• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ایک غیر قانونی فوجی مداخلت کی جیتی جاگتی تصویر ہے جسے 19 منٹ میں آدھی دنیا ختم کرنے کے دعویٰ دار امریکہ نے کھلے عام فوجی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ایک موجودہ قانونی سربراہ مملکت کو بغیر کسی تنازعہ یا قبضے کے ہٹایا لیکن وائٹ ہاؤس کے کہنے کے مطابق یہ اقدام کئی برسوں کی ناکام سفارتی کوششوں اور معاشی پابندیوں کے بعد عمل میں آیا ہے جن کا مقصد مادرو حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔ جس پر واشنگٹن بڑے پیمانے پر بدعنوانی ،منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتا آیا ہے صدر ٹرمپ نے حملے سے پہلے کانگریس کو نہ بتایا اور نہ ہی اجازت حاصل کی تھی حالیہ ہفتوں میں امریکی کانگرس نے ایوان میں بحث کی تھی جن کے لیے وینزویلا جیسے واقعات اور ان سے منسلک اہداف کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے ۔ٹرمپ نے کہا یہ کاروائی صدر کے آئینی اختیارات میں آتی ہے۔امریکہ نے مہینوں کے بڑھتے ہوئے فوجی اور معاشی دباؤ کے بعد ہفتے کے روز اپنے گھناؤنے مقصد میں کامیابی حاصل کر لی۔ امریکہ نے کہ ایک خطرناک فوجی کارروائی کے ذریعے جس میں وینز ویلا کے صدر نکولس مادورو اور اس کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو گرفتار کر لیا گیا اور انہیں مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے امریکہ بھیج دیا گیا۔ یہ آپریشن جسے خصوصی فوجی آپریشن قرار دیا گیا ہے اس میں واشنگٹن نے نار کو ٹیررازم اور جمہوری نظام اور نظم و ضبط کی بحالی کے الزامات کو جواز قرار دیا ہے۔ اس اقدام نےملکوں کی خود مختاری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔امریکہ نے تین جنوری 2026ء کی صبح وینزویلا میں صدر مادورو کو نشانہ بناتے ہوئے ایک خصوصی فوجی آپریشن شروع کیا۔ کاراکس کے رہائشی دھماکوں اور ہوائی جہازوں کی گھن گرج سے اچانک جاگ گئے۔ ادھر امریکہ کے صدر ٹرمپ کہہ رہے تھے کہ امریکی فوج نے وینزویلا پر بڑے پیمانے پر حملہ کر دیا ہے اور اس کے صدر اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کارروائی کے لیے امریکہ لے آئے ہیں۔ ان پر منشیات اور دہشت گردی کی سازش اور دیگر الزامات میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ وینزویلا کے ہیوگوشا ویز جو 1998 کے انتخابات میں وینزویلا کے صدر منتخب ہوئے تھے مارچ 2013 میں کینسر جیسے موذی مرض سے لڑتے ہوئے چل بسے تھے جن کے جانشین کے طور پر مادورو کو چُنا گیا۔ وینزویلا ایک ایسا ملک ہے جو معدنیات سے مالا مال ہے جس میں پٹرولیم، قدرتی گیس، آئرن، سونا، باکسائٹ اور دیگر معدنیات جن میں ہیرے کے ذخائر شامل ہیں۔ پھر بھی یہ ایک ایسا ملک ہے جس کی معیشت میںہائپر انفلیشن ریکارڈ کی گئی ہے۔ ملک کی مجموعی پیداواری شرح نمو3 فیصد رہی ہے جبکہ روزگار کی شرح 6فیصدہے ۔ وینز ویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر ہیں جو حالیہ حملے کا باعث سمجھے جاتے ہیں اس کے ذخائر 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق 305 ارب بیرل سے زیادہ ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔ 2023 تک ملک کا سب سے بڑا برآمدی شراکت دار امریکہ تھا جس کی ترسیل کا 50 فیصدسےزیادہ حصہ ملک کو بھیجا جاتا تھا اور اس کے علاوہ چین 10فیصد سپین 9فیصد برازیل 6فیصد اور ترکی 5فیصد تجارتی شراکت کار تھے ۔ وینزویلا اپنے ملک کی پانچ بڑی ایشیا پٹرولیم، پٹرولیم کوک، اسکریپ آئرن، الکوحل اور کھاد برآمد کرتا ہے۔ امریکہ نے 1917 تک وینزویلا کو توڑنے اور قبضہ کرنے کی ہر ممکن طریقے سے کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ٹرمپ کے مطابق امریکی فورسز نے ایک مختصر اور شدید آپریشن کیا۔ وینز ویلا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کاراکس سمیت کم از کم سات شہروں پر حملوں کی خبریں ملی ہیں جن میں مہرانڈا ،آراگوں اور لاگو برا پر حملے شامل ہیں فورٹ تیونا جو وینزویلا کا سب سے بڑا فوجی کمپلیکس ہے اور جنوبی کاراکس میں واقع ہے ان اہداف میں شامل تھا۔ یورپی اخبارات نے وینزویلا کے حوالے سے طاقت کے استعمال کے بین الاقوامی اصولوں پر دوبارہ بحث کو جنم دیا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے بغیر کسی موجودہ سربراہ مملکت کو حراست میں لے کر امریکہ نے اپنے قائم کیے مفروضات کو ایک بار پھر آزمایا ہے یہاں پھر سے امریکی مداخلتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے 2001 کا افغانستان یا2003 کا عراق یا 1911 کا لیبیا۔ مانا کہ ان ممالک میں مداخلت ملکی خانہ جنگی کے دوران سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے ہوئی جس میں شہری تحفظ کی اجازت دی گئی تھی لیکن وینزویلا تو خانہ جنگی کی حالت میں نہیں تھا پھر ایسا کیوں کر ہوا؟ کیا اس لیے تو نہیں کہ وینز ویلا ایک ایسا ملک ہے جو معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے۔ادھر کاراکس پر حملے نے بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے امریکی کارروائی سے چند گھنٹوں قبل وینزویلا کے صدر مادرو نے چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے بھیجے گئے ایک چینی وفد کی میزبانی کی تھی تاکہ دو طرفہ تعلقات کو بڑھاوا دیا جا سکے اور توانائی انفراسٹرکچر اور مالیت سے متعلق وسیع تعاون کے معاہدوں کا جائزہ لیا جا سکے۔ ادھر روس جو مادور و حکومت کا ایک اور اہم حمایتی ہے ، امریکی کارروائی کی مذمت میں ایک بیان جاری کیا ہے لیکن جوابی کارروائی کے اعلان کرنے سے گریز کیا ہے ۔ امریکہ نے اس حملے میںتیل و توانائی کی اصلاحات استعمال نہیں کیں اور منشیات و اسمگلنگ کو جواز بنایا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ جمہوریت دینے نہیں تیل لینے آیا ہے۔

تازہ ترین