• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہر قائد کے بہت سے لوگوں نے اپنے صوبے کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو اتنے قریب سے نہیں دیکھا ہوگا جتنے نزدیک سے انہوں نے اس ہفتے خیبر پختونخوا کےجواں سال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو دیکھا 'سنا، مہربان مسکراہٹ آنکھوں میں دلکش چمک۔ اپنے صوبے سے باہر نکل کر دوسرے صوبوں میں اپنی پارٹی کے بانی کے پیغام کو پہنچانا سیاسی پابندیوں کے دور میں ہمت کا کام ہے۔ اپنی جگہ یہ تنقید بھی درست ہے کہ اپنے صوبے میں محرومیاں مشکلات دور کرنا ایک وزیراعلیٰ کا اولین فریضہ ہوتا ہے۔ پہلے اس سے فارغ ہوں پھر وہ دوسرے صوبوں کا رخ کریں تو اچھا لگتا ہے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ سہیل آفریدی کے ایسے جارحانہ رویوں نے پارٹی کو ایک نئی زندگی دیدی ہے۔ ایک پیاس، ایک بےچینی ہر صوبے کے ہر شہر میں ہے۔ ریاست اور اکثریتی عوام میں وفاقی حکومت اور وفاق میں صوبائی حکومتوں اور صوبوں کے لوگوں کے درمیان بڑے فاصلے ہیں۔

سہیل آفریدی کے دوروں میں نوجوان جس تعداد میں شامل ہوتے ہیں۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ان ریلیوں کے ذریعے یہ پیاس کسی حد تک بجھ جاتی ہوگی۔ ہم جیسے اگلے وقتوں کے لوگ قیام پاکستان سے دیکھتے آ رہے ہیں کہ حکمرانوں نے عوام کو قریب لانے کی بجائے ایسے ایسے شعوری تجربے کئے ہیں کہ عوام اور خواص ایک دوسرے سے دور رہیں۔ کبھی صوبے ختم کر کے ون یونٹ کا تجربہ، بڑی آبادی اور کم آبادی میں برابری یعنی پیرٹی کا فارمولہ۔ پھر چار بار فوجی حکمرانوں کی خود نظم و نسق سنبھالنے کی مشقیں۔ 1985ء سے شراکت اقتدار کی آزمائشیں اور آج کل آئینی طور پر ایک صفحے پر رہنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن معاف کیجئے حقائق بہت تلخ ہیں۔

غربت کی لکیر سے نیچے ہجوم بڑھ رہا ہے۔ غریب اکثریت پر قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ ہو رہا ہے۔ ماہرین معیشت تو ان دونوں امور کو ترجیح دینا چاہتے ہیں کہ ریاست کو استحکام غربت کم کرنے قرضوں کا بار گھٹانے سے ہی مل سکتا ہے۔ عام آدمی تک اصلاحات کا ثمر اسی صورت پہنچ سکتا ہے۔لیکن حکومت کی ترجیحات کچھ اور ہی ہیں....ہم بہادر آباد میں عالمگیر مسجد کے سامنے والی گلی میں صبح سویرے موجود ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے طالب علمی کے زمانے میں یونین کے صدر سلطان چاولہ کے سالانہ ناشتے میں۔ درد مند پاکستانی اچھی روایات قائم کرتے ہیں سال کے سال صبح صبح دو تین گھنٹے تاجر، صنعت کار،اعلیٰ سرکاری افسر، ریٹائرڈ جنرل، ریٹائرڈ بیوروکریٹ یکجا ہوتے ہیں۔21ویں صدی کے پہلے مہینے میں بیسویں صدی کے چہرے جگمگاتے ہیں ۔محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان خاص طور پر اسلام آباد سے اس ناشتے میں شریک ہونے آتے تھے ۔ان کے ساتھ عبدالحسیب خان بھی نظر آتے تھے۔ناشتے کے شرکا ان کی گفتگو سننے کیلئے ان کے آس پاس کھڑے ہو جاتے تھے۔عبدالحسیب خان آج کل قران پاک کی تعلیمات کو آسان زبان میں خوبصورت کتابوں میں محفوظ کر رہے ہیں ۔ ناشتے میں انکی کمی محسوس ہو رہی ہے۔

سردار یاسین ملک بھی دکھائی نہیں دیتے جنہوں نے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں گراں قدرعطیات سے تحقیق گاہیں قائم کی ہیں۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر موجود ہیں۔ ان کی خود نوشت جلد ہی منظر عام پر آنیوالی ہے۔ انکے سینے میں بہت سے سیاسی 'غیر سیاسی، فوجی، غیر فوجی راز موجود ہیں۔عارف حبیب صاحب مبارکبادیں وصول کر رہے ہیں کہ وہ قومی ایئر لائن پی آئی اے کو پھر بلندیوں پر لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بعض حضرات یہاں یہ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے چیئرمین سلطان چاولہ کی دعوت پر آئے ہیں تو کیا یہ کنسورشیم پاکستان کی جہاز رانی کی صنعت میں بھی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر خالد عراقی بھی نظر آرہے ہیں۔

ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر قاسم پیرزادہ، عابد اظہر ہیں ۔ 'سابق گورنر اسٹیٹ بینک جناب عشرت حسین بھی توجہ کا مرکز ہیں۔پاکستان کیلئے انکی فکر مندی انکی تصنیفات سے جھلکتی ہے۔وہ پاکستان کو ہمیشہ ایک مستحکم خوشحال اور عوام دوست ریاست دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ گورنر سندھ کے والد اختر ٹیسوری بھی اپنی مسکراہٹ کے ساتھ مل رہے ہیں۔ ممتاز دانشور مصنف جاوید جبار ایک گوشے میں مستقبل کے حقائق سے آگاہ کر رہے ہیں۔ اشتیاق بیگ، مرزا اختیار بیگ، شجاعت علی بیگ،ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین نعیم شریف بھی شریک ناشتہ ہیں۔ اس ناشتے میں ہر سال ہمیں وہ خاندان بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے پہلے دس سال میں بینکوں،انشورنس کمپنیوں، ٹیکسٹائل ملوں، 'ٹریول سیکٹر، ہوٹل کی صنعت اور فوڈ انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی۔کچھ خاندانوں کی چار نسلیں بھی یہاں موجود ہیں۔ کچھ وہیل چیئر پر آ رہے ہیں۔ کچھ لاٹھی ٹیکتے۔ ڈالڈا کے چیئرمین بشیر جان محمد جو ملائشیا کے مفکر وزیراعظم مہاتیر محمد کی حکمت عملی کے رازدان رہے ہیں۔ جمیل یوسف صاحب کی بھی شہرکیلئے بہت خدمات ہیں۔ اس ناشتے میں ماہرین تعلیم، رفاہی اداروں کے سربراہ بھی ہوتے ہیں۔ علماء کرام بھی لکھنے والے بھی۔ سب رنگ کے شکیل عادل زادہ بھی نظر آرہے ہیں۔ اعزازی سفارت کاروں کے ساتھ ساتھ کچھ غیر ملکی مہمان بھی ہیں ۔کمی ہے تو ٹک ٹاکرز وی لاگرز اور اینکر پرسنز کی اور خاص طور پر نو دولتیوں کی۔

ایسی دعوتیں ماضی حال اور مستقبل کو یکجا کر دیتی ہیں۔یہی ان کا حسن ہے۔ سلطان چاولہ عمر بھر بہت متحرک اور فعال رہے ہیں۔ پاکستان کی سینئر ترین خاتون صحافی، ناول نگار’’ اخبار جہاں‘‘ میں ’’تین عورتیں تین کہانیاں‘‘ والی سعیدہ افضل ماہنامہ ’’اطراف‘‘میں اپنی خود نوشت’’ عمر کا سورج‘‘ میں اس وقت 60 کی دہائی کے روشن پاکستان کی یادیں بکھیر رہی ہیں۔ اس میں سلطان چاولہ صاحب کے کراچی یونیورسٹی یونین کے صدر کے انتخاب کے مناظر بھی بیان کیے ہیں ۔جب یونیورسٹیوں میں مستقبل کی قیادتیں پرورش پاتی تھی۔ یونینوں پر پابندی نہیں تھی۔

ناشتے کے شرکا کی غیر رسمی گفتگو میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سفارتی جارحیت کا ذکر تو ناگزیر تھا۔ پاک امریکہ تعلقات کے مختلف ادوار میں امریکہ نے پاکستان کو کس کس مرحلے پر نظر انداز کیا۔ اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے کیسے کیسے فریب دئیے۔ناشتے کے شرکا سے تو میں نےمتعارف کروا دیا۔صنعتکاروں اور سرمایہ داروں کی نئی نسلیں بھی یہاں موجود ہیں مگر ان میں اور ہمارے درمیان کئی دہائیوں کا فاصلہ ہے۔ اس لیے ان سے تعارف نہیں ہے۔ آپ کو ناشتے کا مینیو بتا کر اپ سے اجازت چاہوں گا۔ بیف بونگ نہاری، 'مغز، آلو ترکاری :چنا ترکاری، خستہ کچوری، 'تندوری روٹی، پوری، سوجی حلوہ 'گاجر حلوہ، لوکی حلوہ، دہی، شہد، لسی بلونے کا خاص انتظام، بہت شکریہ ۔اب یہ ناشتہ ایک سال بعد ملے گا۔

تازہ ترین