اجنبی……
گھر میں پرشور دعوت جاری تھی۔ اچانک کوئی دروازہ پیٹنے لگا۔
میں نے بھنا کر دروازہ کھولا، تو ایک خوش لباس اجنبی سامنے کھڑا تھا۔
جی فرمائیں؟ میں نے تلخی سے پوچھا۔
اُس نے نرمی سے کہا کہ میرے گھر میں ہونے والا شور
میرے ضعیف پڑوسیوں کو پریشان کر رہا ہے،
اور کچن سے اٹھتی لذیذ کھانوں کی مہک غریب پڑوسیوں کیلئے احساس کمتری کا باعث بن رہی ہے۔
میں آگ بگولا ہوگیا: آپ ہوتے کون ہیں یہ سب کہنے والے؟
اجنبی کی مسکراہٹ گہری ہوگئی: ’’دوست، میں تمہارا ضمیر ہوں،
اور دھیرے دھیرے مر رہا ہوں، البتہ تم مجھے بچا سکتے ہو۔‘‘
یہ کہہ کر اجنبی لوٹ گیا۔
مگر میں گزشتہ کئی گھنٹوں سے دروازے ہی پر کھڑا ہوں۔