• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوزیمپک اور ویگووی آنتوں کے کینسر کے خطرے میں کمی کیلئے مددگار، تحقیق

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ذیابیطس اور وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی GLP-1 ادویات، جس میں اوزیمپک اور ویگووی شامل ہیں، آنتوں (کولون) کے کینسر کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

تحقیق کے مطابق GLP-1 ریسیپٹر ایگونسٹس استعمال کرنے والے افراد میں آنتوں کے کینسر کا خطرہ 36 فیصد کم پایا گیا، جبکہ اس کے مقابلے میں اسپرین استعمال کرنے والوں میں یہ کمی کم دیکھی گئی۔

جن افراد میں آنتوں کے کینسر کی خاندانی یا ذاتی تاریخ موجود تھی، ان میں خطرے میں کمی کی شرح مزید زیادہ ہو کر تقریباً 42 فیصد تک پہنچ گئی۔

تحقیق کے مرکزی محقق یونیورسٹی آف ٹیکساس سان انتونیو کے ڈاکٹر کولٹن جونز کے مطابقGLP-1 ریسیپٹر ایگونسٹس جو اب ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہیں، میٹابولک کنٹرول کے ساتھ ساتھ کینسر سے بچاؤ کے لیے بھی ایک نسبتاً محفوظ آپشن ثابت ہو سکتی ہیں۔

اس تحقیق میں 2 لاکھ 81 ہزار سے زائد افراد کے طبی ریکارڈز کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے نصف افراد GLP-1 ادویات جیسے سیماگلوٹائیڈ (اوزیمپک، ویگووی) استعمال کر رہے تھے، جبکہ باقی افراد اسپرین لے رہے تھے، شرکا کی صحت کو پانچ سے چھ سال تک مانیٹر کیا گیا۔

ماہرین نے نشاندہی کی کہ اسپرین چونکہ خون کو پتلا کرنے والی دوا ہے، اس لیے اس کے استعمال سے خون بہنے جیسے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد میں گردوں کو نقصان یا معدے سے خون بہنے جیسے شدید مضر اثرات کم دیکھے گئے، تاہم پیٹ درد کی شکایات نسبتاً زیادہ رپورٹ ہوئیں۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اندازاً دو کروڑ امریکی پہلے ہی GLP-1 ادویات استعمال کر رہے ہیں، اس لیے آبادی کی سطح پر اس تحقیق کے اثرات خاصے نمایاں ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق فی الحال ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کے نتائج کی تصدیق کے لیے مزید کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے۔

یہ تحقیق امریکی شہر سان فرانسسکو میں ہونے والی امریکن سوسائٹی آف کلینیکل آنکولوجی کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید