امریکی صدر ٹرمپ اپنے حکم کی اطاعت نہ کرنے پر وینز ویلا کے صدر کے اغوا کو جتنا آسان سمجھ رہے تھے اور یہ بھی جو ان کا خیال تھا کہ وینزویلا اس خطرناک کارروائی کے بعد ان کا غلام بن کر رہ جائے گا ۔ وہ ان کی خام خیالی ثابت ہو رہی ہے اس آپریشن میں وینزویلا کے 100فوجی ہلاک کرنا پڑے جن میں کیوبا کے 32فوجی بھی شامل ہیں ۔ صدر نکولس کے محافظوں نے اپنی ذمہ داری اپنی جان پر کھیل کر نبھائی نئی منتخب عبوری صدر نے صدر نکولس کے حفاظتی دستوں کے سربراہ جنرل جیوبر مارکانو کو برطرف بھی کر دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی یہ بھی سوچ تھی کہ اب وینزویلا ان کے حکم کے تحت چلے گا۔ ان امیدوں پر بھی پانی پھر گیا ہے۔ امریکہ میں بھی سینٹ اور کانگریس اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں کہ کانگریس کی اجازت کے بغیر صدر نے اپنے طور پر کیسے ایک غیر ملک پر حملہ کر دیا۔
امریکی صدر اور ان کے حامیوں کا دنیا بھر میں خیال یہ بھی تھا کہ صدر نکولس کی دھاندلیوں، ظلم جبر سے نجات کیلئےوینزویلا میں مظاہرے شروع ہوں گے۔ ایسا نہیں ہو رہا ہے بی بی سی اور کچھ نشریاتی ادارے وینزویلا میں ایسے رد عمل کی تلاش میں ہیں چند افراد ایسا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ لیکن اجتماعی طور پر وینزویلا کے عوام ایک سکتے میں ہیں۔ سڑکوں پر مظاہرے امریکی حملے کے خلاف ہو رہے ہیں ۔
وینزویلا کی نومنتخب صدر نے چینی سفیر سے ملاقات کی ہے جس میں امریکی کارروائی کو گن بوٹ ڈپلومیسی یا مسلح سفارت کاری قرار دیا گیا ہے۔ خاتون صدر نے اسے غیر قانونی اغوا کہا ہے۔ البتہ نئی صدر کے حکم پر وینزویلا کی جیلوں سے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ایک اچھی خبر یہ بھی ہے کہ جنوبی امریکہ کے ملکوں برازیل میکسیکو اور شمالی امریکہ کے کینیڈا کے حکمرانوں نے ایک دوسرے سے رابطے کیے ہیں ۔ وینزویلا کی صورتحال پر جلد کوئی اجلاس بھی متوقع ہے۔ امریکی ریاست منی سوٹا میں ایک امیگریشن افسر کے ہاتھوں ایک 37 سالہ خاتون کے قتل کے بعد ریاست میں امریکی پولیس کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ آئس نامی قانون نافذ کرنیوالا ادارہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں پر عمل درآمد کیلئے قائم کیا گیا ہے۔ عوام محسوس کرتے ہیں کہ آئس نیم فوجی دستے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ قتل ہونیوالی خاتون رینی گڈ حال ہی میں اس ریاست میں منتقل ہوئی تھی اور اپنے چھ سالہ بیٹے کو اسکول چھوڑنے جا رہی تھی۔
جابر حکمرانوں کو یہ زعم ہوتا ہے کہ اپنے مخالفین کو اگر اقتدار سے محروم کرینگے۔ جیل میں ڈالیں گے ۔ان کے جرائم بیان کریں گے تو وہ اپنے عوام میں غیر مقبول ہوتے جائینگے مگر ماضی اور حال کی تاریخ کے اوراق اسکے برعکس شواہد پیش کرتے ہیں۔ امریکی جبر کے گزشتہ شکار بھی آج تک اپنے لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ مادورو بھی نہ صرف وینزیلا میں بلکہ دنیا بھر کے امریکہ مخالف حلقوں میں مقبول ہوتے جا رہے ہیں قد آور تو پہلے ہی تھے اب ان کی سیاسی اور سماجی قامت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ اپنے دوسرے عرصہ صدارت میں غیر مقبول ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگ ان کے پیش رو صدر کی غلط پالیسیوں اور کمزوریوں کو بھولتے جا رہے ہیں ۔ یہ تو تھا جنوبی امریکہ۔ اب آئیے جنوبی ایشیا کی طرف۔
آج اتوار ہے ۔اپنے بیٹے بیٹیوں ،پوتے پوتیوں ،نواسوں نواسیوں، بہوؤں دامادوں کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر بیٹھنے اور حالات حاضرہ پر تبادلہ خیال کا دن۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں ایسے تغیرات رونما ہو رہے ہیں کہ والدین کا تربیت اور پرورش کا فرض اور زیادہ للکار رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت نئی قیامتیں لے کر گھر گھر گھس بیٹھی ہے۔ ایسے ملکوں میں جہاں شرح خواندگی بہت کم ہو۔ مقامی حکومتیں با اختیار نہ ہوں۔ عدل کا نظام کمزور ہو۔ بااثر لو گ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہوں۔ وہاں ٹیکنالوجی کی طاقت اور مقامی مافیاؤں کی قوت میں تصادم اور زیادہ پریشانیاں پیدا کر دیتا ہے۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں جہاں ابھی تک اٹھارویں صدی کی جاگیرداری کا غلبہ ہے وہاں ایک اور قضیہ سر اٹھا رہا ہے کہ جاگیردار سردار اب نئے دور کے ٹھیکے داروں کے مقابلے میں کم سرمایہ اور کم رسوخ رکھتے ہیں۔ لیکن وہ اپنا روایتی غلبہ اسی طرح برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔اس لیے وہ طاقتور اداروں کے خوشامدی بن کر رہ جاتے ہیں لیکن ان کی اپنی اولادیں باغی ہو رہی ہیں ۔وہ امریکہ یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھ کر آرہے ہیں۔ جہاں روایتی جاگیروں گدیوں کا سحر ٹوٹ رہا ہے، ان گدیوں کو وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مراکز کہہ رہے ہیں۔ اندھی عقیدتوں کاافسوں ٹوٹ رہا ہے ۔دیہی علاقوں میں یہ ذہنی اور فکری کشمکش اس وقت زوروں پر ہے۔اس لیے طاقت کے مراکز بھی تبدیل ہو رہے ہیں ۔
یہ صورتحال ایک اہم بنیادی سماجی منطقی تاریخی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کا ایک قومی فریضہ بنتا ہے کہ وہ ان لمحات پر اپنی گرفت مضبوط کریں۔ اس تبدیلی کے مختلف پہلوؤں کا غیر جانبداری سے تجزیہ کریں ۔ ان کے اسباب پر تحقیق کریں اور ان کی بنا پر جو واقعات اور نتائج برآمد ہونے والے ہیں۔ان سے ہم وطنوں کو قبل از وقت آگاہ کریں۔ ساہیوال آرٹس کونسل میں پنجاب کی یونیورسٹیوں کے مختلف شعبوں کے اساتذہ نے ’’مصنوعی ذہانت حلیف یا حریف‘‘کے موضوع پر ایک روزہ کانفرنس میں سیر حاصل مقالے پڑھے۔ فیصل آباد مثال پبلشرز کے محمد عابد ہم وطنوں کو تازہ ترین صورتحال سے کتاب کی شکل میں باخبر رکھنے کیلئے بے تاب رہتے ہیں۔ ڈاکٹر حنا جمشید نے ان مقالات کو ڈاکٹر ریاض ہمدانی کے انتظام و انصرام میں 380 صفحات پر مشتمل ایک کتاب میں یکجا کر دیا ہے۔ساہیوال نے مستقبل کی دستک پر اپنا دروازہ کھول دیا ہے۔20دسمبر کو ہونیوالی اس کانفرنس کی روداد جنوری کے پہلے ہفتے میں کتابی شکل میں سامنے آگئی ہے تو یہ بہت اہم پیش رفت ہے۔ اسی اثنا میں الحمدللہ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے ’’پاکستان امکانات مشکلات اور حل پر‘‘ تین گھنٹے کی آن لائن انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کی۔ یہاں بھی پروفیسرز کی شرکت لائق تحسین تھی کھل کر باتیں ہوئی ہیں ،ڈاکٹر شیر علی سربراہ شعبہ اردو اس کے ناظم تھے۔ یونیورسٹیاں اگر اسی طرح اپنی قومی تدریس اور قومی تربیتی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں تویقیناً پاکستان ان مشکلات سے نکل سکتا ہے اور اس وقت جو تبدیلیاں ترامیم کی گئی ہیں، ان کے اثرات سے بھی پاکستان کا سماج آزاد ہو سکتا ہے۔ میں اس کیلئے پاکستان کے ابتدائی دس سال 1947ءسے 1957ءتک کے جوش جذبے سے رہنمائی حاصل کرتا ہوں ۔اس پر بات آئندہ کسی تحریر میں کریں گے، یہ دہائی ایک نو آزاد ملک کو مستحکم کرنے کا عزم لیے ہوئے تھی۔ بنگالی، سندھی، پنجابی، پشتون، بلوچ، سرائیکی، کشمیری مہاجر بھی ساتھ تھے۔ خالص سول حکمرانی تھی۔ اب پاکستان صدی 2047ءتک استحکام کے لیے اسی پہلی دہائی کے جذبے کی ضرورت ہے۔