خیبر پختونخوا حکومت نے سیاسی دباؤ کے باعث منشیات کے قانون میں سرکاری ترامیم موخر کر دیں۔
مجوزہ ترامیم میں منشیات مقدمے میں سزائے موت کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر منشیات فروشوں سے تعلقات کے غلط الزام کے باعث مجوزہ بل واپس کردیا۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول کے پی نے مجوزہ ترمیمی ایکٹ تیار کیا تھا، مجوزہ ترامیم کابینہ کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی متفقہ سفارشات پر کی گئیں۔