• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیٹو ڈائٹ سے جگر کے کینسر کا خطرہ

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایک نئی سائنسی تحقیق میں مقبول کیٹو ڈائٹ پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں، تحقیق کے مطابق زیادہ چکنائی اور نہایت کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا، جو تیزی سے وزن کم کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے، وقت کے ساتھ جگر کے کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کیٹو ڈائٹ کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ بھوک کے بغیر وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم امریکی سائنس دانوں کی تازہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ طویل عرصے تک زیادہ چکنائی والی غذا جگر کے خلیات کی ساخت اور رویے میں بنیادی تبدیلیاں پیدا کر دیتی ہے۔

تحقیق میں وضاحت کی گئی ہے کہ بار بار چکنائی کے باعث پیدا ہونے والا دباؤ جگر کے خلیات کو ناپختہ حالت میں دھکیل دیتا ہے، اگرچہ یہ تبدیلی خلیات کو عارضی طور پر زندہ رہنے میں مدد دیتی ہے، لیکن مستقبل میں مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر، کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔

یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے Cell میں شائع ہوئی، جس میں چوہوں کو طویل عرصے تک زیادہ چکنائی والی غذا دی گئی، تحقیق کے اختتام پر تقریباً تمام چوہوں میں جگر کا کینسر پیدا ہو چکا تھا، سائنس دانوں نے خبردار کیا کہ اگر بعد میں ان تبدیل شدہ خلیات میں نقصان دہ جینیاتی تبدیلیاں آ جائیں تو کینسر کا امکان نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔

تحقیقی ٹیم نے مختلف جگر کی بیماریوں میں مبتلا انسانی مریضوں کے ڈیٹا کا بھی جائزہ لیا، جہاں اسی طرح کے رجحانات دیکھنے میں آئے، جگر کے معمول کے افعال سے متعلق جینز کمزور ہوتے گئے جبکہ خلیاتی بقاء سے جڑے جینز مضبوط ہوتے گئے، ایسے مریضوں میں کینسر کے بعد زندگی کی مدت نسبتاً کم دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق جو تبدیلیاں چوہوں میں ایک سال کے اندر ظاہر ہوئیں، وہ انسانوں میں عموماً 20 سال کے عرصے میں سامنے آتی ہیں، طرزِ زندگی کے عوامل جیسے شراب نوشی، وائرل انفیکشنز اور مجموعی صحت اس عمل کو تیز یا سست کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ عوامل جگر کے خلیات کو مزید ناپختہ حالت کی طرف دھکیلتے ہیں۔

محققین اب اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا متوازن اور صحت مند غذا یا جدید وزن کم کرنے کے طریقے جیسے GLP-1 انجیکشنز، ان اثرات کو واپس پلٹ سکتے ہیں یا نہیں۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا کہ جگر کی بیماریاں اب صرف عمر رسیدہ افراد یا زیادہ شراب نوشی کرنے والوں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ یہ تیزی سے نوجوان افراد کو بھی متاثر کر رہی ہیں، اکثر بغیر کسی واضح علامات کے۔

صحت کے ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وزن کم کرنے کے لیے کسی بھی ڈائٹ کو اپنانے سے قبل اس کے طویل مدتی اثرات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، کیونکہ وقتی فائدہ مستقبل میں صحت کے لیے بھاری قیمت کا سبب بن سکتا ہے۔


نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

صحت سے مزید