• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت: والدین کی شادی کی سالگرہ، بیٹا تو گھر نہ آیا، اس کی لاش آگئی

فوٹو: بھارتی میڈیا
فوٹو: بھارتی میڈیا 

بھارتی دارالحکومت دہلی میں میونسپلٹی ادارے کی غلفت کے باعث خوشی کا گھر ماتم میں تبدیل ہوگیا، والدین کی شادی کی سالگرہ میں شرکت کیلئے گھر جانے والا 25 سالہ نوجوان گڑھے میں گر کر ہلاک ہوگیا۔

شادی کی سالگرہ کی خوشی ماتم میں بدل گئی، مغربی دہلی کے ایک گھر میں آدھی رات کو کھانے کی میز پر رکھا کیک کاٹا نہیں گیا، موم بتیاں بھی جلائی نہ جا سکیں۔

کمل دھانی کے والدین اپنی شادی کی سالگرہ منانے کے بجائے پوری رات سنسان سڑکوں پر اپنے بیٹے کو تلاش کرتے رہے، تھانوں کے چکر لگاتے رہے اور اس کا نام پکارتے رہے، اس حقیقت سے بے خبر کہ وہ اب کبھی گھر واپس نہیں آئے گا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق 25 سالہ کمل جو ایک کال سینٹر میں ملازم تھا، اس نے جمعہ کی رات 12 بج کر 50 منٹ پر اپنے جڑواں بھائی کرن کو فون کیا۔ اس نے کہا کہ وہ 15 منٹ میں گھر پہنچ جائے گا، یہی آخری موقع تھا جب خاندان نے اس کی آواز سنی۔

کرن کے بھائی نے میڈیا کو بتایا کہ کمل نے امی سے کہا تھا کہ روٹیاں بنا لیں، میں پہنچ رہا ہوں، ہم آدھی رات کو کیک کاٹنے کا انتظار کر رہے تھے، مگر پوری رات اسے تلاش کرتے رہے۔

جب کمل آدھے گھنٹے بعد بھی نہ پہنچا اور فون اٹھانا بند ہو گیا تو گھر والوں میں بے چینی پھیل گئی۔ پہلے اس کے دفتر گئے، پھر قریبی تھانوں کا رخ کیا، اس امید میں کہ کہیں کوئی سراغ مل جائے، لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا اور صبح ہوتے ہی پولیس کی کال آئی کہ کمل کی لاش مل چکی تھی۔

پولیس کے مطابق کمل کی لاش اس کی کیچڑ میں لتھڑی موٹر سائیکل کے ساتھ جناک پوری میں دہلی جل بورڈ کے سیوریج پائپ لائن منصوبے کے لیے کھودے گئے تقریباً 15 فٹ گہرے گڑھے میں ملی۔

لاش کے ساتھ اس کا ہیلمٹ بھی موجود تھا۔ شبہ ہے کہ وہ گھر جاتے ہوئے موٹر سائیکل سمیت اس کھلے گڑھے میں گر گیا۔

کمل کے دوست نے بتایا کہ گڑھے میں گرنے والی یہ موٹر سائیکل کمل نے اپنی سالگرہ پر 2024 میں اپنی جمع پونجی سے خریدی تھی، اسے اپنی بائیک سے بہت محبت تھی، وہ سادہ، محنتی اور پُرامن انسان تھا، اپنے خواب پورے کرنے کے لیے سخت محنت کرتا تھا۔

مرنیوالے نوجوان کمل کے جڑواں بھائی کرن نے بتایا کہ ہم نے والدہ کو یہ خبر کافی دیر بعد دی، کیونکہ ہم انہیں اچانک یہ صدمہ نہیں دے سکتے تھے۔ ابو پوری رات اسے تلاش کرتے رہے اور صبح اپنے بیٹے کی لاش دیکھنا پڑی۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ جو رات شادی کی سالگرہ کی خوشی کے لیے تھی، وہ ان کی زندگی کا سیاہ ترین دن بن گئی، سڑک پر نہ لائٹس ہیں، نہ بیریئرز، یہ حادثہ ہونا ہی تھا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک سگنل سے حادثے کی جگہ تک تقریباً 100 میٹر تک کوئی اسٹریٹ لائٹ نہیں، اندھیرا ہی اندھیرا ہے، سڑک پر کھدائی تو کی گئی تھی مگر حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے، نہ بیریئر تھے، نہ جال کچھ بھی نہیں تھا، گڑھا حادثے سے ایک دن پہلے ہی کھودا گیا تھا اور اس پر کوئی حفاظتی انتظام نہیں تھا۔

نوجوان کے خاندان نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے اور فوری  تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، ان کا الزام ہے کہ دہلی جل بورڈ اور متعلقہ اداروں کی سنگین غفلت اس حادثے کی وجہ بنی۔

پولیس نے ٹھیکیدار اور ڈی جے بی کے متعلقہ افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے، جبکہ تین ڈی جے بی انجینئرز کو معطل کر دیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید