کل میرے ایک عزیز دوست نے فون کیا، کہنے لگے بیٹی کا رشتہ آیا ہے، لڑکا بظاہر تو ٹھیک ٹھاک ہے، کھاتے پیتے گھرانے سے ہے، پڑھا لکھا ہے اور خود کو شریف بھی بتاتا ہے لیکن ’آپ ذرا اُس کا پتا تو کروا دیں۔‘ ایسے کام مجھے سخت اُلجھن میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ بندہ کیا ’پتا‘ کروائے؟ شاید یہ کہ کہیں لڑکے کا کیریکٹر تو نہیں ڈھیلا، مُجرا دیکھنے تو نہیں جاتا، شراب تو نہیں پیتا، لڑکیوں سے تعلقات تو نہیں! ظاہر ہے کہ یہ باتیں پتا نہیں کروائی جا سکتیں اِلّا یہ کہ آپ لڑکے کے تعاقب میں 24/7 سی آئی ڈی لگا دیں جو ایک مہینے میں اُس کا کچا چٹھا نکال کر رکھ دے اور اُس کے بعد چاہے وہ غریب لاکھ دہائی دیتا رہے کہ ’پیتا ہوں روزِ اَبر و شبِ ماہ تاب میں‘ مگر لڑکی کا باپ نہیں مانے گا۔ ویسے اِس ’چیک لِسٹ‘ کی رُو سے تو اسد اللّٰہ خاں غالبؔ بھی تمام عمر کنوارے ہی رہتے۔ تفنن برطرف، کیا شادی کرنے کیلئے جیون ساتھی کے بارے میں محض یہ دو چار باتیں جاننا کافی ہے؟ فرض کریں کہ لڑکا پانچ وقت کا نمازی ہو، سر پر ٹوپی اور چہرے پر شرعی داڑھی ہو تو کیا اِس وضع قطع کی بدولت وہ آپ کو اپنی بیٹی کیلئے قابل قبول ہو گا؟ جرائم کی بیسیوں خبریں روزانہ اخبارات میں شائع ہوتی ہیں اور یہ جرائم کرنے والے سیکولر بھی ہوتے ہیں اور مذہبی بھی، لہذا کس بندے کی ضمانت دی جائے اور کس کی نہیں، یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ مگر فیصلہ نہ کرنا بھی کوئی آپشن نہیں۔ مغربی معاشروں نے اِس مسئلے کا حل Live in Relationship کی صورت میں نکالا ہے۔ اردو میں اِس کا ترجمہ ہوگا: سو اُس کے ’گھر‘ میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔ نتیجہ اُس کا یہ ہے کہ لڑکیاں پندرہ سال کی عمر میں ماں بننے لگی ہیں اور لڑکوں کو ایک کے بعد ایک نئی لڑکی کیساتھ تعلقات بنانے کا معقول بہانہ مل گیا ہے۔ بس ایک جملہ ہی بولنا پڑتا ہے ’I am sorry it didn’t work out۔‘آجکل شادیوں کا موسم ہے، الحمدللّٰہ، یہ ایک ایسی صنعت ہے جسے اندیشہ زوال نہیں اور نہ مستقبل میں زوال آنے کا امکان ہے، لیکن اتنی بڑی صنعت بغیر رہنما اصولوں کے چل رہی ہے، یعنی شادیاں تو دھڑادھڑ ہو رہی ہیں مگر جوڑے زیادہ تر اَٹکل پچّو سے ہی بنائے جا رہے ہیں۔ دو خاندان ملتے ہیں، ایک دوسرے کا حسب و نسب، ذات پات دیکھتے ہیں، دولت و منصب کا اندازہ لگاتے ہیں اور اگر لڑکی ڈکوٹا جانسن اور لڑکا بریڈلے کوپر ہو تو شادی ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ خال خال ہی ہوتا ہے کہ لڑکا اور لڑکی آپس میں مل کر وہ باتیں طے کر لیں جو اُنکے مستقبل کے تعلقات کا تعین کرتی ہوں۔ لڑکے کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی میں گُن اصغری بیگم والے ہوں اور ادائیں وہ فلمی ہیروئن کی طرح دکھائے جبکہ لڑکی کہتی ہے کہ خاندان چھوٹا ہو، نند ایک سے زیادہ نہ ہو اور ساس قبر میں ہو تو زیادہ بہتر ہے۔ یہ تمام خواہشات اپنی جگہ جائز ہی ہوں گی مگر کیا شادی کرتے ہوئے (یا کوئی بھی تعلق بناتے ہوئے) ایک دوسرے کے بارے میں کچھ ایسی باتیں جاننا زیادہ ضروری نہیں جو آگے چل کر تعلق کو مضبوط یا کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہوں؟ ایسے ممکنہ سوالات کی فہرست بنائی جا سکتی ہے جو لڑکے لڑکی کو ایک دوسرے سے پوچھنے چاہئیں مگر اُس سے بھی پہلے جس بات کا خیال سب سے پہلے رکھنا چاہیے وہ کزن میرج ہے۔ جس اندھا دھند طریقے سے اپنے یہاں کزن کے ساتھ شادی ہوتی ہے اُسکی مثال ملنی مشکل ہے۔ سچ پوچھیں تو مجھے یہ بات ہی ہضم نہیں ہوتی کہ بیس سال تک جو شمائلہ اپنے تایا زاد کو ساجد بھائی کہتی رہی ہو وہ منگنی ہوتے ہی اپنا اسٹیٹس ’میری جِند جان‘ (مائی سویٹ ہارٹ) کیسے لگا لیتی ہے، اور یہی بات لڑکے پر بھی صادر ہوتی ہے۔ لیکن مسئلہ اِس سے آگے کا ہے۔ ایسی درجنوں تحقیقات ہو چکی ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ خاندان سے باہر شادی کرنے کے مقابلے میں کزن میرج سے جنم لینے والے بچوں میں ’ابنارمیلٹی‘ اور دیگر جنیاتی بیماریوں کی شرح کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اور ہم صرف کزن میرج پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ اُس کے بعد اُن بچوں کو پھر انہی کے چچا زاد اور پھوپھی زاد بھائی بہنوں سے بیاہ دیتے ہیں اور خوفناک بیماریوں کا روگ تمام عمر کیلئے پال لیتے ہیں۔ اِس کی جوابی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ فلاں کی بھی تو اپنے کزن سے شادی ہوئی اُس کے بچے تو ٹھیک ٹھاک ہیں، یہ تو خدا کے کام ہیں اُس میں بندہ بے بس ہے۔ یعنی کس قدر آسانی کے ساتھ ہم اپنے کیے ہوئے فیصلوں کو خدا کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں حالانکہ آج کے جدید دور میں ایسے طبی طریقے موجود ہیں جن کی مدد سے یہ پتا چلایا جا سکتا ہے کہ شادی کے بعد، چاہے کزن میرج ہو یا خاندان سے باہر، بچوں میں اِس قسم کی بیماریوں کا امکان کتنا ہوگا۔ لیکن یہ پتا کرنے کی بجائے ہم صرف یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ لڑکی والوں کی جائیداد کتنی ہے یا لڑکے کا ’کردار‘ ٹھیک ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ’پری میریٹل جینٹک اسکریننگ‘ (Pre-marital Genetic Screening) کو قانونی طور پر لازمی قرار دے دے اور نکاح اُس وقت تک موثر ہی نہ ہو جب تک چند ہزار روپے کا یہ ٹیسٹ نکاح نامے کے ساتھ لف نہ کیا جائے۔
کزن میرج کے علاوہ بھی کچھ ضروری باتیں ایسی ہیں جو اگر مناسب انداز میں پوچھ لی جائیں تو پچھتاوا قدرے کم ہو سکتا ہے۔ گوروں نے اِس کام کیلئے ایک بڑا اچھا لفظ ایجاد کیا ہے ’Red Flag‘ یعنی آپ کچھ ایسی حدود و قیود بنا لیں جن کی خلاف ورزی کی صورت میں آپ کے دماغ میں سرخ بتّی جل اٹھے اور آپ چوکنّے ہو جائیں۔ مثلاً عورتوں کو کمتر سمجھنے والا لڑکا ریڈ فلیگ ہے، اُس سے شادی نہ کریں ورنہ وہ آپ کی زندگی اجیرن کر دے گا، ایک چھوٹی سی نشانی اِس کی یہ ہے کہ وہ گھر کے کام کاج کو صرف عورت کی ذمہ داری سمجھتا ہو اور خود کو مغل شہزادہ۔ دوسری طرف اگر ایک لڑکی یہ سمجھتی ہو کہ شادی کے بعد اُس کا شوہر محض ’اے ٹی ایم‘ ہوگا جس کا کام صرف فرمائشیں پوری کرنا ہوگا، تو یہ بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ باقی رہی بات میرے اس عزیز دوست کی، تو میں نے اُسے کہہ دیا ہے کہ لڑکے کا تھانہ کچہری سے پتا کروانے کی بجائے کسی اچھے ڈاکٹر سے اُس کا بلڈ گروپ اور جینیاتی ٹیسٹ کروا لیں، کردار کا کیا ہے، وہ تو حالات کے ساتھ بدلتا رہتا ہے، مگر ڈی این اے (DNA) میں لکھی ہوئی تحریر کبھی نہیں بدلتی۔