھرب ڈالر سے زیادہ ہے جو سعودی عرب اور امریکہ کے مجموعی تیل کے ذخائر سے بھی زائد ہیں۔ ایسے میں وینزویلا میں امریکی مداخلت محض سیاسی نہیں بلکہ درحقیقت دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر پر بالواسطہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اگر امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا کے تیل اور قیمتی معدنیات تک رسائی حاصل کرلیتی ہیں تو اس کا براہ راست فائدہ صرف امریکہ کو ہوگا اور تیل کی عالمی قیمتوں پر امریکی اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔ اس صورتِحال میں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی معیشت اور آمدنی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ حالیہ تنازع صرف وینزویلا تک محدود نہیں بلکہ لاطینی امریکہ پر بھی امریکی تسلط مضبوط کرنے اور چین کو تیل کی سپلائی سے محروم کرنے کی ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے کیونکہ وینزویلا کے تیل کا سب سے بڑا خریدار چین ہے۔ یہ صورتحال اُن لوگوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے جو اپنی افواج کو غیر ضروری سمجھتے ہیں اور قدرتی وسائل سے مالا مال مگر کمزور دفاع رکھنے والے ممالک عالمی طاقتوں کا باآسانی نشانہ بن جاتے ہیں جہاں بیرونی قوتیں اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کر دیتی ہیں اور ملکی سلامتی و خودمختاری محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔