شاہ زیب خانزادہ جیو کے پاپولر اور میرے پسندیدہ اینکر ہیں جو سوالات کی چوٹ سے مختلف النوع فتنوں کو توڑتے رہتے ہیں، پوری تیاری و محنت سے پروگرام کرتے ہیں حال ہی میں انہوں نے انجینئر محمد علی مرزا کیساتھ پروگرام کرتے ہوئے قانون توہین رسالت کی منفی عملداری کے حوالے سے کئی چشم کشا حقائق واضح فرمائے ہیں۔ انجینئر مرزا مذہبی حوالوں سے اسلام اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی بڑی خدمت کر رہے ہیں انکی صفوں میں موجود جنونی ذہنیت کیخلاف مدلل گفتگو کرتے ہوئے وسیع حلقوں تک اپنی آواز پہنچارہے ہیں۔ مدلل گفتگو فرماتے ہوئے وہ بعض اوقات خودنمائی و خودستائی تک چلے جاتے ہیں۔ اگرچہ انکا دعویٰ ہے کہ وہ لائلپور کے درویش صفت حضرت مولانا محمد اسحٰق کے تلمذ کا شرف رکھتے ہیں لیکن مولانا مرحوم تو بہت ہی سادگی کے ساتھ مرنجان مرنج انسان تھے اپنی بات بڑی عاجزی،متانت اور دلیل کیساتھ سامعین کو گوش گزار فرماتے جو دلوں ہی نہیں دماغوں پر بھی اثرانداز ہوتی۔ انجینئر مرزا سے بھی ہم توقع رکھتے ہیں کہ وہ مناظرانہ انداز کی بجائے مولانا اسحٰق اور مولانا وحیدالدین خاں جیسے بلند فکر علماء و اسکالرز کا اسلوب اپناتے ہوئے مذہب میں عاجزی، سادگی، بردباری، تحمل، متانت ، شعور و حکمت اور اس سے بڑھ کر انسان نوازی کے پہلوؤں کو اُجاگر فرمائیں گے۔ یقیناً وہ اس فرق کے حوالے سے پوری آگہی رکھتے ہیں جو ہمارے مذہب میں حقوق اور حقوق العباد سے متعلق ہے۔ ہمارے روایتی مذہبی طبقات سے جو کوتاہی ہوئی ہے اسکی جڑ یہی ہے کہ انہوں نے حقوق اللّٰہ کے فضائل اجاگر کرتے ہوئے حقوق العباد کی اہمت کو بڑی حد تک ڈاؤن کردیا ہے۔ جب آپ یہ فرماتے ہیں کہ ایک نماز پڑھنے کے بعداگلی نماز پڑھتے ہو تو اس دوران کیے گئے آپ کے سارے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں یا جب آپ حج کرکے لوٹتے ہو تو آپ کے گناہ اس طرح صاف کردیے جاتے ہیں جس طرح ایک نومولود بچہ ہو۔ ہمارے روایتی حضرات یہاں یہ وضاحت کرنا اکثر بھول جاتے ہیں کہ اس معافی سے مراد حقوق اللّٰہ کی معافی ہے، جہاں تک حقوق العباد کا معاملہ ہے انکی معافی تب تک ممکن نہیں ہے جب تک بلااکراہ خود وہ شخص معاف نہ کرے جس کے حقوق کا آپ نے استحصال کررکھا ہے۔
مرزاصاحب آپ نے خانزادہ صاحب کے ساتھ اس پروگرام میں یہ بھی فرمایا ہے کہ ہمارے مذہب میں تین بڑے گناہ ہیں شرک، قتل ناحق اور بدکاری۔ خدا نے فرمارکھا ہے کہ اگر کوئی صدقِ دل سے معافی کا خواستگار ہو تو خدا ان بڑے گناہوں کو بھی معاف فرمادے گا۔ ہماری نظر میں بلاسفیمی عوامی حقوق کا نہیں خالص اللّٰہ رسولؐ کے حقوق کا معاملہ ہے جو ہم سب دنیاداروں سے کہیں زیادہ پکڑ کرنے اور سزا دینے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے خدا نے جہنم کی دھکتی آگ تیار کررکھی ہے۔
انجینئر محمد علی مرزا کی یہ تجویز تمام اہل فکر کے لیے قابلِ غور و تدبر ہے وہ اس پر ضرور مکالمہ کروائیں اسی سے اس قانونی شق کا غلط استعمال روکا جاسکتا ہے کیونکہ اس قانونی شق کی آڑ لے کر یہاں کتنے بے گناہوں کی زندگیاں اجیرن بنائی جارہی ہیں اس حوالے سے انہوں نے اڈیالہ جیل کی چکیوں میں بند چند بے گناہوں کی مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں جن میں ایک شہباز بھٹی مرحوم کے بھائی پادری ظفر بھٹی کی مثال ہے۔ اس بدنصیب نے اپنی زندگی کے قیمتی تیرہ برس پیرانہ سالی کے باوجود جیل کی صعوبتوں میں کاٹے اور اس حال میں پہنچ گئے کہ جب رہا ہوئے تو تیسرے دن موت ہوگئی۔ اس پڑھے لکھے بزرگ انسان کی دلسوز کہانی سناتے ہوئے انجینئر مرزا نے بتایا کہ بلاسفیمی کے جھوٹے کیس میں جس جج نے انہیں سزا سنائی وہ جج خود اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر جیل میں انکے پاس معافی مانگنے آئے یہ کہتے ہوئے کہ میں مجبور تھا میں جتھے کے ہاتھوں اس قدر بے بس تھا کہ مجھے ایک بے گناہ بزرگ کو سزا سنانی پڑی۔انجینئر مرزا نے ایک بیس سالہ نوعمر لڑکی کی داستانِ غم سناتے ہوئے بیان کیا ہے کہ پب کھیلتے ہوئے ایک لڑکے کی جنسی ہوس کو انکار کرنے کی پاداش میں توہین مذہب کے کیس میں پھنسادی گئی یوں اپنی زندگی کے پانچ قیمتی برس اسے ناحق جیل کی چکی میں گزارنے پڑے۔ ایک نابینا قیدی جس کے پاس بٹنوں والا فون تھا ا س پر الزام لگا کہ اس نے اپنے فون سے توہین آمیز مواد شیئر کیا ہے اور سزا ہو گئی۔ اس نوع کی کتنی مثالیں ہیں۔ مذہب کے مقدس نام پر جذبات بھڑکانے والوں نے اس ایشو کو کس طرح باقاعدہ اپنا دھندہ یا بزنس بنارکھا ہے اس حوالے سے جیو کے معروف اینکر شاہ زیب خانزادہ کچھ عرصہ قبل اپنا ایک تفصیلی تحقیقی پروگرام پیش فرماچکے ہیں جس میں یہ مکروہ دھندہ کرنے والے مذہبی گروہ کے ساتھ ساتھ ان وکلاء کی تفصیلات بھی موجود تھیں جنہوں نے جعلی شہادتوں یا گواہیوں کے لیے ایک پورا گینگ رکھا ہوا تھا اور ایسے ہر مقدمے میں وہی مخصوص لوگ نہ صرف جعلی ایف آئی آرز کا اہتمام کرتے بلکہ سزا دلوانے یا مک مکا کرنے کیلئے وہی مخصوص لوگ سہولت کارشہادتی اور وکیل بنتے۔یہ ساری تفصیلات سامنے آنے کے بعد ریاستی ذمہ داری ہے کہ ایک باقاعدہ جوڈیشل کمیشن اس حوالے سے دیگر تمام تفصیلات اکٹھی کرتے ہوئے اس گھناؤنے فعل کے مرتکبین کوکیفرکردار تک پہنچایا جائے کہ آئندہ کوئی مذہب کا مفاداتی استعمال نہ کرسکے۔
یہاں کیسے کیسے انسانیت سوز واقعات روا رکھے گئے ہیں کس طرح بلاسفیمی کے نام پر ایک حاملہ مسیحی خاتون کو اس کے خاوند سمیت جلتی آگ کی بھٹی میں پھینک کرجلادیا گیا۔ وہ واقعہ تو سب کو یاد ہے جب سیالکوٹ میں سری لنکن بدنصیب کو کتنی اذیت اور بے دردی کے ساتھ مارا گیا اور پھر اس کی لاش کو بھی آگ میں جلایا گیا۔ گوجرانوالہ میں ایک حافظِ قرآن کو بلاسفیمی کے جھوٹے الزام میں گاڑی کے پیچھے رسے سے باندھ کر شہر کی سڑکوں پر گھسیٹتے ہوئے مارڈالا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ نہیں، ملزم کوئی اور تھا۔ ہمارے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کھلے بندوں اس نوع کے اعلانات کیے گئے کہ وہ توہین رسالت کے مرتکب ہوچکے ہیں جو سچا مسلمان انکا سر کاٹ کر لائے گا اسے اتنے کروڑ انعام دیاجائے گا۔ گورنر سلمان تاثیر کا گھناؤنا قتل کس قدر دردناک مثال ہے جن کی برسی حال ہی میں منائی گئی ۔
ناچیز یہاں پروفیسر جنید حفیظ کا ذکر کرنا اپنی اخلاقی و انسانی ذمہ داری سمجھتا ہے جو ایسے ہی ناحق کیس میں جیل کاٹ رہے ہیں ان کا کیریئر ہی نہیں جوانی بھی برباد کردی گئی ہے۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ایسے بے گناہوں کو پولیس کسٹڈی میں ہی کوئی پولیس والا پارکرتا پایا گیا، اب اگر ہمارے طاقتوروں یا مریم بی بی کو ادراک ہوا ہے تو شاید کچھ مثبت اقدامات کی توقع عبث نہ ہو۔