وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عوام کو معیاری علاج معالجے کی فراہمی ترجیح ہے، ہمیں بیماریوں کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں ڈبلیو ایچ کی جانب سے گاڑیوں کی حوالگی کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیلتھ کئیر سسٹم بہت سے مسائل کا شکار ہے، صحت کے شعبے پر دباؤ کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت ہے، صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کررہے ہیں، ہمیں نکاسی آب کے نظام سے لے کر صفائی کے دیگر امور کا مکمل خیال رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگوانا ضروری ہے، علاج معالجے سے زیادہ بہتر لوگوں کو بیماریوں سے بچانا ہے، انسداد پولیو پروگرام پولیو کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال اور صحت کی سہولتیں دینا پھر مریضوں کا انتظار کرنا ہمارا وژن نہیں، ہمارا مشن ہے کہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچائیں، ایک وقت میں بہت زیادہ لوگ بیمار پڑنے لگیں تو ہیلتھ انفرااسٹرکچر بیٹھ جاتا ہے، کورونا اس کی مثال ہے، امریکا جیسا ملک بھی کووڈ کو سنبھال نہیں سکا۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ہمیں بڑھتی آبادی کو کنٹرول کرنے کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ 62 لاکھ بچے ہر سال پیدا ہو رہے ہیں، بچے کی پیدائش سے افزائش تک ہمارا ایکو سسٹم آئیڈیل نہیں ہے، ہمارا ایکو سسٹم، پانی آب و ہوا مریض بنانے کی فیکٹری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نتیجہ یہ ہے کہ اسپتال جائیں تو لگتا ہے سیاسی جلسہ ہو رہا ہے، مریضوں کا ریلہ ہے جو آ رہا ہے اور جارہا ہے، ایک ڈاکٹر یومیہ 40 مریض دیکھ رہا ہے، لوگ روزانہ فون کرتے ہیں کہ وینٹی لیٹر نہیں مل رہا، یہ نیشنل سیکیورٹی ایشو بن گیا ہے۔
تقریب سے خطاب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی ادارے کی فراہم کردہ گاڑیاں دور دراز علاقوں میں استعمال کی جائیں گی۔