ایک ایسے دَور میں کہ جب اسکرینز کی چکا چوند اکثروبیش ترمطبوعہ صفحات کی خاموش، مگر گہری طاقت کو پس منظر میں دھکیل دیتی ہے، جامعہ کراچی میں قائم ڈاکٹر محمود حسین لائبریری کی انتظامیہ نے نہایت وقار، اعتماد اور اثر انگیزی کے ساتھ کتاب کی لازوال اہمیت کو اُجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ کتاب کے احیاء اور ادبی بےداری کو فروغ دیا جا سکے۔
تعلیم و تحقیق، ادب، ثقافت اور تہذیب کی امین سمجھی جانےوالی یہ لائبریری اپنے وسیع، نادر اور بیش بہا علمی خزانے کی بدولت منفرد شناخت کی حامل ہے۔ 2025ء میں یہ پُرسکون خزانہ الماریوں کے خانوں سے نکل کر جِم رَون کے ان الفاظ کے ساتھ عوام سے ہم کلام ہوا کہ ’’اُن لوگوں کے لیے مطالعۂ کُتب لازمی ہے، جو عام افراد سے بلند ہونے کے لیے کوشاں ہیں۔‘‘ اور اس کا ذریعہ بنا ایک بامعنی اور متاثرکُن سلسلہ، جسے ’’بُکس آف دی منتھ‘‘ کا عنوان دیا گیا۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر محمود حسین لائبریری ہمیشہ ہی سے علم و دانش، تحقیق، ثقافت اور تہذیبی وَرثے کا مرکز رہی ہے۔ اس کی پہچان ایک ایسے ہمہ جہت اور ہمہ وقت تازہ رہنے والے کُتب خانے کے طور پر ہے کہ جس میں نادر مخطوطات، قیمتی آرکائیوز، منفرد تصانیف اور جدید علمی تحقیقات موجود ہیں۔ دہائیوں سے یہ علمی سرمایہ لائبریری کی چار دیواری میں محفوظ ہے، جس سے بالخصوص محقّقین اور طلبہ بھرپور استفادہ کر رہے ہیں۔
تاہم 2025ء میں لائبریری نےایک اہم قدم اُٹھاتے ہوئے اگست سے دسمبر تک ’’بُکس آف دی منتھ‘‘ کے عنوان سے ایک نیا سلسلہ شروع کیا اور اس خزانے کو براہِ راست عوام کے سامنے پیش کیا۔ ان پانچ ماہ کے دوران چھے نمایاں اور کام یاب پروگرامز منعقد ہوئے، جنہیں عوام کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی۔ ان پروگرامز میں جامعہ کراچی کے طلبہ، اساتذہ، محقّقین اور مہمانانِ گرامی کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جس سے لائبریری ایک متحرک اور فکری ثقافتی مرکز میں تبدیل ہوگئی۔
اس منفرد سلسلے کی بازگشت جب اخبارات، نیوز ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہر بَھر میں پھیلی، تو علم دوست طبقے کی جانب سے اس کی بھرپور پذیرائی کی گئی، جس کے سبب ڈاکٹر محمود حسین لائبریری کی انتظامیہ نے 2026ء میں بھی اس سلسلےکونہ صرف جاری رکھنے، بلکہ مزید وسعت دینےکا فیصلہ کیا، تاکہ ادبی احیا کو مزید مضبوط بنیادوں پر آگے بڑھایا جاسکے۔
’’بُکس آف دی مَنتھ‘‘ کے عنوان سے جاری اس پروگرام کا بنیادی مقصد ایک ایسے وقت میں کہ جب سماجی، تیکنیکی اور معاشی عوامل کے باعث کتاب سے فاصلہ بڑھتا جارہا ہے، بالخصوص نوجوان نسل کو مطالعے کی طرف راغب کرنا ہے۔ گزشتہ برس ہر مہینے موضوعات کا انتخاب قومی و ثقافتی مواقع، تاریخی حوالوں اور عوامی دِل چسپی کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا گیا، تاکہ لائبریری کے وسیع ذخیرے کو بامقصد اور دل کَش انداز میں پیش کیا جا سکے۔
اس دوران نایاب اورمنفرد کُتب، نئی اشاعتوں اور وہ قدیم یا نایاب ایڈیشنز، جو اب بازار میں دست یاب نہیں،عوام کےسامنے پیش کیے گئے، جس کے نتیجے میں شرکاء کی لائبریری کے غیرمعمولی وسائل سے آگہی بڑھی اوراُن کے مطالعے کے ذوق و شوق کو جِلا ملی۔
اس علمی و فکری سفر کا آغاز 2025ء میں یوم آزادیٔ پاکستان کےموقعے پر’’آزادی کاسفر‘‘ کے دل آویز عنوان کے تحت شان دار انداز میں ہوا۔ اس موقعے پر لائبریری کی انتظامیہ نے بانیٔ پاکستان، قائدِاعظم محمد علی جناحؒ کی بصیرت، برِصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی بے مثال جدوجہد اور کام یابی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پورے مہینے صُبح تا شام جاری رہنے والے اس پروگرام میں نادر کُتب، اخباری آرکائیوز، نقشے، پمفلٹس اور قائدِ اعظمؒ کے ذاتی کلیکشنز کے ذریعے پاکستان کی تاریخ کو زندۂ جاوید کردیا۔
اس دوران تحریکِ آزادی کے آرکائیوز اور قائدِاعظمؒ کی ذاتی کلیکشنز توجّہ کا مرکز بنے رہے، جب کہ دستاویزی فلموں اور تاریخی تصاویر نے اس تجربے کو مزید مؤثر بنا دیا۔ یاد رہے ،’’بُکس آف دی مَنتھ‘‘ نامی پروگرام کا آغاز وزیرِ اعلیٰ سندھ، سیّد مُراد علی شاہ کےاعلان کےتحت ہوا، جس کا افتتاح جامعہ کراچی کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کیا۔
اس موقعے پر اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد کی موجودگی نے تقریب کو رونق اور دل کشی بخشی، جب کہ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے اصل خطوط، ذاتی کُتب، نایاب تصاویر، 1930ء اور 1940ء کی دہائی کے اخباری تراشوں، آل انڈیا مسلم لیگ کے پمفلٹس و اعلانات، تقسیمِ ہند کے نقشوں، قراردادِ پاکستان 1940ء اور گول میز کانفرنسز کے ریکارڈ نے تاریخ کو ایک جیتی جاگتی حقیقت بنا دیا۔ علاوہ ازیں، قائدِ اعظم ؒکی تقاریر پر مشتمل ملٹی میڈیا پیش کش نےنمائش کومحض دیکھنےہی کا نہیں، بلکہ سیکھنے کا بھی بھرپور سفر بنایا۔
دوسرا عقیدت افروز پروگرام، گُل ہائے عقیدت کے ساتھ ماہِ ربیع الاوّل کی روحانی فضا میں منعقد ہوا، جس کا عنوان تھا، ’’رسولِ اکرمﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں علم، ایمان، رہنمائی اور عقیدت کےخزانے۔‘‘ربیع الاوّل کےپورے مہینے میں لائبریری کے مرکزی کائونٹر پر سیرت، حدیث اور نعتیہ ادب سے متعلق منتخب کُتب کی نمائش کی گئی۔
عربی، اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں دست یاب یہ ذخیرہ اسلامی علوم کی وسعت اور تنوّع کا آئینہ دار تھا۔ نمائش میں شبلی نعمانی کی شہرۂ آفاق تصنیف، سیرت النبیؐ، ڈاکٹراسراراحمدکی فکری تحریریں، مولانا طارق جمیل کے مضامین اور مولانا ولی رازی کی غیر منقوط تصنیف، ہادیٔ عالم ﷺ خصوصی توجّہ کا مرکزرہیں۔ اس موقعے پر حدیث و سُنّت کے علمی کاموں کے ساتھ نعتیہ شاعری کو بھی عقیدت و محبّت کے اعلیٰ ادبی اظہار کے طور پر نمایاں کیا گیا، جس کے نتیجے میں کُتب کی یہ نمائش علم کے ساتھ روحانی غورو فکر کا ذریعہ بھی ثابت ہوئی۔
ستمبر 2025ء میں عالمی یومِ سیّاحت کے موقعے پر سیرو سیّاحت کے موضوع پر لکھی گئی کُتب کی نمائش ’’کتابوں کے ذریعے دُنیا کی سیر‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد کی گئی، جس میں قارئین کو سرحد پار کی ثقافتوں سے رُوشناس کروایا گیا۔ اس موقعے پر نمائش کے شرکاء نے سفرناموں اور ثقافتی مطالعات کے ذریعے مختلف تہذیبوں، تاریخ، قدرتی مناظر اور معاشرتی روایات سے آشنائی حاصل کی اوراُن میں یہ احساس پیدا ہواکہ دُنیا کو سمجھنے کے لیے کتاب آج بھی سب سے بامعنی وسیلہ ہے۔ نومبر میں یہ سلسلہ فکری اور فلسفیانہ گہرائی کے ساتھ ’’اقبال اور فکر کی بے داری‘‘ کے عنوان سے آگے بڑھا۔
اس موقعے پر کُتب کی نمائش شاعرِ مشرق، علاّمہ محمد اقبال کے یومِ پیدائش کے حوالے سےمنعقد کی گئی۔ 5سے 30نومبر تک جاری رہنے والی اس نمائش میں علامہ اقبالؒ کی زندگی، شاعری اور فکر کو جامع اندازمیں پیش کیا گیا۔ اس نمائش میں اسرارِ خودی، بانگِ درا، جاوید نامہ اور تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلام سمیت اردو، فارسی اور انگریزی تصانیف کے علاوہ سوانحی اور تنقیدی مطالعات بھی شامل کیے گئے تھے۔ اس موقعے پر نایاب ایڈیشنز نے اہلِ علم کو اپنی جانب متوجّہ کیا اور مطالعے کے ذوق کے ساتھ اقبال کی فکر سے سنجیدہ وابستگی کو بھی تازہ کیا۔
دسمبر میں دو نہایت اہم پروگرامز منعقد ہوئے۔ اِن میں سے پہلے پروگرام کا عنوان ’’سندھی و اردو کُتب کے ذریعے ثقافتی بازگشت‘‘ تھا، جس میں دونوں زبانوں کے ادبی، تاریخی اور ثقافتی سرمائے کو اُجاگر کیا گیا۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سچل سرمست سے لے کر فیض احمد فیض اور سعادت حسن منٹو تک، کلاسیکی اور جدید ادب نے نمائش کے شرکاء کے درمیان مکالمے کی خُوب صُورت فضا قائم کی، جس کی بازگشت کافی دیر اور دُور تک پھیلی رہے گی۔
گزشتہ برس اس سلسلے کی آخری نمائش ’’ہم آہنگی اور اقلیتی حقوق پر جناح کے پیغامات‘‘ کے عنوان سے 22تا 31دسمبر 2025ء تک منعقد ہوئی۔ قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ پیدائش اور کرسمس کے موقعے پر منعقد ہونے والی اس تحقیق پر مبنی نمائش میں ایک جامع، جمہوری اور تکثیری وحدت کےحامل پاکستان کے تصوّر کو اجاگر کیا گیا۔ نایاب کُتب، خطوط، تقاریر، تصاویر اور آرکائیول ریکارڈ نے قائدِاعظمؒ کے مساوی شہریت، مذہبی آزادی اور قومی ہم آہنگی کے عزم کو نمایاں کیا، جب کہ رہنمائی پر مبنی دورے اور تعاملی گوشوں نے نمائش کو ایک بھرپور علمی و اخلاقی تجربہ بنادیا۔
2025ء کے اختتام تک ’’بُکس آف دی مَنتھ‘‘ نامی کُتب کی نمائش کا یہ سلسلہ محض نمائش تک محدود نہ رہا، بلکہ ایک علمی و فکری تحریک میں تبدیل ہوگیا، جس نے مطالعے کی عادت کو زندہ، جستجو کو بےدار اور ڈاکٹر محمود حسین لائبریری کے پُرسکون گوشۂ کُتب کو ایک متحرک عملی و ثقافتی مرکز میں تبدیل کر دیا۔
اس شان دار کام یابی اور پذیرائی کے بعد لائبریری 2026ء میں اس سلسلے کو مزید وسعت دینے کے لیے کوشاں ہے۔ بدلتے ہوئے دَور میں ایسے اقدامات اس حقیقت کی یاد دہانی کرواتے ہیں کہ کتاب آج بھی زندہ ہے اور جب لائبریری اپنے خزانےعوام کے لیے کھولتی ہے، تو کتاب کے احیاء، ادبی بےداری، فہم و فکر اور تعمیرو ترقّی کی راہیں روشن ہوجاتی ہیں۔
(مضمون نگار، جامعہ کراچی کی ڈاکٹر محمود حسین لائبریری میں بطور لائبریرین خدمات انجام دے رہی ہیں)