عالمی دُھن……
سب ایک ہی دُھن پر رقصاں ہیں۔ میں نے مجو سے کہا۔
ویڈیو انسٹاگرام کی ہو یا ٹک ٹاک کی، ہر کوئی ناچ رہا ہے۔
بچے، بوڑھے جوان، عورتیں، مرد، سب رقص کر رہے ہیں۔اور دُھنیں بھی ایک سی ہیں۔
عالمی طاقتیں جو دُھن وائرل کر دیں،
سب اسی پر ویڈیو بنانے لگتے ہیں، اور وہی رقص کرتے ہیں،
جو اوروں نے کیا۔ گویا انسان کی انفرادیت ختم ہوگئی،
سب ایک جیسے ہیں، اور ایک ہی دھن پر ناچ رہے ہیں۔
’لیکن۔۔۔ ‘مجو کا لہجہ تشویش ناک تھا۔
اگر لوگ اُس دھن پر ناچنے سے انکا رکر دیں تو؟
میں مسکرایا۔ ’’تو پھر انھیں بھی…
وینزویلا کے صدر کی طرح بیڈ روم سے اغوا کر لیا جائے گا۔‘‘