• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں منعقدہ 18ویں عالمی اردو کانفرنس کو اس اعتبارسے عالمی امن کی ایک توانا آواز کہا جاسکتا ہے کہ اس میں منظور کی گئی قرارداد کی صورت میں عالمی برادری کو انسانی معاشرت کی ناگزیر ضرورت اور آج کی دنیا کے اہم ترین مسئلے امن کی طرف موثر انداز میں متوجہ کرنے کی سنجیدہ کاوش سامنے آئی۔ صاحبان فکر وقلم نے دنیا میں پائیدار امن کی ضرورت اجاگر کرتے ہوئے واضح کیا کہ جنگیں، دہشت گردی اورا سلحے کی دوڑ جیسے عوامل انسانی سماج کی ترقی میں حارج ہیں۔ عالمی برادری، وطن عزیز کی مرکزی وصوبائی حکومتوں اور عام لوگوں سے تخاطب کرتی کئی قراردادیں کانفرنس کے چوتھے روز اختتامی اجلاس میں پیش کی گئیں جنہیں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر احمد شاہ نے پڑھ کر سنایا اور بڑی تعدادمیں موجود حاضرین نے ہاتھ بلند کرکے یہ پیغام دیا کہ وہ دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کی کاوشوں کو موثر تر کرنے کے حامی اور ایسے تمام عوامل کے خاتمے کے خواہاں ہیں جو کرہ ارض یا اس کے کسی حصے کو بدامنی کی طرف دھکیلنے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ جن نکات میں فلسطینیوں پر تاحال جاری ظلم بند کرانے، کشمیر یوں کو حق خود ارادیت دلانے اور مقبوضہ جموں وکشمیر سے غاصبانہ بھارتی قبضے کے خاتمے کیلئے بار بار اٹھائی جانے والی آواز کا اعادہ کیا گیا یا بھارت کے توسیع پسندانہ غرور کو خاک میں ملانے پر افواج پاکستان کی تحسین کی گئی وہ اسی جذبے کا اظہار ہیں کہ ہم جنگ،بدامنی، تو سیع پسندی اور انسانیت دشمنی کے اقدامات کی مذمت کرتے اور ان کوششوں کی حمایت کرتے ہیں جن سے عالمی امن کو استحکام وپائیداری ملے۔مقامی نوعیت کی دیگر قراردادیں بھی اہمیت کی حامل ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بموجب اردو کو سرکاری زبان بنانے کے اقدامات بروئے کارلانے ، صوبوں کے مابین وفود کےدوروں، مختلف مادری زبانوں کے صاحبان قلم کا میل جول بڑھانے، دارالترجمہ کے قیام کی صورت میں ملکی وغیر ملکی زبانوں میں تراجم کے اہتمام کے مطالبات ارباب حکومت کی سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ ان قراردادوں کوان بہت سے صاحبان قلم کے مشترکہ پیغامات کے طور پر دیکھا جانا چاہئے جنہوں نے عالمی اردو کانفرنس میں چار روزتک مختلف اجلاسوں کی صورت میں علم وفہم کی روشنی پھیلائی اور مکالموں کی صورت میںافکار کا تبادلہ کیا۔کہنے کو تو یہ کارکردگی چار روز جاری رہی مگر جب ایک دن کی روداد میں17اجلاس اور کسی دوسرے دن کے پروگرام میں22سیشن شامل ہوں تو یہ کارروائی چار روزہ نہیں رہتی ہفتوں پر محیط ہوجاتی ہے۔ ماضی سےہی بین الاقوامی اردو کانفرنس کی منصوبہ بندی اس طرح رہی ہے کہ متنوع موضوعات پر ایک ہی وقت میں کئی کئی اجلاس یا نشستیں اس طرح رکھی جاتی ہیں جن میں موضوع پر بھرپور دسترس رکھنے والے افراد اپنی اپنی تحقیق ومطالعہ کے مطابق اظہار خیال کرتے ہیں۔

سرِتحریر جن قراردادوں کا ذکر کیا گیا وہ کانفرنس کے آخری روز منظور کی گئیں لیکن انکی اہمیت کے پیش نظر ان کا ذکر پہلے کیا گیا۔’’18ویں عالمی اردو کانفرنس 2025 ءجشن پاکستان ‘‘کا عنوان سب ہی نے پسند کیا۔ جس تاریخ کو یہ کانفرنس شروع ہوئی اسکی بھی خاص اہمیت ہے۔ کانفرنس میں قائد اعظم محمد علی جناح کی سالگرہ اور کرسمس کا کیک کاٹا جانا ایک رسمی عمل سےکہیں آگے بڑھ کر مذہبی رواداری، باہمی الفت اور قومی یکجہتی کے اظہار کی صورت اختیار کرگیا۔ افتتاحی تقریب کےمہمان خصوصی گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اپنے خطاب میں اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ اردو اس علاقے کی زبان ہے انہوں نے کہا کہ عالمی اردو کانفرنس نے نئی نسل کیلئے ایک راستہ بنایا ہے ۔ استقبالیہ خطبے کی صورت میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا جبکہ کلیدی خطاب معروف ادیب ونقاد ناصر عباس نیر کاتھا۔ اس موقع پر نوجوان طلبہ سمیت لوگوں کی بڑی تعداد ہال میں موجود تھی۔عالمی اردو کانفرنس کے چاروں دنوں میں ادیبوں،شاعروں، نقادوں، محققین دانشوروں اور فنکاروں کی ایک کہکشاں آرٹس کونسل کی عمارت میں نظر آتی رہی جبکہ مختلف متنوع موضوعات پر نشستوں کی صورت میں ایسے ایسے نکات اور انکشافات سامنے آتے رہے جنہیں تحریری صورت میں لائبریری کی زینت بنایا جائے تو بطور حوالہ بھی کام آسکتے ہیں۔کانفرنس کی منصوبہ بندی میں شخصیات کی یادیں منانے کا پورا اہتمام ماضی کی روایات کے مطابق نظر آیا۔ مثال کے طور پر دوسرے روز (یعنی26دسمبر کو) عالمی مشاعرے سمیت جو17اجلاس منعقد کئے گئے ان میں بطور شاعر فیض احمد فیض کامطالعہ کیا گیا جبکہ اہم خواتین محترمہ فاطمہ جناح، بینظیربھٹو، عظمیٰ الکریم کو بطور خاص یاد کیاگیا۔ اس روزثقافت، علم وادب اور فنون لطیفہ کے رنگ نمایاں رہے۔ تیسرا دن(27دسمبر) محترمہ بینظیر بھٹو کے نام رہا۔ اس روز ’’عالمی مشاعرہ بیاد بے نظیر بھٹو‘‘ سمیت 22لاجواب پروگرام منعقد ہوئے۔ 27دسمبر محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کی تاریخ ہے۔ اسی روز مرزا غالب کا یوم پیدائش مناتے ہوئے یہ انکشاف کیا گیا کہ غالب نے43سال کی عمر کے بعد کوئی شعر نہیں کہا۔ اردو زبان کے حوالے سے منعقد ہونے والی کانفرنس کا کینوس اپنی وسعت میں جہاں بلوچ، پختون، پنجابی ، سندھی ادب وثقافت پر محیط ہے وہاں موسیقی کے سفر، تعلیمی نظام، ماحولیات، ڈیجیٹل دور میں روایتی میڈیا کے کردارسمیت دیگر موضوعات کو بھی نشستوںکا عنوان بنائے نظر آیا۔تین دنوں کی کارروائی کے آخر میں مشاعروں (پہلے روز سندھی مشاعرہ) اور چوتھے دن قوالی کے اہتمام کےساتھ جو ادبی و ثقافتی سرگرمیاں سامنے آتی رہیں ان کا رشتہ اسی سرزمین سے ہےمگر ان میں سے بعض کا پھیلاؤ براعظموں کو پار کر گیا۔ عالمی اردو کانفرنس نے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ اردو آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ زندہ، زیادہ متحرک اور زیادہ عالمی رابطے کی زبان بن چکی ہے۔ مجموعی طور پر یہ کانفرنس اردو کے مستقبل کے بارے میں ایک حوصلہ افزا مثبت پیغام دے کر اختتام پذیر ہوئی۔

تازہ ترین