• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ کو پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرینز کی یادداشت موصول ہوئی،اعلامیہ سپریم کورٹ

سپریم کورٹ: فائل فوٹو
سپریم کورٹ: فائل فوٹو 

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاج اور چیف جسٹس سے ملاقات پر سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بیان جاری کردیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرینز کی یادداشت موصول ہوئی، جس میں زیرِ حراست قائد تک رسائی سے متعلق تحفظات جمع کروائے گئے، یادداشت متعلقہ انتظامی حکام کو ارسال کر دی گئی ہے، سپریم کورٹ نے آئندہ ایسے معاملات کے لیے ایس او پیز جاری کر دیے ہیں۔

30 جنوری کو پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرینز کا سپریم کورٹ کے سامنے اجتماع تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی نمائندگان سے ملاقات کی، پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجا کو چیف جسٹس سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔

اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں زیرِ حراست پی ٹی آئی قائد تک اہلِ خانہ کی رسائی پر تحفظات پیش کیے گئے، پی ٹی آئی کے زیرِ حراست قائد تک طبی ماہرین کی رسائی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، معاملہ کسی زیرِ سماعت مقدمے سے متعلق نہیں تھا، تحفظات انتظامی نوعیت کے تھے، جو متعلقہ حکام کو ارسال کر دیے گئے، قانون کے مطابق مناسب غور و خوض کے لیے معاملہ متعلقہ حکام کو بھجوا دیا گیا، تحفظات ارسال ہونے کے بعد مجمع پُرامن طور پر منتشر ہوگیا تھا۔

سپریم کورٹ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایک ہفتے تک کسی باضابطہ جواب کا موصول نہ ہونے پر اپوزیشن قیادت نے 6 فروری کو دوبارہ رجوع کیا، قائدِ حزبِ اختلاف سینیٹ اور قومی اسمبلی بھی وفد میں شامل تھے، دستخط شدہ یادداشت رجسٹرار سپریم کورٹ نے باضابطہ وصول کی، زیرِ حراست پی ٹی آئی قائد تک رسائی کا معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا، طبی رپورٹس کی فراہمی سے متعلق تحفظات بھی شامل تھے، یادداشت متعلقہ انتظامی حکام کو دوبارہ ارسال کر دی گئی ہے۔

اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ نے آئندہ ایسے معاملات کے لیے ایس او پیز جاری کر دیے ہیں، متاثرہ فریقین سے رابطے کا باقاعدہ طریقۂ کار طے ہے، ایس او پیز میں ادارہ جاتی وقار کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے، عدالتی امور اور دیگر سائلین کے حقوق کے تحفظ کی ہدایت کی گئی ہے، رسائی، سہولت کاری اور ضروری سہولیات یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے، ہنگامی طبی سہولت کی فراہمی بھی ایس او پیز کا حصہ ہے، ایس او پیز سے طریقہ کار میں نظم و ضبط آئے گا۔

قومی خبریں سے مزید