29 جنوری کو بنگلہ دیش ایئرلائنز’’ بیمان‘‘ کا طیارہ ڈھاکہ سے مسافروں کو لیکر جب کراچی ایئر پورٹ پر اترے گا تو یہ دونوں ملکوں کے عوامی سطح پر رابطے کا ایک نیا دور ہوگا۔ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان براہ راست فضائی سفرکی یہ سہولت 14 برس بعد بحال ہونے جارہی ہے جس کے تحت ہفتے میں دو پروازیں چلائی جائیں گی۔ بنگلہ دیشی بھائیوں کی آمد اور یہاں سے ڈھاکہ جانے والوں کے براہ راست سفر کا یہ سلسلہ برسوں سے بچھڑے ایک دوسرے کے عزیزوں کے میل ملاپ کا وسیلہ بھی ہوگا، تجارت وسیاحت کا ذریعہ بھی بنے گا اور باہمی احترام وتعاون سے ترقی کے لئے مشترکہ جدوجہد کی عوامی سطح پر بحالی کی نئی جہت کہلا سکے گا۔
بنگلہ دیشی طلبا کی قیادت میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کے زوال اور بھارت فرار ہونے کے بعد اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان حکومتی اور فوجی سطحوں پررابطے کے نتیجے میں یہ پیش رفت ممکن ہوسکی۔ پاک بنگلہ دیش تعلقات میں دہائیوں سے نظر آنے والی دراڑوں کے پس منظر میں جہاں کئی ناخوشگوار کیفیات کےدیانت دارانہ تجزیوں کی ضرورت برقرار ہے وہاں عوامی سطح پر بہت سی خوشگوار یادوں کا اعادہ نئے رابطوں کی صورت گری کرے گا۔ یہ یادیں موجودہ پاکستان اور آج کے بنگلہ دیش میں چپے چپے پر موجود ہیں۔ ہمارے بنگالی بھائی جب کراچی میں قائد اعظم کے مزارپر جائیں گے تو انہیں اس کےاحاطے میں قائد ملت لیاقت علی خان، مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے علاوہ مشرقی بنگال کےاہم لیڈر نورلامین کی ابدی آرام گاہ بھی نظر آئے گی جنہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی سرزمین پر گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بنگلہ دیش سےآنے والے ہمارے بھائی یہاں محمود علی، خواجہ شہاب الدین اور کئی دیگر رہنماؤں کی آخری آرام گاہوں پر جائیں گے تو انہیں الفت ومحبت کی خاص کیفیت کا احساس ہوگا۔ خواجہ ناظم الدین کے نام پر بنی ایک سے زیادہ بستیاں دیکھ کر اندازہ ہوجائے گا کہ مشرقی بنگال کے اس سپوت سے یہاں کے لوگ کتنی محبت کرتے ہیں۔ خواجہ ناظم الدین قائد اعظم محمد علی جناح کے انتقال کے بعد پاکستان کے گورنر جنرل اوربعد ازاں قائد ملت لیاقت علی خاں کی شہادت کے بعدوزیر اعظم بنے۔ حسین شہید سہروردی، محمد علی بوگرہ سمیت متعدد شخصیات کی یادیں بھی یہاں آکر تازہ ہوجائیں گی۔
ہمارے بنگلہ دیشی بھائی لاہور جائیں گے تو وہاں اس جگہ کا مشاہدہ کریں گے جو پہلے منٹو پارک کہلاتا تھااور آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے معروف ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں 23مارچ1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کنونشن میں شیر بنگال کہلانے والے لیڈرمولوی فضل الحق کی پیش کردہ وہ قرارداد منظور ہوئی جس میں برصغیر کے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا گیاتھا۔
پچھلے مہینے ڈھاکہ یونیورسٹی میں قائد اعظم کے یوم پیدائش پر منعقدہ تقریب میں شریک دانشوروں نے درست طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو مشرقی بنگال کے مسلمانوں کو بھی اسی کیفیت سے دوچار ہونا پڑتا جس سے آج کشمیری عوام دوچار ہیں۔ مسلمانوں کی علیحدہ ریاست بنی تو مشرقی بنگال خود بخود اس کے حصے کے طور پر ہندو توا بالا دستی کے خطرے سے باہر نکل آیا۔ کراچی اور ڈھاکہ سے آنے جانے والی فضائی پروازیں ایسی بہت سی یادوں کو تازہ کرنے کا ذریعہ بنیں گی۔ مگر ان پر وازوں کی عدم موجودگی کے دوران بھی حج، عمرہ، زیارتوں اور تبلیغی اجتماعات کے مواقع پر پاکستان اور بنگلہ دیش کے لوگ جب بھی ملے ان میں ایک خاص محبت اور الفت کی کیفیت نظر آئی۔ اب شیخ حسینہ کی آمرانہ حکومت کے خاتمے کے بعد ڈھاکہ اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات میں نئی گرمجوشی پیدا ہوئی ہے تو تجارتی تعلقات میں اضافے کے ایسے امکانات نمایاں ہوئے ہیں جو دونوں ملکوں کے عوام کے مفاد میں ہیں۔ بنگلہ دیشی فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل حسن محمود خان کے حالیہ دورہ پاکستان اور دفاعی سطح پر ہونے والی ملاقاتیں محض رسمی سرگرمیاں نہیں بلکہ اس بات کا عملی اظہار ہیں کہ دونوں ممالک اب تعلقات کو ایک نئے زاؤیے سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے جے ایف ۔17 تھنڈر طیارے میں دلچسپی نے اس تاثر کو مضبوط کیاکہ دفاعی تعاون مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مذکورہ طیارے کی افادیت اب زبانی یا کاغذی دعویٰ نہیں رہی۔ اس طیارے کی کارکردگی ، کم لاگت اور آپر یشنل صلاحیت نے اسے ان ممالک کے لئے پر کشش بنادیا ہے جو جدیدمگر مالی اعتبار سےقابل برداشت دفاعی حل تلاش کررہے ہیں۔ علاقائی سطح پر پاکستان کے دفاعی روابط کا پھیلاؤ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے گہرے دفاعی تعلقات مشترکہ تزویراتی فہم اور اعلیٰ سطحی عسکری رابطے کےعکاس ہیں اس امر کے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم اور قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش کے اندرونی سیاسی حالات میں آنے والی تبدیلی کے بعد یہ احساس نمایاں ہے کہ ماضی میں الجھے رہنے کی بجائے مستقبل کے امکانات پر توجہ دینا زیادہ بہتر ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام کے درمیان موجود ثقافتی، سماجی اور تاریخی تعلق سیاست اور طاقت کی کشمکش کا دباؤ ہٹتے ہی فطری طور پر واپس آچکا ہے۔ پاک بنگلہ دیش تعلقات اب ایسے موڑ پر نظر آرہے ہیں جہاں ماضی کو تسلیم کرکے، اس سے سبق سیکھ کر مستقبل کی طرف بڑھا جاسکتا ہے۔ دفاعی تعاون اس سفر کا نقطہ آغاز بن رہا ہے جبکہ تجارت اور عوامی روابط اس کو پائیدار شکل دے سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش پاکستان کیلئے جنوب مشرقی ایشیا تک رسائی کا دروازہ فراہم کرتا ہے جبکہ پاکستان بنگلہ دیش کیلئے وسطی ایشیا،مشرق وسطیٰ اور افریقہ تک رسائی کا دروازہ بن سکتا ہے۔ دونوں ممالک بحر ہند میں اپنی تزویراتی حیثیت استعمال کرتے ہوئے نہ صرف تجارتی مفادات کو وسعت دے سکتے ہیں بلکہ اپنے متوسط طبقےکے لوگوں کو باہمی سرمایہ کاری کا موقع دے کر خوراک کی قلت سمیت کئی خدشات کاسدباب کرسکتے ہیں۔