• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ لوگ اختلاف رائے کے چیمپئن ہوتے ہیں چنانچہ وہ اختلاف رائے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتفاق تو سبھی کرتے ہیں کہ یہ بہت آسان کام ہے کیونکہ اس کے لئے دلائل تلاش کرنے کی مشقت نہیں اٹھانا پڑتی بس اوتھ کمشنر کی طرح دوسرے کی رائے پر مہر تصدیق ثبت کرنا ہوتی ہے جبکہ اختلاف کے لئے خاصی جان مارنا پڑتی ہے یہ کام اس وقت خصوصاً زیادہ مشکل ہو جاتا ہے جب اختلاف کا حق استعمال کرنے کے لئے دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرنا پڑے۔ یا یہ کام اس وقت مزید مشکل ہو جاتا ہے جب آپ دل میں تو مخالف کی رائے سے متفق ہوں مگر زبان سے اس کی تردید کرنا پڑے اور ہمارے ایک دوست اختلاف رائے کے واقعی چیمپئن ہیں کہ وہ دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔

یہ ’’سر توڑ کوشش ‘‘ اس طرح کہ اگر مخالف دلیل سے قائل نہ ہو تو وہ پیپر ویٹ بھی استعمال کرتے ہیں۔ چنانچہ بیشتر دوست نہ صرف یہ کہ ان کے اس حق اختلاف کو تسلیم کر چکے ہیں۔ بلکہ ان کے حق میں اپنے حق اختلاف سے بھی دستبردار ہو چکے ہیں۔

مگر انسان بہر حال بندہ بشر ہے۔ خطا کا پتلا ہے، غلطی تو ہو ہی جاتی ہے۔ یعنی وہ اختلاف نہ بھی کرنا چاہے تو خواہ مخواہ اختلاف کا پہلو نکل ہی آتا ہے۔ مثلاً ایک روز دوران گفتگو ہمارے اس دوست نے کہا ’’ معاشرے میں برائیاں دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہیں ! ‘‘ ہم نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا اور کہا۔ ’’ جناب آپ بالکل بجا فرماتے ہیں۔ معاشرے میں برائیاں واقعی بہت بڑھتی جا رہی ہیں۔ ‘‘اس پر انہوں نے پیپر ویٹ اٹھایا اور کہا ’’ معاف کرنا مجھے آپ سے شدید اختلاف ہے ‘‘ہم نے حیرت کے عالم میں ان کی طرف دیکھا اور پھر حیلے بہانے سے ان کے ہاتھوں سے پیپر ویٹ حاصل کرکے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ ’’جناب ہم نے تو آپ کی رائے کی تصدیق کی ہے، پھر آپ کو اختلاف کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔‘‘ فرمانےلگے ’’نہیں صاحب! آپ نے میری رائے سے اتفاق نہیں کیا میں نے کہا تھا کہ معاشرے میں برائیاں بڑھتی جا رہی ہیں، آپ نے کہا ہے کہ معاشرے میں برائیاں بہت بڑھتی جا رہی ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ برائیاں بہت نہیں بڑھ رہیں، بس بڑھ رہی ہیں، مجھے آپ سے اس مسئلے پر شدید اختلاف ہے‘‘۔ اختلاف کا حق استعمال کرنے کی یہ کوئی واحد مثال نہیں یا یوں کہہ لیں کہ صرف عام لوگ ہی اس نعمت سے بہرہ ور نہیں ہیں بلکہ راہنما بھی دل کھول کر اپنا یہ حق استعمال کرتے ہیں گزشتہ دنوں ایک راہنما نے اپنی تقریر میں اتفاق کی برکتوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ’’ اتفاق میں بڑی برکت ہے۔ اگر نحیف و نزار لوگ بھی اپنے طاقتور دشمن کے خلاف مٹھی کی طرح متحد ہو جائیں تو وہ اسے زیر کر سکتے ہیں چنانچہ ماضی قریب میں عوام کے اتحاد نے ایک دیو استبداد کو زیر کیا۔ آج بھی ہم اپنے اصولوں اور نظریات کی بالا دستی چاہتے ہیں تو ہمیں ایک بار پھر متحد ہونا ہو گا اور ایک امام کے سامنے اپنی صفیں باندھنا ہوں گی کہ قوم کے تمام ہم خیال طبقوں میں مکمل اتفاق و اتحاد کے بغیر ان اعلیٰ مقاصد کا حصول ممکن نہیں جس کے لئے قوم نے زبردست قربانیاں دی تھیں ‘‘۔ دروغ بر گردن راوی اس راہنما کے مخالف ایک اور راہنما نے اپنے مخالف کو نیچا دکھانے کے لئے اگلے روز تقریر کرتے ہوئے کہا ’’ اتفاق؟ کون کہتا ہے اتفاق میں برکت ہے یہ اتفاق انتہائی مہلک چیز ہے میں اس سلسلے میں بے شمار دلائل دے سکتا ہوں لیکن فی الحال صرف ایک مثال دوں گا اور وہ یہ کہ آپ سڑک پر جا رہے ہیں اور اتفاق سے کوئی ٹرک آپ پر چڑھ جاتا ہے، خدا نخواستہ لیکن اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ’’ اتفاق ‘‘ کس قدر خوفناک چیز ہے۔‘‘

تازہ ترین