• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’میں بے قصور ہوں ،میں ایک مہذب انسان ہوں۔ میں نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا۔نہ ہی کسی غیر ملک کو یہ اختیار ہے کہ وہ اس طرح ایک ملک کے صدر کو اغوا کرکے اپنے ملک میں لے آئے ‘‘ ....نیویارک کی ایک عدالت میں وینزویلا کے 63 سالہ صدر نکولس مادورو گویرا کا یہ بیان پوری دنیا میں امریکہ کی موجودہ انتظامیہ کو رسوا کر رہا ہے۔ ہر ملک میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا کسی غیر ملک کو یہ اختیار ہے کہ وہ دوسرے ملک کے امور میں اس طرح کھلی جا رحیت کرے۔31ملین آبادی 916445 مربع کلومیٹر رقبہ 303بلین بیرل تیل، قومی زبان ہسپانوی، نظام وفاقی صدارتی جمہوریہ، سیاسی وابستگی یونائٹڈ سوشلسٹ پارٹی اور 97فیصد شرح خواندگی والے جنوبی امریکہ کے ملک کے صدر مادورو سے امریکی صدر ٹرمپ کی ذاتی عداوت اپنی گزشتہ میعاد صدارت سے ہے۔ اگست 2017ءمیں بھی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ غیر ملک کے خلاف یہ کھلی دہشت گردی نئے سال کے تیسرے دن ہوئی ۔ کیا اکیسویں صدی میں ایسے کسی اقدام کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ مگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے زعم برتری میں یہ بھی کر ڈالا۔ بڑے بڑے زبان دراز چپ ہیں۔ سفارت کاری کے امور کے ماہرین، سلطانی جمہور کے قائل، ہر ملک کی خود مختاری کے پرچارک بہت دھیمے دھیمے بیانات جاری کر رہے ہیں ۔سکیورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں رسمی کارروائی جاری ہے۔چین ،روس ،ترکی صدر نکولس کے حامیوں میں سے ہیں لیکن ان کی طرف سے بھی کوئی ہنگامی کارروائی دیکھنے میں نہیں آرہی ۔انصاف پر عمل درآمد کیلئے امریکی عدالتی نظام بہت شہرت رکھتا ہے لیکن بین الاقوامی قوانین کے ماہرین حیران ہیں کہ نیویارک کی عدالت کے جج نے یہ مقدمہ سماعت کیلئے کیسے منظور کر لیا ۔کیا نیویارک کی عدالت کے دائرہ اختیار میں وینزویلا کا صدارتی محل بھی آگیا ہے؟ جن حفاظتی اہلکاروں نے ایک صدر اور خاتون اول کو عدالت میں ہتھکڑی ،بیڑیاں لگا کر جرائم پیشہ افراد کی طرح پیش کیا ہے۔ کیا یہ خود امریکی قوانین اور عالمی قوانین کے عین مطابق ہے۔ ؟ اگر یہی روایت رہی تو کیا چھوٹی قومیں اپنے بڑے ہمسایوں، زیادہ دولت رکھنے والے ملکوں اور زیادہ فوجی طاقت رکھنے والی حکومتوں سے محفوظ رہیں گی ۔یہ تو اسرائیل کا طرز حکومت ہے جو وہ 1948ء سے فلسطینیوں کے خلاف روا رکھے ہوئے ہے یا پھر بھارت کے مختلف توسیع پسند حکمران جس چنگیزیت کا مظاہرہ کشمیر ،بھوٹان ، حیدرآباد دکن میں کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر نے بھی نہروؤں ،مودیوں اور نیتن یاہووں کی ان جارحانہ کارروائیوں کو دہرایا ہے۔ یہ امریکی جاہ و جلال کے زوال کی علامت ہے۔ کیا امریکہ کے دانشور، ادیب، صحافی ،پروفیسر، اسکالرز وینزویلا کی خود مختاری میں مداخلت پر خاموش رہیں گے۔ کسی دوسرے ملک کا صدر دھاندلی سے آیا ہو یا غاصبانہ طریقے سے یا کرپٹ ہو ۔کسی غیر ملک کو یہ اختیار کیسے مل سکتا ہے کہ وہ اپنی فوجی طاقت اور جدید ترین اسلحہ استعمال کر کے ایک ملک کی حدودپار کر کے اس کے صدر کو اغوا کر کے لے آئے ۔اپنے ملک کے خود مختار طاقتور اداروں سے بھی اجازت نہ لے۔ کانگرس سینٹ کے سب اختیارات دھرے کے دھرے رہ جائیں۔ صدیوں کی سوچ بچار ،جدوجہد اور مکالموں سے جنم لینے والے ادارے اقوام متحدہ ،جنرل اسمبلی سکیورٹی کونسل ،انسانی حقوق کمیشن سب دیکھتے رہ جائیں۔ کیا وائٹ ہاؤس میں مقیم امریکی صدر اپنے سارے ملکی اور بین الاقوامی قوانین سے ماوراہے۔ امریکہ کا صدر کس طرح یہ کہہ سکتا ہے کہ اب ونیزویلا کے امور امریکہ چلائیگا۔ کبھی امریکہ اپنی جمہوری اقدار، انسانی اخلاقیات، قانون پسندی اور انصاف کیلئے شہرت رکھتا تھا ۔دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت لانا چاہتا تھا لیکن 21ویں صدی میں اٹھارویں اور 19ویں صدی کے سامراجی ہتھکنڈوں کو دہرایا جا رہا ہے۔تاریخ مجھے 1857ءمیں دلی میں ہمایوں کے مقبرے پر لے گئی ہے ۔غاصب حملہ آور انگریز آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو گرفتار کر رہے ہیں اور ان پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے پھر مارچ 1858 ء میں انہیں اغوا کر کے رنگون منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ خود کو مہذب اور متمدن کہنے والے انگریز ، امریکی کیا ہر صدی میں انسانیت کی تذلیل اسی طرح کرتے رہیں گے ۔ دھاندلی تو بے شمار ملکوں میں ہو رہی ہے۔ منشیات کی اسمگلنگ بھی جاری ہے، اپنے عوام پر بربریت بھی ہو رہی ہے ۔اس کیلئے اقوام متحدہ ہے ۔عالمی عدالتیں ہیں۔ انکے دروازے کیوں نہیں کھٹکھٹائے جاتے ۔کیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان عالمی اداروں سے کسی انصاف کی توقع نہیں تھی جو انہوں نے خود یہ قدم اٹھایا اور اپنے ہی سابقہ صدور مورخین دانشوروں کی صدیوں کی تحقیق تخلیق اور تدقیق کو مٹی میں ملا دیا ۔کیا دنیایہ نخوت، یہ غرور 21ویں صدی آسانی سے برداشت کر لے گی۔یورپی یونین اسی طرح خاموش رہے گی، روس چین ترکی کس موقع کے انتظار میں ہیں۔ یہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ امریکہ نے تو سالہا سال سے چھوٹی قوموں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ہوا ہے افریقہ ایشیا جنوبی امریکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں،نیٹو نے کیا کیاغارت گری نہیں کی۔کیا ایرانی وزیراعظم مصدق کے ساتھ سلوک کو بھول جائیں۔کیا پیٹرک لمبا ہمیں یاد نہیں ہے۔ 1974 کی اسلامی سربراہ کانفرنس کے شرکاء کو کیسے صفحہ ہستی سے مٹایا گیا۔کانفرنس کے میزبان ذوالفقار علی بھٹو ،مہمانوں میں شاہ فیصل، انور سادات، شیخ مجیب الرحمن اور معمر قذافی کیسے قتل کیے گئے۔ صدر مادورو تو خوش قسمت ہیں کہ زندہ ہیں اور عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بھی ایک جنگی مجرم ہے ۔عالمی عدالتیں انہیں سزا دے چکی ہیں۔ اگر کوئی مسلم ملک انہیں اسی طرح اغوا کر کے اپنے ملک میں لے آئے ان پر مقدمہ چلائے تو کیا امریکہ ،یورپی یونین اسی خاموشی سے برداشت کر لیں گے ۔تاریخ بار بار للکار رہی ہے کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کا یہ اغوا 21ویں صدی کا ایک انتہائی خطرناک المیہ ہے۔ اس پر اقوام متحدہ کاسکیورٹی کونسل کا اجلاس طلب تو کیا گیا ہے لیکن اس میں رسمی نہیں فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی بلایا جائے۔ امریکی کانگرس اور سینٹ کو بھی اپنے صدر کے اس اقدام کا مواخذہ کرنا چاہیے۔ گزارش یہ ہوگی کہ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی بھی وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کر کے صورتحال کا جائزہ لے کیونکہ اسلامی ملک ایران کو بھی یہ دھمکی دی گئی ہے اور وہاں صورتحال لمحہ بہ لمحہ بگڑ رہی ہے۔ پاکستان کو بھی اپنی پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے پڑوس ایران میں بھی اسی طرح کی مداخلت کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ایران میں اگر ایسی کوئی کارروائی ہوتی ہے تو اس سے پاکستان بھی متاثر ہوگا ۔اگر اس وقت اس شخصی اقدام کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی تو بھارت کا کشمیر پر قبضہ، اسرائیل کے فلسطینیوں پر مظالم بھی جائز ہو جائیں گے۔ بڑے ملکوں کو چھوٹی قوموں کے معاملات میں مداخلت کی راہ مل جائے گی۔اقوام متحدہ کا ادارہ مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔

تازہ ترین