• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذیابیطس کے مریض زیادہ کیویٹی کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟

فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایک حالیہ تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس اور دانتوں کی کیویٹی  کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان تعلق موجود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہائپر گلیسیمیا میں شوگر دانتوں پر کس طرح اثر ڈالتی ہے۔

جریدے مائیکروبائیوم میں شائع تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو دائمی طور پر ہائپرگلیسیمیا (خون میں شوگر کی زیادتی) میں مبتلا ہیں، دانتوں کی کیویٹی کے زیادہ خطرے میں رہتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد کے تھوک میں گلوکوز اور فرکٹوز جیسی اضافی شوگر کی مقدار زیادہ منتقل ہوتی ہے، یہ اضافی شوگر منہ کے بیکٹیریا کے ماحول کو تبدیل کر دیتی ہے، جس سے Streptococcus mutans جیسے کیویٹی پیدا کرنے والے بیکٹیریا کی نشوونما بڑھتی ہے، جبکہ فائدہ مند بیکٹیریا جیسے Streptococcus sanguinis کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

تحقیق ٹیم کے مطابق خون سے تھوک میں منتقل ہونے والی یہ شوگر کیویٹی پیدا کرنے والے بیکٹیریا کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر اکیتو ساناکانہ نے کہا کہ ذیابیطس کی دیکھ بھال میں منہ کی صحت کا انتظام بھی شامل ہونا چاہیے اور دانتوں کے ماہرین اور ذیابیطس کے ڈاکٹرز کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے۔

تحقیق میں یہ بھی زور دیا گیا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں کو معمول کے فالو اپ میں دانتوں کا معائنہ شامل کرنا چاہیے تاکہ منہ کی صحت برقرار رہے اور کیویٹی جیسے مسائل کم ہوں۔

نتائج سے یہ واضح ہوا کہ بلڈ شوگر پر قابو پانا ناصرف منہ کے امراض جیسے پیریوڈونٹل بیماری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے بلکہ دانتوں کی کیویٹی سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے، جس سے صحت اور زندگی کے معیار میں بہتری آ سکتی ہے۔

صحت سے مزید