امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ سے زائد ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق منسوخ کیے گئے ویزوں میں 8 ہزار طلبہ اور 2 ہزار 500 خصوصی مہارت رکھنے والے کارکن شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ویزے امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مجرمانہ نوعیت کے معاملات کی وجہ سے منسوخ کیے گئے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان معاملات میں الزامات ثابت ہوئے یا نہیں۔
امریکی حکومت کے مطابق اب تک 25 لاکھ سے زائد افراد کو ملک چھوڑنے یا بے دخل کرنے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے جسے حکومت نے ایک ریکارڈ قرار دیا ہے تاہم بعض کیسز میں قانونی ویزا رکھنے والے افراد کی بےدخلی پر انسانی حقوق اور قانونی عمل سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ویزا منسوخی کی بڑی وجوہات میں ویزا مدت سے زیادہ قیام، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ، تشدد اور چوری شامل ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق 2024ء کے مقابلے میں 2025ء میں ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک نیا ’کنٹینئیوس ویٹنگ سینٹر‘ بھی قائم کیا ہے جس کا مقصد امریکا میں موجود غیر ملکیوں کی مسلسل نگرانی اور قانون کی خلاف ورزی پر فوری ویزا منسوخی ہے۔
ٹرمپ حکومت کی اس پالیسی سے متعلق ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی ناصرف مجرموں بلکہ عام اور سیاسی سرگرمیوں میں شامل افراد کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔
حالیہ مہینوں میں فلسطین کے حق میں مظاہروں میں شریک غیر ملکی طلبہ کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے، جس پر آزادی اظہار سے متعلق خدشات سامنے آئے ہیں۔
امیگریشن کارروائیوں کے دوران طاقت کے استعمال پر بھی ملک بھر میں غم و غصہ پایا جارہا ہے۔