گرین لینڈ کے وزیرِ اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے کہا ہے کہ گرین لینڈ امریکا کے بجائے ڈنمارک کے ساتھ رہنے کو ترجیح دے گا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردِ عمل آیا ہے جہاں انہوں نے کہا ہے کہ یہ ایک بڑا مسئلہ بنے گا۔
ڈنمارک کے وزیرِ اعظم میٹے فریڈرکسن کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جینس فریڈرک نیلسن نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کو ضم کرنے کی دھمکیاں ’بالکل نامناسب‘ ہیں جبکہ صورتحال ’انتہائی سنگین‘ ہے، اگر امریکا اور ڈنمارک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو گرین لینڈ ڈنمارک کے ساتھ رہنے کو ترجیح دے گا۔
جینس نیلسن نے مزید کہا کہ اگر ہمیں اس وقت امریکا اور ڈنمارک میں سے انتخاب کرنا پڑے تو ہم ڈنمارک کا انتخاب کریں گے، ہم اسی گرین لینڈ کو منتخب کرتے ہیں جو آج مملکتِ ڈنمارک کا حصہ ہے۔
گرین لینڈ کے وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈنمارک اور گرین لینڈ کے وزرائے خارجہ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔
ان مذاکرات کا مقصد گرین لینڈ سے متعلق امریکا کی حالیہ دھمکیوں کو کم کرنا اور تعلقات میں بہتری لانا ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش کا ایک بار پھر اظہار کرتے ہوئے عندیہ دیا تھا کہ امریکا اقتصادی یا فوجی ذرائع استعمال کر سکتا ہے۔
دوسری جانب گرین لینڈ کے وزیر اعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’یہ ان کا مسئلہ ہے۔ میں ان سے اتفاق نہیں کرتا۔ میں انہیں نہیں جانتا لیکن یہ ان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنے گا۔‘
واضح رہے کہ گرین لینڈ کی آبادی تقریباً 57 ہزار ہے، عوامی سرویز کے مطابق گرین لینڈ کے عوام کی بڑی اکثریت امریکا میں شامل ہونے کے خلاف ہے۔